تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     28-10-2026

کاروبار کے شرعی اصول

اسلام میں کاروباری دیانت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور ناجائز ذرائع آمدنی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کو کاروباری بے اعتدالیاں سخت ناپسند ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگوں پر عذاب آنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ کاروباری معاملات میں من مانیاں کیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے واقعے کو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا۔ سورۂ ہود کی آیات: 84 تا 86 میں اللہ تبارک وتعالیٰ اس واقعہ کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا‘ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو‘ میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے۔ اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو‘ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچائو۔ اللہ کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو‘‘۔ جب مدین کے لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کو تسلیم نہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کرکے قصۂ پارینہ بنا دیا۔ کتاب وسنت میں کاروبار کے حوالے سے جن چیزوں کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے‘ وہ درج ذیل ہیں:
1۔ پورا تولنا اور پورا ماپنا: کتاب اللہ میں پورا تولنے اور پورا ماپنے کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ناجائز ذرائع آمدن کی شدید مذمت کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المطففین کی آیات: 1 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘۔ سورۃ الانعام کی آیت: 152 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور ناپ تول پورا پورا کرو‘‘۔ اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 35 میں ارشاد ہوا: ''اور جب ناپنے لگو تو بھرپور پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے‘‘۔
2۔ دھوکا دہی اور باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہڑپ کرنے سے اجتناب: شریعتِ اسلامیہ نے مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ دوسرے کے مال کو دھوکا دہی سے ہڑپ کرنے سے اجتناب کریں۔ اس حوالے سے سورۃ النساء کی آیت: 29 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھائو مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے ہو خرید وفروخت‘ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تم پر نہایت مہربان ہے‘‘۔
3۔ ملاوٹ کرنے سے اجتناب: اسلام میں ملاوٹ کرنے سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ جو چیز دکھائی جائے اسی چیز کو بیچنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے‘ آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی۔ آپﷺ نے فرمایا ''غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا ''تو تم نے اس (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (یعنی ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے)۔
4۔ ظلم کی کمائی سے اجتناب: اسلام میں ظلم کی کمائی سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھا جاتے ہیں جس پر شدید وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 10 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں‘ وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے‘‘۔
5۔ سود کی کمائی سے اجتناب: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید کے بہت سے مقامات پر سود کی کمائی کی مذمت کی ہے اور اہلِ ایمان کو اس کمائی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 278 تا 279 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو‘ اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائو‘‘۔
6۔ قحبہ گری کی کمائی سے اجتناب: بعض لوگ عورتوں کو بے حیائی میں دھکیل کر ان کی کمائی کھاتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت انتہائی قبیح عمل میں مبتلا ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسے لوگوں کی سخت مذمت کی ہے اور جو عورتیں مجبوری میں اپنا جسم بیچیں‘ ان کیلئے معافی کا اعلان بھی فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘
7۔ گداگری سے اجتناب: انسان کو محنت سے مال کمانے کی جستجو کرنی چاہیے اور اس حوالے سے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''وہ شخص جو لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اُس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے‘ چاہے وہ اسے کچھ دے یا نہ دے‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کمانے کی کوشش کرنا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بدرجہا بہتر ہے‘ اس لیے کہ اس سے انسان کی عزت‘ آبرو اور وقار برقرار رہتا ہے۔
8۔ سچائی کا اہتمام: انسان جب کسی کو کوئی چیز بیچے تو اس میں سچائی کا اہتمام کرنا چاہیے اور مبالغہ آرائی سے کام لینے کے بجائے اشیا کے عیوب کو واضح کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کر دیں یا برقرار رکھیں) یا اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی۔ اور اگر انہوں نے کچھ چھپا رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی‘‘۔
9۔ وعدے کی پابندی: بعض لوگ وعدے کی اہمیت کو فراموش کر دیتے ہیں اور وعدے کو فقط دوسروں کو ٹالنے کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ کاروبار میں وعدے کی پابندی کرنادیگر امور میں وعدے کی پابندی کرنے کی طرح ہی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 34 میں ارشاد فرمایا: ''اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے‘‘۔
10۔ قسم کھانے سے اجتناب: کاروبار میں کثرت سے قسم کھانا کسی بھی طور پر اچھا عمل نہیں ہے۔ قسم کھانے سے اگرچہ مال تو بک جاتا ہے لیکن مال سے برکت سے ختم کر دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ''(سامان بیچتے وقت دکاندار کے) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے‘‘۔
اگر مذکورہ بالا اصول و ضوابط پر عمل کر لیا جائے تو انسان کے کاروبار میں اللہ کا فضل اور رحمت شامل ہو جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اسلام کے کاروباری اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہم سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved