کالج روڈ پر چائے خانوں کی ایک کہکشاں تھی۔ جس میں ایک ستارہ سب سے زیادہ روشن تھا‘ سب سے الگ‘ سب سے جدا! جس کی نرم سجل چاندنی ہماری زندگیوں میں رچ بس گئی تھی۔ اس روشن ستارے کا نام زمزم ہوٹل تھا۔ میرے لیے زمزم ہوٹل کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ محبت اور وارفتگی کی ایک ایسی کیفیت تھی‘ جسے صرف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ یہ اُن خوش رنگ دنوں کا بیان ہے جب میں گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ گورڈن کالج محض ایک عام تعلیمی ادارہ نہیں تھا‘ ایک تہذیب اور ایک روایت کا نام تھا۔ کھیل‘ ڈرامے اور مباحثے یہاں کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ طلبہ اور اساتذہ کا تعلق صرف کلاس روم تک محدود نہیں تھا۔ ہم ایم اے کے طلبہ کالج کے پروفیسرز میس کے باہر لان میں اساتذہ کے ساتھ علمی مکالموں کا حصہ ہوتے۔ کالج کے پروفیسرز میس کے قریب ہی گورڈن کالج کا عقبی گیٹ تھا‘ اس سے باہر نکلیں تو کالج روڈ کی طلسماتی دنیا ہماری منتظر ہوتی۔
عقبی گیٹ سے باہر نکل کر بائیں طرف چلنا شروع کریں تو ساتھ ہی ایک برگد کا درخت تھا۔ اس قدیم اور گھنے برگد کے نیچے لکڑی کی کرسیاں اور میز رکھے ہوتے۔ یہ ایک طرح سے زمزم ہوٹل کا صحن تھا۔ ہوٹل کے اندر داخل ہوں تو ایک مستطیل کمرہ ہمارے سامنے ہوتا۔ دروازے کے قریب‘ بائیں طرف ہوٹل کا مالک بٹ بیٹھا ہوتا۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بیٹا تنویر بٹ اپنے والد کی جگہ بیٹھنے لگا۔ ہم جب بھی زمزم ہوٹل جاتے خوب رونق ہوتی۔ اندر جگہ نہ ملتی تو ہم باہر بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ جاتے۔ یہاں کی چائے کا اپنا ذائقہ تھا۔ کبھی کبھار ہماری فرمائش پر تنویر بٹ خاص مہربانی کرتا اور چائے کی سطح پر بالائی کی تہہ جما دیتا۔ زمزم ہوٹل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں چائے کانچ کے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں دی جاتی تھی۔ زمزم ہوٹل گورڈن کالج کے طلبہ کا خاص ٹھکانا تھا۔ ستر اور اسّی کی دہائی کا گورڈن کالج کا ہر طالب علم زمزم ہو ٹل کی یاد اپنے سینے سے لگائے پھرتا ہے اور جب بھی وہ کالج کے دنوں کو یاد کرتا ہے‘ زمزم ہوٹل اس کی یادوں کی چلمن سے جھانکنے لگتا ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہر کالج میں سٹوڈنٹس یونین ہوتی تھی اور طلبہ سیاسی حوالوں سے مختلف گروپس میں بٹے ہوئے تھے۔ بہت سے سیاستدانوں نے انہی طلبہ تنظیموں سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گورڈن کالج میں ایک ہی وقت میں‘ ایک ہی کلاس میں پرویز رشید‘ شیخ رشید‘ پرویز خٹک اور مہتاب عباسی شامل تھے۔ بعد میں پرویز رشید مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر بنے۔ شیخ رشید نے اپنی جماعت عوامی مسلم لیگ بنائی۔ متعدد بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور کئی اہم وفاقی وزارتوں پر فائز رہے۔ اسی طرح مہتاب عباسی اور پرویز خٹک دونوں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی طرف سے خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے۔ ایسے سیاسی ماحول میں طلبہ مختلف گروپس اور ٹولیوں میں زمزم ہوٹل پر بیٹھتے لیکن مکالمے کا ماحول بھی رہتا۔ ان دنوں سوشلزم اور اسلامی سوشلزم کی اصطلاحات عام تھیں اور ہوٹل میں اکثر یہ بحث ہوتی کہ ایشیا سبز ہے یا سرخ۔ ایک بار تو بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب ایسا ہی ایک مباحثہ مولانا فتح محمد اور پرویز رشید کے مابین ہوا۔ مولانا فتح محمد جماعت اسلامی راولپنڈی کے امیر تھے اور ان کی رہائش کالج روڈ پر‘ زمزم ہوٹل کے قریب ہی تھی۔ ایک روز مولانا فتح محمد صاحب زمزم ہوٹل آئے تو پرویز رشید کے ساتھ اسلام اور سوشلزم پر گفتگو شروع ہو گئی۔ پرویز رشید ان دنوں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کے چیئرمین اور سوشلزم کے پرچارک تھے۔ چائے کی میز پر دونوں میں پُرجوش مکالمہ ہوا‘ اور خاص بات یہ ہے کہ دونوں طرف سے ادب اور احترام کی حدیں قائم رہیں۔
زمزم ہوٹل میں سیاست کے علاوہ شعر و ادب کی محفلیں بھی جمتی تھیں۔ نئی آنے والی کتابوں کا تذکرہ ہوتا۔ نادرِ روزگار اشعار پر بحثیں ہوتیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار یہ شعر موضوع بحث بن گیا:
بہت نزدیک آتے جا رہے ہو ؍ بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
گورڈن کالج کے پروفیسر وحید مرزا کا اصرار تھا کہ یہ شعر عدیم ہاشمی کا ہے کیونکہ یہ شعر عدیم ہاشمی نے خود پروفیسر وحید مرزا کو سنایا تھا اور یہ ان کی ایک غزل کا حصہ ہے‘ جس کا مطلع ہے: برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا؍ سویرا شامِ غم کا ہو گیا کیا۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ یہ شعرجون ایلیا کا ہے‘ جو جون کے کلام میں معمولی فرق سے کچھ یوں موجود ہے:
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو؍ بچھڑنے کا ارادہ کر لیا ہے کیا
یہ شعر جون ایلیا کی جس غزل کا حصہ ہے اس کا مطلع ہے:
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا؍ زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا
کافی بحث ومباحثے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ دونوں فریق درست کہتے ہیں۔ یہ شعر واقعی عدیم ہاشمی اور جون ایلیا‘ دونوں کے کلام کا حصہ ہے۔
زمزم ہوٹل کے ایک کمرے کے ڈھابہ نما ریستوران پر کیسے کیسے لوگ نہیں آتے تھے۔ ان میں طلبہ اور اساتذہ کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ یہاں میں نے گورڈن کالج کے پرنسپل خواجہ مسعود‘ آفتاب اقبال شمیم‘ نصراللہ ملک‘ سجاد حیدر ملک‘ توصیف تبسم اور سجاد شیخ جیسے اساتذہ کو بھی دیکھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان محفلوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ زمزم ہوٹل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہم یہاں اپنی فرمائش پر اپنی پسند کے گیت بھی سن سکتے تھے۔ وہ گرامو فون ریکارڈز کا زمانہ تھا۔ ہم ایک پرچی پر اپنا پسندیدہ گیت لکھ کر تنویر بٹ کو دے دیتے‘ جس کے پاس ایک طرف گراموفون ریکارڈز اور دوسری طرف ہماری فرمائشی پرچیوں کا ڈھیر ہوتا۔ تنویر بٹ کی جادوئی انگلیاں جیسے ریکارڈز کو پہچانتی تھیں‘ وہ پرچی پر لکھا کوئی بھی فرمائشی گیت پڑھتا تو اس کی انگلیاں ریکارڈز کے ڈھیر پر تھرتھراتیں اور چشمِ زدن میں مظلوبہ ریکارڈ اس کے ہاتھ میں ہوتا۔ کیسے کیسے گیت تھے جو ہم نے برگدکے بوڑھے درخت کے نیچے بچھی لکڑی کی کرسیوں پر چائے پیتے ہوئے سنے۔ دلچسپ بات یہ کہ زمزم ہوٹل سے کچھ ہی فاصلے پر بلراج ساہنی اور بھیشم ساہنی کا گھر تھا۔ ایک بھائی نے اداکاری اور دوسرے نے ادب کے شعبے میں نام کمایا۔ بلراج ساہنی کے گھر سے ذرا فاصلے پر مسجد کیلیاں والی گلی میں نامور گیت کار آنند بخشی کا گھر تھا‘ جنہوں نے بالی وُڈ کیلئے ساڑھے تین ہزار سے زیادہ گیت لکھے۔ اسی گرد ونوا ح میں ایک اور معروف گیت کار شیلندر کا گھر تھا‘ جنہوں نے فلموں کے کتنے ہی خوبصورت گیت لکھے۔ کسی نے ایک بار معروف گیت نگار اور فلم ساز گلزار سے ان کے پسندیدہ گیت نگار کا پوچھا تو گلزار نے شیلندر کا نام لیا۔ شیلندر بھی راولپنڈی کے انہی گلی کوچوں میں پیدا ہوا تھا۔
جب ہم زمزم ہوٹل پر بیٹھتے اور آنند بخشی اور شیلندرکے گیت سنتے تو عجیب اپنائیت کا احساس ہوتا۔ پھر میرا کالج کا زمانہ ختم ہوا اور میں راولپنڈی سے دور چلا گیا۔ تب ایک دن جب میں لاہور میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا مجھے راولپنڈی سے یارِ عزیز شاہد مسعود کا ٹیلیفون آیا جس نے خبر سنائی کہ ہمارا دیرینہ ٹھکانا زمزم ہوٹل ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے۔ یہ خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہو۔ ٹیلیفون بند کر کے میں نے آنکھیں بند کر لیں اور کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ چشمِ تصور مجھے کالج روڈ لے گئی۔ کیا دیکھتا ہوں‘ برگد کے بوڑھے درخت کے نیچے بچھی کرسیوں پر بیٹھا میں دوستوں کے ہمراہ چائے پی رہا ہوں اور تنویر بٹ نے ہماری فرمائش پر شیلندر کا گیت چلایا ہے: ''عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم‘‘۔ میں اپنی آنکھیں سختی سے بھینچ لیتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ یہ منظر کبھی ختم نہ ہو۔ (ختم)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved