موجودہ حالات میں کون کہہ سکتا تھا کہ ایک اعلیٰ سطح کا سعودی وفد تہران جائے گا۔ لیکن ایسا ہوا ہے‘ مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک کے نمائندے تہران گئے اور ایران کے چوٹی کے لیڈروں سے بات چیت ہوئی۔ کوئی ڈرامائی اعلان نہیں ہوا لیکن ایسی میٹنگ کا انعقاد ہی ایک معنی رکھتا ہے۔
ایک تو اس سے راستہ کھلتا ہے سعودیوں اور حوثیوں کے درمیان کچھ بات طے ہونے کا۔ ابھی تک تو ان میں کوئی خاطر خواہ رابطہ ہی نہیں تھا۔ بس دونوں اطراف حملے ہو رہے تھے اور الاؤ زیادہ بھڑک رہا تھا۔ اب کوئی نئی راہ کھل سکتی ہے۔ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ حوثی سعودی عرب پر حملے بند کریں اور سعودی عرب اپنے فضائی حملے یمن پر بند کرے۔ ساتھ ہی جو یمن کا فضائی محاصرہ ہے اُسے سعودی عرب ختم کرے۔ اور یہ اب کوئی بڑی بات نہیں رہی کیونکہ انصار اللہ سے لڑائی کے بعد بہت سی حقیقتیں سعودی عرب پر عیاں ہو چکی ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیکھ لیا ہے کہ حوثیوں کو ہرایا نہیں جا سکتا۔ حوثی صلاحیتیں بھی سامنے آ گئی ہیں۔ سعودی عرب کے ایئر پورٹ اور تیل تنصیبات حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ ایک قسم کی سبکی بھی سعودی عرب کی ہوئی ہے۔ مزید اس راستے پر چلنا نقصان مول لینے کے مترادف ہے۔ اسی میں اب دانش ہے کہ یہ جنگ ختم ہو اور تہران میٹنگ اس میں ایک پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
دوم‘ یہ میٹنگ اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ مغربی ایشیا میں تحفظ کا ایک نیا سٹرکچر تعمیر کیا جائے۔ جو اَب تک تحفظ کا نظام چلا آ رہا تھا وہ امریکہ کے گرد گھومتا تھا۔ امریکہ ہی تیل پیدا کرنے والے عرب بادشاہتوں کے تحفظ کا ضامن تھا۔ وہ تصور تو اس جنگ میں پاش پاش ہو گیا۔ امریکہ اپنے فوجی اڈے نہیں بچا سکا تو اُس نے کسی اور کو کیا بچانا تھا۔ مزید یہ کہ جب سعودی شہزادہ محمدبن سلمان نے صدر ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست کی تو ٹرمپ نے ٹکا سا جواب دیا۔ سعودی نظروں میں پاکستان کو ایک بڑا کریڈٹ یہ جاتا ہے کہ فوجی مدد کی اپیل کی گئی اور پاکستان کی طرف سے کسی پس و پیش کے بغیر بھاری فوجی ڈپلائمنٹ کر دی گئی۔ پرانے تحفظ کے نظام کے تحت ایسی ڈپلائمنٹ تو امریکہ کو کرنی چاہیے تھی لیکن مشکل وقت میں پاکستان کام آیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس پوزیشن میں رہا کہ سعودی عرب کو کچھ کہہ سکے اور سعودی عرب اُس کی بات سنے۔ یہ باہمی اعتماد کی فضا نہ ہوتی تو سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جو کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے بھائی ہیں‘ تہران نہ جاتے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا‘ تہران میٹنگ کا بڑا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جاتا ہے۔ و ہی تہران سے رابطے میں رہے اور جو پچھلی بار گئے کتنے تبصرے ہوئے کہ جنر ل محسن رضائی کے ساتھ ملاقات میں یہ آگے بڑھے اور وہ اپنی جگہ کھڑے رہے۔ ایسی باتیں بس باتیں ہی رہیں‘ اگر واقعی کوئی سرد مہری پاکستان اور ایران میں پیدا ہو ئی ہوتی تو یہ تہران میٹنگ نہیں ہونی تھی۔
اتنا ماننا پڑے گا کہ اس سارے عرصے میں پاکستان کی سفارتی کارکردگی نہایت ہی عمدہ رہی ہے۔ امریکہ اور چین سے تعلقات تو ہیں ہی لیکن سعودی عرب سے مراسم قائم رکھنا اور ایران سے بھی رابطوں میں رہنا یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اسی وجہ سے جو بھی سفارتی کام ہو رہا ہے اُس میں پاکستان ایک اہم پوزیشن رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل کے کردار نے پاکستان کی داخلی صورتحال مزید واضح کر دی ہے۔ ہائبرڈ یا ملا جلا نظام کی اصطلاح تو پاکستان کی داخلی صورتحال کے بارے میں استعمال کی جاتی تھی‘ لیکن ہائبرڈ والی بات بہت مدہم ہوتی جا رہی ہے اور اب سب پر واضح ہے کہ تمام اہم فیصلہ سازی کا سہرا فیلڈ مارشل کے سر ہے۔جس قسم کی سویلین حکومت ہے اُس کی پوزیشن بہت ہی ثانوی ہوتی جا رہی ہے۔ چاہے امریکی ہوں‘ ایرانی یا سعودی سب کو معلوم ہے کہ فیصلے کس نے کرنے ہیں۔ اور اسی انداز سے ہر کوئی پاکستان سے رابطہ رکھتا ہے۔
اس ساری صورتحال سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ یہ جو باتیں نئے نظام یا نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹوں کی ہو رہی ہیں یہ جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گی۔ یعنی جو نظر آ رہا ہے اُس کی آئینی یا قانونی شکل بننے میں کوئی زیادہ دیر نہیں رہی۔ نئے یونٹ یا نئے صوبے بنیں گے اور صدارتی نظام والا قصہ بھی مکمل ہو جائے گا۔ یہ موجودہ صورتحال کا منطقی انجام ہو گا۔ یہ ہوتا ہے تو جو دو بڑی پارٹیاں اس نظام کا حصہ ہیں اُن کی حیثیت نے لازماً متاثر ہونا ہے۔ پنجاب کی صوبیداری کی شکل بدلے گی تو موجودہ صوبیداروں پر اثر تو پڑے گا۔ موجودہ طمطراق اس شکل میں نہیں رہ سکے گا۔ دیگر کیا ہوتا ہے اُس کے بارے میں نہیں کہہ سکتے لیکن ایک نئے دور میں پاکستان جانے والا ہے۔ جو کچھ سنا جا رہا ہے ان باتوں سے یہی اشارے ملتے ہیں۔
بیرونی واقعات کا دیکھیں پاکستان کی داخلی صورتحال پر کیا اثر پڑا ہے۔ پچھلے سال مئی میں ہندوستان نے پاکستان پر میزائل حملے کیے اور اُس چار روزہ جنگ کے نتیجے میں افواجِ پاکستان اور خود فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے قد کاٹھ میں بہت اضافہ ہوا۔ ہندوستانی جہاز گرے تو افواجِ پاکستان کی ستائش بنتی تھی۔ اور اب جب سے ایران جنگ شروع ہوئی سفارتی لحاظ سے پاکستان کے قدم آگے رہے۔ جس میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر اسلام آباد میں دستخط ہوئے وہ قائم نہ رہ سکا لیکن بات چیت کیلئے امریکی اور ایرانی مندوب پاکستان تو آئے۔ اُس کے بعد بھی جب جنگ کے شعلے پھر بھڑکے تو پاکستان نے اپنا ثالثی کردار جاری رکھا۔ اسی اثنا میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے اور اب تہران کی میٹنگ ہوئی ہے جس میں حیران کن طور پر سعودی نمائندے شامل ہوئے۔ ان بہت سی چیزوں کا کریڈٹ تو پھر پاکستان اور فیلڈ مارشل کو جاتا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے لیکن افغانستان کے بارے میں گومگو کی صورتحال تو ختم ہوئی۔ یہ طالبان حکومت کی منتیں کرنا کہ وہ ٹی ٹی پی پر اثر انداز ہو تاکہ حملوں کا سلسلہ بند ہو یہ پالیسی تو ختم ہوئی۔ افغان بارڈر بند ہے‘ تجارت نہیں ہو رہی اور اس سے بہت نقصان ہو رہا ہے لیکن پالیسی کی کلیرِٹی (clarity) تو ہے کہ ٹی ٹی پی کے سامنے لچک نہیں دکھانی۔ افغانوں کا پاکستان سے انخلا بڑا فیصلہ تھا۔ ہم میں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ افغانوں کو نکالنا آسان کام نہ ہو گا۔ لیکن فیصلہ کیونکہ فوج کا تھا تو ہو گیا۔ ایک اور مسئلہ ٹی ایل پی کا تھا۔ اُس تنظیم کے رویے ریاستِ پاکستان کیلئے دردِسر بنے ہوئے تھے۔ لیکن جب سے اُس کے خلاف ایکشن ہوا اب کوئی پوچھتا بھی نہیں کہ اُس کی قیادت کہاں اور کس حال میں ہے۔
اس ساری صورتحال میں پاکستانی جمہوریت اور آئین و قانون کا کیا بنا‘ وہ ایک الگ داستان ہے۔ پاکستانی جمہوریت کا وہی حال ہے جو پاکستانی میڈیا کا ہے‘ کچھ ہے اور بہت کچھ نہیں ہے۔ کوئی واضح پابندیاں نہیں لیکن سب جان چکے ہیں کہ کس سیدھی لائن پر چلنا ہے اور کون سی لائنیں کراس نہیں کرنیں۔ یعنی پاکستانی قوم ایک تربیت کی درسگاہ سے گزری ہے اور بہت سی نئی چیزیں اور تصورات لوگ سمجھ رہے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved