ابنِ خلدون نے اپنے شہرۂ آفاق ''مقدمہ‘‘ میں لکھا تھا کہ ظلم معاشرے اور تہذیب و تمدن کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ جس سرزمین سے معدنی دولت نکلے‘ وہاں کے باشندوں کو اس کا حساب تک نہ ملے تو یہ معاملہ محض معاشیات کا نہیں انصاف کا بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑ کسی حکومت کی ذاتی جاگیر‘ کسی سیاسی جماعت کا انتخابی چندہ یا کسی ادارے کی غیرمشروط ملکیت نہیں۔ قومی وسائل کی شفاف نگرانی ہی قومی مفادات کے تحفظ کی بنیاد ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قیام پاکستان سے 2010ء تک خیبرپختونخوا میں معدنی لائسنسوں کی تعداد 482تھی‘ جو 2020ء تک 1762‘ فروری 2024ء تک 3962 اور اب 4917 بتائی گئی ہے۔ ان میں 4133 آباد اور 784ضم شدہ اضلاع سے متعلق ہیں جبکہ 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں۔ یہ اضافہ ابتدائی تعداد سے دس گنا زیادہ ہے‘ اس لیے لائسنسوں کا مکمل ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔ واضح کیا جائے کہ یہ مجموعی اجرا ہے یا فعال لائسنس‘ اس میں تجدید شدہ ٹائٹلز شامل ہیں یا نہیں اور قبائلی اضلاع کے انضمام سے کیا تبدیلیاں آئیں۔ پھر اصل امتحان شروع ہونا چاہیے‘ کس کو کتنی زمین ملی‘ اہلیت کیا تھی‘ مقابلہ کیسے ہوا‘ واجبات کتنے تھے اور وصولیاں کتنی ہوئیں؟ سیاسی وابستگیوں پر شور مچانا آسان ہے؛ اصل فائدہ اٹھانے والوں کے نام‘ کمپنیوں کی ملکیت اور فیصلہ کرنے والوں کے دستخط سامنے رکھنا مشکل ہے۔ احتساب کرنا ہے تو یہی مشکل کام کیجیے۔
سابق صوبائی وزیر خیبرپختونخوا عارف احمدزئی کے مطابق لائسنسوں میں اضافے سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں اور معدنی آمدنی 70کروڑ سے 14 ارب روپے تک پہنچی۔ وہ شفاف طریقۂ کار کا دفاع کرتے ہوئے چار بڑے لائسنسوں میں صرف ایف ڈبلیو او کے لائسنس کو فعال بتاتے ہیں۔ دوسری طرف خواجہ آصف ایف ڈبلیو او کو 2015ء میں بویا کے مقام پر صرف ایک لائسنس ملنے کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن لائسنسوں کی تعداد کیساتھ ان کی معاشی مالیت کا حساب بھی ضروری ہے کیونکہ ایک بڑی تانبے کی کان کی قدر سینکڑوں چھوٹی لیزوں سے مختلف ہوسکتی ہے۔ شمالی وزیرستان کا محمد خیل کاپر منصوبہ اسی لیے اہم ہے۔ ایف ڈبلیو او کی ویب سائٹ اسے پاکستان کا دوسرا بڑا کاپر مائننگ آپریشن قرار دیتی ہے جو 2019ء سے فعال ہے۔ تقریباً 30 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس منصوبے میں کھلی کان اور روزانہ 1500 ٹن معدنی مواد پراسیس کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ رپورٹ میں 15 جولائی 2016ء کو بیس سالہ مائننگ لیز اور پانچ اپریل 2017ء کو اس وقت کی فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیساتھ مشترکہ منصوبے کے معاہدے کا ذکر ہے۔ اصل لیز اور معاہدہ جاری کرکے انکی مدت اور شرائط واضح کی جائیں۔بزنس ریکارڈر کی 12 اگست 2023ء کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 10.7 ارب روپے کے اس منصوبے کو مخصوص ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کا درجہ دیا۔ اس میں محمد خیل کی 30مربع کلومیٹر مائننگ لیز‘ ایم ایل 30 اور منظر خیل کی 101 مربع کلومیٹر ایکسپلوریشن لیز‘ ای ایل 101 شامل تھیں۔ عمل درآمد کرنے والی ڈیگن ایکسپلوریشن ورکس کو ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی بتایا گیا۔ رپورٹ میں منافع کی تقسیم ڈیگن کیلئے 50 فیصد‘ منرلز ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کیلئے 10 فیصد‘ کمیشن کیلئے 18 فیصد اور سماجی ذمہ داری کے فنڈ کیلئے 22 فیصد درج ہے۔ اب بتایا جائے کہ قابلِ تقسیم منافع کتنا تھا‘ اخراجات کس نے جانچے‘ ادائیگیاں کب ہوئیں‘ کمیشن کی حیثیت اور مستحقین کون ہیں اور سماجی فنڈ سے کتنے منصوبے مکمل ہوئے۔ اسمبلی دستاویز سے منسوب اعداد کے مطابق اس منصوبے سے 2016ء سے 2024ء تک نو لاکھ 52ہزار میٹرک ٹن معدنی پیداوار ہوئی جبکہ رائلٹی‘ کرایوں اور مشترکہ منصوبے کی مد میں 18کروڑ 98لاکھ 3ہزار روپے وصول ہوئے۔ متعلقہ حکام بتائیں کہ یہ واجبات کس مدت کے تھے۔ خیبرپختونخوا کے ممبر صوبائی اسمبلی نثار باز خان کے دعوے کے مطابق اس منصوبے کی پانچ فیصد رائلٹی تقریباً 34.5 ارب روپے بنتی تھی لیکن ادائیگی صرف 16 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوئی۔ ایک رپورٹ میں اس منصوبے کی پیداوارنو لاکھ 87 ہزارٹن بتائی گئی ہے‘ جو اسمبلی دستاویز کے عدد سے مختلف ہے۔ اس اختلاف کی وضاحت ضروری ہے۔ 34.5 ارب روپے کو ثابت شدہ خوردبرد کہنا قبل از وقت ہوگا مگر اتنے بڑے دعوے کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یہ رقم واقعی پانچ فیصد رائلٹی ہے تو متعلقہ مالیت 690 ارب روپے بنتی ہے؛ اس تخمینے کی دستاویزی بنیاد سامنے آنی چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عوام کو اپنے وسائل کی آمدنی جاننے کیلئے عدالت کیوں جانا پڑے؟ حکومت اور منصوبہ چلانے والے خود تفصیلات جاری کیوں نہیں کرتے؟مولانا فضل الرحمن معدنی وسائل پر اختیار کے خدشات اٹھاتے ہیں تو ان سے بھی دستاویزات اور اپنی سیاسی کارکردگی کا حساب مانگا جانا چاہیے۔ انہوں نے شفافیت کیلئے کونسا ریکارڈ طلب کیا‘ کونسا معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھایا اور کس معاہدے کی خلاف ورزی ثابت کی؟ اب اس مسئلے پر ایک اور کمیٹی کے اعلان سے کام نہیں چلے گا۔ ایک آزاد مالی اور تکنیکی آڈٹ کان سے فروخت اور وصولی تک پورا حساب جانچے۔ جہاں کم قیمت ظاہر کرنے‘ غیر قانونی کان کنی‘ واجبات روکنے یا ملی بھگت کے شواہد ملیں‘ وہاں رقم وصول کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل‘ سیاسی اثرورسوخ اور کاروباری مفادات کے مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق مزید سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں جن کی تصدیق کیلئے سرکاری ریکارڈ‘ مالیاتی دستاویزات اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک خان اور بعدازاں ان کے صاحبزادے کان کنی کے کاروبار سے منسلک رہے اور مبینہ طور پر صوبائی حکمران جماعت کے اہم عہدیداروں کے مالی سہولت کار یا کاروباری فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے۔ ان کے کاروباری اور خاندانی روابط اٹک‘ ٹیکسلا‘ ترنول‘ پتھر گڑھ‘ خانپور اور افغانستان تک پھیلے ہونے کا دعویٰ ہے۔ذرائع خاندان کا تعلق افغانستان کے صوبہ ہرات سے بتاتے ہیں اور الزام ہے کہ خاندان کے بعض افراد نے نادرا سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے‘ جبکہ کچھ افراد کو پرانے شناختی ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث افغانستان واپس بھی بھیجا گیا۔ خاندان کے افراد ترنول‘ راولپنڈی اور پتھر گڑھ میں مشینری کے کاروبار سے وابستہ بتائے گئے۔ بھتیجے کے افغانستان واپسی کے بعد پاکستانی ویزے پر ٹیکسلا آنے‘ ایک رشتہ دار کی اراضی کی نگرانی کرنے اور اٹک میں سکیورٹی آپریشن کے بعد خاندان کو خانپور‘ ضلع ہری پور منتقل کرنے کے دعوے بھی ہیں۔ ان سب دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ الزام ہے کہ خانپور‘ ضلع ہری پور میں 99 سالہ معدنی لیز غیر معمولی کم نرخوں پر دی گئی اور اعلیٰ حکام نے سہولت کاری کی۔ پارٹی عہدیداروں کی جانب سے ایک فیکٹری سے اس کی زمین کے نیچے کان کنی جاری رکھنے میں سہولت مانگنے کا دعویٰ بھی ہے۔ رپورٹ میں خان مذکور اور ساتھیوں پر سیاسی شخصیات کو مالی معاونت دینے اور سیاسی سرگرمیوں کیلئے روزانہ 70 سے 80 لاکھ روپے فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ زمین‘ لیز اور مالی دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔ افغانستان سے خاندانی تعلق‘ وہاں جائیداد یا کاروبار‘ یا کسی جماعت کو قانونی مالی معاونت دینا بذاتِ خود جرم نہیں۔ اصل سوال لیز کے قانونی اختیار و شرائط‘ حقیقی مستفیدین‘ کمپنیوں کی ملکیت و آمدن‘ دھماکا خیز مواد کے ضوابط اور سیاسی اثرورسوخ کے ممکنہ نجی استعمال کا ہے۔ یہ شواہد تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کے سامنے لائے جائیں اور نامزد افراد کو جواب دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ کیونکہ صوبے کے معدنی وسائل کسی حکومت‘ جماعت‘ سیاستدان یا کاروباری شخصیت کی ذاتی ملکیت نہیں‘ عوام کی اجتماعی امانت ہیں اور اس امانت کے ایک ایک معاہدے‘ ایک ایک روپے اور ایک ایک قانونی اجازت نامے کا حساب ہونا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved