تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     29-10-2026

دانشور اور ایک نیم سیاسی نیم انقلابی کارکن

لوگ اسے دانشور کہتے ہیں۔ دانش سے اس کا راہ و رسم کتنا ہے‘ اس سے قطع نظر‘ اس کی عمومی شہرت یہی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے لیے یہ لفظ طنزاً استعمال کرتے ہیں۔ اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں کہ میں آپ کو جو قصہ سنانے لگا ہوں‘ اس کا اس کی دانش ورانہ عرفی حیثیت سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔
ایک بار 'دانش ور‘ کا ایک نوجوان سے ٹاکرا ہو گیا۔ وہ اپنے سیاسی راہنما کو مرشد کہتا تھا۔ اُس کے لیے عرفِ عام میں ایک اسمِ صفت مستعمل ہے۔ دانشور نے قصہ بیان کرتے وقت‘ اس کے استعمال سے گریز کیا‘ اس لیے میں بھی گریز کر رہا ہوں۔ ہوا یوں کہ دانشور چائے کی طلب میں ایک ریستوران میں جا بیٹھا۔ ابھی اس نے چائے کا آرڈر دیا ہی تھا کہ ایک نوجوان پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ دانشور نے اس کی طرف دیکھا تو پہلی نظر میں شناسائی کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی یادداشت پر مزید زور ڈالتا‘ نوجوان بولا: ''تم آفتاب بیلی ہو؟‘‘ آفتاب بیلی اس دانشور کا اصل نام نہیں ہے۔ میں نے اسے بدل دیا ہے کہ نام کا افشا شاید مناسب نہ ہو۔ ویسے بھی نام میں کیا رکھا ہے۔ مدعا تو قصہ سنانا ہے۔
''...جی‘‘۔ دانشور نے جواب دیا۔ ''تم کب تک اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ لکھتے رہو گے؟ تم کیسے دانشور ہو جو مظلوم کو تلقین کرتے ہو کہ وہ ظلم سہتا رہے اور ظالم کے خلاف تمہارے قلم سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ تمہیں تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے‘‘۔ دانشور اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسے سنبھلنے میں کچھ وقت لگا۔ اس طرزِ تخاطب پر اسے غصہ تو بہت آیا لیکن وہ پی گیا۔ اس میں ایک کمزوری تھی۔ وہ گالی دے سکتا تھا نہ کسی سے اس لہجے میں مخاطب ہونے کا ہنر جانتا تھا۔ وہ اتنا ہی کہہ سکا: ''آپ کو جو کہنا ہے بیٹھ کر‘ اطمینان سے‘ اخلاق کے دائرے میں کہیں‘‘۔ ''یہ چال بازی رہنے دو۔ میں تمہارے مصنوعی اور نمائشی اخلاق کو جانتا ہوں۔ تم دو ٹکے کے بکاؤ لکھاری ہو‘ تمہارا اخلاق سے کیا تعلق؟ تم اگر یزید کے دور میں ہوتے تو اس کے ساتھی ہوتے اورسیدنا حسینؓ کو بھی یہی کہتے کہ ظلم کے سامنے سر جھکا دیں‘‘۔
دانشور اس دوران میں سنبھل چکا تھا اور یہ بھی جان چکا تھا کہ یہ مکالمے کا کوئی محل ہے نہ اس کا کوئی امکان۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ ایک عوامی جگہ تھی۔ نوجوان اونچی آواز میں بولا تو پاس بیٹھے لوگوں کی توجہ بھی اس میز کی طرف مرتکز ہو گئی۔ دانشور کے پاس یہی راستہ تھا کہ وہ بات بگڑنے نہ دے کہ اس کی طبیعت جھگڑالو نہیں تھی۔ وہ سرِ بازار کسی کی توہین نہیں کر سکتا تھا۔ توہین سہنا بھی اس کے لیے آسان نہیں تھا۔ اس نے اس کیفیت سے نکلنے کے لیے نوجوان کو باتوں میں لگانا چاہا۔ اُس نے نوجوان کی طرف سوال اچھال دیا: ''آپ کے خیال میں مجھے کیا لکھنا چاہیے؟‘‘۔ ''تمہیں حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ تمہیں ان لوگوں کے خلاف لکھنا چاہیے جنہوں نے الیکشن میں دھاندلی کروائی۔ ہمارے لیڈر کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے۔ جو غیر آئینی طور پر اقتدار پر قابض ہیں۔ لیکن تم کیسے لکھو گے۔ تم تو بکے ہوئے ہو...‘‘
''آپ شاید میرے کالم دھیان سے نہیں پڑھ سکے۔ میں ہمیشہ سیاسی عصبیت کی بات کرتا ہوں۔ میں نے کئی بار لکھا ہے کہ جس گروہ یا فرد کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے‘ اس کے خلاف قانون کا استعمال مؤثر نہیں ہوتا۔ میں سیاسی آزادیوں کی بات بھی کرتا ہوں۔ میں نے اس پر بھی تنقید کی ہے کہ تاریخ نے جس کے مقدر میں کوئی کارنامہ لکھا ہے‘ اس کے بیان میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ نشریاتی اداروں میں کرکٹ کی تاریخ بیان ہو اور اس آدمی کا ذکر نہ ہو جس کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا...‘‘۔ ''یہ تمہاری منافقت ہے۔ برسرِ اقتدار گروہ جو...‘‘ نوجوان نے دانشور کی بات کاٹتے ہوئے‘ مزید بلند آواز سے اور سخت تر الفاظ میں اپنی بات دہرائی۔
دانشور کو پہلے ہی اندازہ تھاکہ گفتگو کا اس پیرائے میں جاری رہنا بے نتیجہ ہے۔ اس نے موضوع کو ایک اور رخ دینا چاہا: ''مجھے فریقِ ثانی سے جو کہنا چاہیے‘ اس سے ہم صرفِ نظر کرتے ہیں۔ میں برسبیلِ تذکرہ مان لیتا ہوں کہ میں نے برسرِ اقتدار گروہ سے وہ کچھ نہیں کہا جو کہنا چاہیے تھا۔ میں اس موضوع پر بھی کوئی بات نہیں کرتا کہ آپ کی جماعت اور لیڈر کے بارے میں میری ایک رائے ہے جس کے اظہار کا مجھے حق حاصل‘ جس طرح آپ کو ایک رائے رکھنے کا حق ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ آپ کے خیال میں مجھے آپ کی پارٹی کو کیا مشورہ دینا چاہیے؟ میرا مشورہ تو یہ ہے کہ وہ سیاسی حرکیات کو سمجھیں اور اپنے لیے راستہ نکالیں۔ سیاست اور میدانِ جنگ میں تفریق کریں۔ سیاسی مؤقف اور سیاسی حکمتِ عملی کے فرق کو جانیں۔ جو میسر ہے‘ اس کو محفوظ کرتے ہوئے‘ مزید کے حصول کی کوشش کریں۔ اپنے راہنماؤں اور کارکنوں کے جان و مال کو خطرات میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ مشورہ درست نہیں تو پھر آپ بتائیں کہ اگر کوئی اس پارٹی کا خیر خواہ ہو گا تو اسے کیا مشورہ دینا چاہیے؟‘‘۔
''آ پ اپنا مشورہ رہنے دیں۔ آپ چوروں کا ساتھ دیں۔ آپ چاہتے ہیں ہمارا لیڈر نواز شریف بن جائے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ وہ میدان میں ڈٹ کر کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ سیدنا حسینؓ آج بھی زندہ ہیں اور یزید سے تو مولانا اللہ وسایا صاحب نے بھی اعلانِ برأت کردیا ہے‘‘۔ دانشور نے دیکھا کہ ریستوران میں موجود لوگ اس مکالمے کو سن رہے ہیں۔ ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ نوجوان کے 'دلائل‘ سے متاثر ہیں۔ اس کی دانش کا چراغ نہیں جل رہا۔ اس وقت اقتدار کی سیاست اور معرکہ حق وباطل کے فرق پر کوئی بات کرنا عبث تھا کہ کسی کو ان سنجیدہ مباحث سے دلچسپی نہیں تھی۔ اُس نے محسوس کیا کہ اگر یہ مناظرہ جاری رہا تو زبان ہی نہیں‘ ہاتھ بھی چل سکتے ہیں۔ اسے یہ معلوم تھا کہ ان ہاتھوں میں‘ اس کا ہاتھ شامل نہیں ہو گا کہ اسے زبان چلانا آتا ہے نہ ہاتھ۔ اس کی عافیت اسی میں ہے کہ مکالمے کو کوئی حسین موڑ دے کر ختم کر دیا جائے۔
''آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ حق کے ساتھ آپ کی وابستگی قابلِ رشک ہے۔ مجھے کہیں پہنچنا ہے‘ اس لیے اجازت چاہتا ہوں۔ امید ہے پھر ملاقات ہو گی‘‘۔ دانشور نے چائے کے بل کے لیے ویٹر کو بلایا۔ وہ چائے جو پڑے پڑے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور اب اس کے کسی کام کی نہیں تھی۔ اس نے بل ادا کیا اور ریستوران سے باہر نکل آیا۔ اس نے دیکھا کہ نوجوان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے سوچا ''جو گروہ دوست دشمن میں تمیز نہ کر سکے‘ اسے کوئی مشورہ دینا کیا دانش کی علامت ہے؟ کیا وہ ایک جعلی دانشور ہے؟‘‘۔ اچانک ایک گاڑی کے ہارن کی تیز آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور وہ چونک اٹھا۔ وہ خیالات کے سفر میں چلتے چلتے سڑک کے بیچ پہنچ چکا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور سڑک سے اتر کر فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔ پیدل چلنے والے کے لیے یہی مناسب ہے۔ وہ پاؤں سے پیدل ہو یا عقل سے! سواری کے بغیر سڑک کے بیچ چلنا باعثِ ہلاکت ہے اور سفینہ عقل کے بغیر شاہراہِ سیاست پر چلنے کا انجام بھی ہلاکت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved