تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     27-10-2026

غلامی کی ایک نئی شکل

پرانے وقتوں میں انسانوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں‘ ان کی باقاعدہ بولیاں لگائی جاتی تھیں۔ ان منڈیوں سے غلام خرید کر ان سے ساری زندگی کام کرایا جاتا تھا‘ ان کا استحصال کیا جاتا تھا‘ اور ایک وقت آتا کہ جب کام کرتے کرتے وہ لقمۂ اجل بن جاتے تھے۔ اس غلامی کی بہت سی صورتیں تھیں۔ سب سے پہلے بازار میں بکنے والے غلام تھے‘ جو زیادہ تر اپنی غربت کی وجہ سے بکتے تھے۔ پھر جنگی قیدی تھے‘ جو جنگ ہارنے کی صورت میں فاتح قوم کے غلام بن جاتے تھے۔ ان غلاموں میں جنگوں میں حصہ لینے والے سپاہی‘ بوڑھے‘ بچے‘ جوان اور خواتین‘ سبھی شامل ہوتے تھے۔ قرض واپس نہ کرنے پر بھی غلامی میں جانا پڑتا تھا۔ غلاموں کی ایک قسم پیدائشی غلام بھی تھے‘ یہ اُن لوگوں کی اولاد ہوتے تھے جو اُن کی پیدائش سے قبل ہی غلامی میں ہوتے تھے۔ان غلاموں سے کھیتوں میں کام کرایا جاتا اور انہیں کوئی معاوضہ اور چھٹی بھی نہیں ملتی تھی۔ اسی طرح غلاموں سے جسم فروشی کروا کر بھی ان کا استحصال کیا جاتا تھا۔ کچھ لوگ غلاموں کی تجارت کرتے تھے اور جہازوں میں بھر بھر کر غلاموں کو دوسرے علاقوں میں بیچ دیتے تھے۔آہستہ آہستہ دنیا بھر میں غلامی کے خلاف تحریکیں شروع ہوئیں۔ 1787ء میں لندن میں غلاموں کی تجارت کو ختم کرنے کیلئے ایک سوسائٹی بنائی گئی۔ ولیم ولبرفورس نے 20 سال تک غلامی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کی۔ آخر کار 1807ء میں برطانیہ نے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگادی‘ اور پھر 1833ء میں تمام برطانوی کالونیوں میں غلامی ختم کر دی گئی۔
امریکہ کی طرف دیکھیں تو ولیم لائڈ گیریسن نے 1831ء میں 'دی لبریٹر‘ اخبار نکالا۔ ہیریٹ ٹب نامی سابقہ غلام نے انڈرگراؤنڈ ریل روڈ کی بنیاد رکھی اور 300 غلاموں کو آزاد کرایا۔ 1863ء میں امریکی صدر ابراہم لنکن نے ایک معاہدے پر دستخط کرکے غلامی کو ختم کرنے کی طرف عملی قدم اٹھایا۔ مذہبی تحریکوں کی طرف دیکھیں تو ہمارے دینِ اسلام نے غلامی کی سخت حوصلہ شکنی کی اور مزدوروں کو ان کے حقوق دلائے۔ صحابی رسول حضرت بلال حبشیؓ پہلے ایک غلام تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے مالک نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ وہ سختیاں برداشت کرتے رہے اور 'احد، احد‘ یعنی اللہ ایک ہے‘ پکارتے رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اُن کو خرید کر آزاد کیا۔ بعد ازاں آپؓ مؤذنِ رسول بنے۔ حضرت بلالؓ کی زندگی اس بات کی سب سے بڑی مثال ہے کہ اسلام میں عزت رنگ‘ نسل یا دولت سے نہیں بلکہ تقویٰ سے ہے۔ غلامی قدیم عرب معاشرت کا حصہ تھی اور اسلام نے اس کو بتدریج کم کیا۔ نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں اپنا بھائی سمجھو‘ ان کا خیال رکھو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ اسلام نے مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا۔ فرمانِ رسولﷺ ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو۔ خلفائے راشدین نے بھی اپنے دور میں بہت سے غلاموں کو آزاد کرکے اچھی زندگی جینے کے مواقع فراہم کیے۔
اسی طرح 19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ نے 1857ء میں‘ مصر نے 1877ء میں اور سعودی عرب نے 1962ء میں باقاعدہ طور پر غلامی ختم کر دی۔ 1926ء میں لیگ آف نیشنز میں غلامی کے خلاف کنونشن کے تحت پہلا معاہدہ ہوا۔ اس کے بعد 1948ء میں انسانی حقوق کے اعلامیے کے آرٹیکل چار میں یہ لکھا گیا کہ کوئی بھی انسان غلامی میں نہیں رہے گا۔ آج تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو فالو کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے لیبر جبری مشقت پر نظر رکھتا ہے۔ تاہم ہمارے ملک میں غلامی اور جبری مشقت کا رجحان اب بھی موجود ہے۔ یہاں غلام بازاروں میں تو نہیں بکتے لیکن انہیں دھمکی‘ قرض‘ تشدد اور مجبوری سے غلام بنا لیا جاتا ہے۔ اس جدید غلامی میں تنخواہ کم دی جاتی ہے اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ نئی غلامی کی اقسام میں 'بانڈڈ لیبر‘ غلامی کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس میں لوگوں کو نسل در نسل مزدوری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جبری مشقت دیارِ غیر میں غلامی کی نئی قسم ہے جس میں لوگوں کے پاسپورٹ ضبط کرکے ان سے زبردستی مزدوری کرائی جاتی ہے اور مناسب اجرت بھی نہیں دی جاتی ۔ جبری شادی‘ انسانی سمگلنگ‘ جسم فروشی اور ڈیجیٹل غلامی بھی جدید غلامی کی صورتیں ہیں۔ بچے خاص طور پر اس غلامی میں بہت زیادہ استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ ان سے کان کنی‘قالین بافی‘ زراعت‘ جسم فروشی‘ گداگری‘ دکانوں‘ کارخانوں اور ورکشاپس سمیت دیگر شعبوں میں زبردستی کام کرایا جاتا ہے۔ اگر 18سال سے کم عمر بچے سے تعلیم کا حق چھین کر اسے محنت مزدوری پر لگا دیا جائے تو یہ چائلڈ لیبر ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں لاکھوں بچے چائلڈ لیبر پر مجبور ہیں۔ چائلڈ لیبر اور چائلڈ ورک میں فرق ہے۔ گھر میں والدین کا ہاتھ بٹانا یا ایسا کام کرنا جو تعلیم اور صحت پر فرق نہ ڈالے‘ چائلڈ لیبر نہیں ہے لیکن ایسا کام جس میں بچوں سے مسلسل مشقت کرائی جائے‘ ان سے تعلیم‘ کھیل‘ صحت اور آرام چھین لیا جائے‘ انہیں مارا پیٹا جائے‘ یہ سب تشدد اور چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ کم عمر بچے سے خطرناک مزدوری نہیں لی جا سکتی اور ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہے۔ تاہم پھر بھی ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر جاری ہے جس میں بچوں کا اس قدر استحصال ہوتا ہے کہ اکثر وہ جان سے چلے جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے گھریلو ملازم بچوں کو دیکھ کر سب سے زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ لوگ کم سن ملازمین کو سٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھتے ہیں‘انہیں پھٹے پرانے کپڑوں میں رکھتے ہیں‘ مارتے پیٹتے ہیں‘ بھر پیٹ کھانا بھی نہیں دیتے۔ اپنے گھر کے کام اور بچے ان پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک دس بارہ سال کا بچہ کیا کسی بچے یا گھر کو سنبھالے گا؟کبھی غربت سے تنگ ماں باپ بچوں کو ایسے جہنم میں دھکیل دیتے ہیں تو کبھی لاوارث یتیم بچے اس گھریلو مشقت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آپ سب اپنے اردگرد دیکھیں‘تقریباً ہر دوسرے گھر میں ایک کم عمر گھریلو ملازم نظر آئے گا‘ جس کی ماہانہ تنخواہ چند ہزار روپے ہو گی۔ شاپنگ مالز‘ سینما گھروں اور بازاروں میں دیکھ لیں‘ متمول فیملیاں ایک غریب ملازم بچی یا بچے کو ساتھ لیے گھوم رہی ہوں گی۔ اس کی کوئی چھٹی نہیں‘ وہ سارا دن کام کرتا ہے اور مار کھاتا ہے۔ اپنے جانوروں تک کو امرا باقاعدہ کمرہ دیتے ہیں‘ لیکن اس غریب کو سیڑھی کے نیچے یا پورچ میں جگہ ملتی ہے۔
حالیہ دنوں ملتان میں جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا وہ ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے۔ ایک پندرہ سالہ یتیم بچہ شاید ملازمت نہیں کرنا چاہتا تھا‘ وہ کام چھوڑ کر چلا گیا۔ ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو گاڑی تلے کچل دیا۔ ایک یتیم بچے کے ساتھ اتنی سفاکی! ہم بطور معاشرہ کیوں اتنے سفاک ہو گئے ہیں؟ اس بچے کو یتیم خانے سے ہنر سیکھنے کیلئے بھیجا گیا تھا‘ وہ الیکٹریشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا مگر ٹھیکیدار نے اس کی جان لے لی۔ کیا ہمارے ملک میں بچوں کے حقوق کی ضمانت لینے کو کوئی تیار نہیں؟ ایسے ہی شیخوپورہ میں ایک بارہ سالہ گھریلو ملازم بچی کو تشدد کر کے مار دیا گیا۔مالکان نے چوری کا الزام لگا کر بچی کو ڈنڈوں اور گرم سریے سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ اس کی چیخ و پکار سن کر کے ہمسایوں نے مداخلت کرکے اسے چھڑایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا مگر وہ جان کی بازی ہار گئی۔ کیا بچے ایسے ہی جبری مشقت کا شکار ہو کر لقمۂ اجل بنتے رہیں گے؟ آج اُن سب لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے جنہوں نے چھوٹے بچوں کو اپنا ملازم بنا رکھا ہے اور ان سے تعلیم‘ صحت اور کھیل کے مواقع تک چھین لیے ہیں۔ ملازمت کو غلامی میں تبدیل نہ کریں۔ گھریلو ملازمت پاکستان میں غلامی کی ایک نئی شکل اختیار کر گئی ہے اور اربابِ اختیار غافل ہیں۔ دنیا میں تو شاید ظلم کرنے والے اپنی دولت اور عہدے کی طاقت سے بچ جائیں لیکن آخرت میں خدا کو کیا منہ دکھائیں گے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved