سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچک کو انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ دو سال سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے بعد کامیابی پر ملک بھر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا‘ تاہم نئی قیادت کو اب حکومت بنانے‘ بدعنوانی ختم کرنے اور معیشت کو سنبھالنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تحریک کا آغاز 2024ء میں شمالی شہر نووی ساد کے ریلوے سٹیشن کی چھت کا حصہ گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ طلبہ نے واقعہ کے ذمہ داروں کے احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا‘ حکومت کی جانب سے جس پر توجہ نہ دینے کے نتیجے میں وہ احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گیا تھا۔
جنریشن زی ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو 1997ء اور 2012ء کے درمیانی عرصے میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمریں اب 14 سے 29 سال کے درمیان ہو چکی ہیں۔ یہ وہ نوجوان نسل ہے جو انٹرنیٹ‘ سمارٹ فونوں اور سوشل میڈیا کے ارتقائی دور میں پلی بڑھی اس لیے وہ چیزوں کو پچھلی نسلوں کی نسبت زیادہ سمجھتی اور جانتی ہے اور اس نسل کی نظروں سے کچھ بھی اوجھل نہیں رہ سکتا‘ لہٰذا ان کے سامنے جھوٹ نہیں بولا جا سکتا‘ ان کو طفل تسلیاں نہیں دی جا سکتیں‘ جھوٹے وعدے نہیں کیے جا سکتے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نسل جانتی ہے کہ حقائق کیا ہیں اور جھوٹ کیا ہے۔ یہ جنریشن اس وقت کی سب سے زیادہ طاقتور جنریشن ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حالیہ برسوں میں اس نسل نے دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص جنوبی ایشیا میں پرانی‘ روایتی اور کہنہ طرز ہائے حکومت کے خلاف طاقتور سیاسی اور سماجی انقلابات برپا کیے ہیں۔
افریقہ اور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کم و بیش ڈیڑھ ارب افراد پر مشتمل ہے جو علاقائی آبادی کا 60 فیصد بنتا ہے۔ یہ نسل ان ممالک میں سماجی تبدیلی کو آگے بڑھا رہی ہے جہاں کرپشن پر مبنی اور ناکام پالیسیوں کا سامنا ہے۔ نئی نسل کیلئے آگے بڑھنے کے کم مواقع‘ زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سرمائے کے بہائو کا غیر متناسب پھیلائو‘ قرضوں کا مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ‘ بدلتی اور سکڑتی ہوئی جاب مارکیٹ اس نسل کے خوابوں کو ڈرائونے خوابوں میں تبدیل کر رہی ہے اور یہ بات اس نسل کیلئے قابلِ قبول نہیں۔ جین زی انٹرنیٹ سنسرشپ‘ بدعنوان حکومتوں اور ملازمتوں کے مواقع کی کمی کی وجہ سے بھی مشتعل ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ روزگار کی کمی اور کم آمدنی نوجوانوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ بہت سے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اچھی ملازمت حاصل نہیں کر پاتے۔ نوجوان بدعنوانی‘ ناانصافی اور غیر مؤثر حکومتی نظام سے نالاں ہیں۔ وہ شفافیت‘ جمہوریت اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ معیاری تعلیم کی کمی‘ تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور محدود مواقع بھی نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ جین زی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے اور پابندیوں‘ سنسرشپ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ طبقاتی فرق‘ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالی بھی احتجاج کی اہم وجوہات ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نوجوانوں کو مسائل سے آگاہ کرتے اور منظم ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ جنریشن زی کی سب سے بڑی کامیابی انتخابات کو پُرامن سیاسی انقلاب میں بدلنا اور روایتی حکمرانوں کو چیلنج کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں نوجوانوں نے نہ صرف احتجاجی تحریکوں کی قیادت کی بلکہ بیلٹ باکس یعنی ووٹنگ کے ذریعے اقتدار کے ڈھانچے کو بھی تبدیل کر دیا۔ اس کی ایک مثال کالم کے آغاز میں سربیا کی دی گئی ہے۔ یہ اس جنریشن کی تازہ ترین کامیابی ہے۔
جین زی کئی ممالک میں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے۔ ستمبر 2025ء میں نوجوانوں کے احتجاج کے نتیجے میں نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہوئے۔ مارچ 2026ء کے انتخابات میں روایتی سیاسی جماعتوں کو بڑا دھچکا لگا اور بالین شاہ کی قیادت میں نئی سیاسی قوت اقتدار میں آئی۔ یہ تبدیلی جین زی تحریک کے سیاسی اثرات کی نمایاں مثال ہے تاہم بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی بہتری کا اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
بنگلہ دیش میں طلبہ کی کوٹہ مخالف تحریک وسیع عوامی احتجاج میں تبدیل ہوئی‘ جس کے نتیجے میں 5 اگست 2024ء کو شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی اور انہیں بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔ امسال فروری کے انتخابات میں سابق سیاسی نظام سے وابستہ جماعت بی این پی نے اکثریت حاصل کی جبکہ طلبہ کی قائم کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی کو محدود کامیابی ملی‘ اس لیے حکومت گرانے کا مقصد پورا ہوا مگر مکمل نظام کی تبدیلی ابھی غیر یقینی ہے۔ نئی حکومت اگر عوام اور طلبا کی امیدوں پر پورا نہ اتری تو جنریشن زی کے ایک بار پھر متحرک ہو جانے کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹھیک ایک سال پہلے ستمبر‘ اکتوبر 2025ء میں مڈغاسکر میں پانی‘ بجلی اور حکومتی کارکردگی کے مسائل پر نوجوانوں کے احتجاج کے بعد صدر اینڈری راجویلینا کو ملک چھوڑنا پڑا اور فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ یہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی تھی لیکن فوجی اقتدار سنبھالنے کی وجہ سے اسے پوری یا جمہوری کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہے۔
کینیا کی کل آبادی کا 33.4 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ کینیا کی 75 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مبنی ہے۔ کینیا میں نوجوانوں کے احتجاج نے حکومت کو متنازع فنانس بل واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ کابینہ میں بھی تبدیلیاں ہوئیں لیکن صدر اقتدار میں رہے اور بنیادی اصلاحات محدود رہیں۔ یہ پالیسی کی سطح پر کامیابی تھی‘ مکمل سیاسی تبدیلی نہیں۔ لیکن آئندہ ہونے والے کینیا کے عام انتخابات کے نتائج پر جنریشن زی کے احتجاجی اثرات واضح ہونے کی گہری توقع کی جا رہی ہے۔ انڈونیشیا میں احتجاج کے بعد حکومت نے ارکانِ پارلیمان کے بعض الائونسز اور مراعات میں تبدیلیوں کا اعلان کیا لیکن سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ مراکش میں جین زی تحریک نے بے روزگاری‘ صحت اور تعلیم کے مسائل پر حکومت کو دبائو میں ڈالا۔ حکومت نے عوامی خدمات اور نوجوانوں کیلئے اقدامات کا اعلان کیا۔ اگر تحریک منظم رہے اور وعدوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے تو کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ فلپائن میں بدعنوانی‘ سرکاری اخراجات اور عوامی جواب دہی کے خلاف نوجوانوں کا دبائو سیاسی اصلاحات کو آگے بڑھا سکتا ہے لیکن مستقل تبدیلی کیلئے احتجاج کو قانونی اور انتخابی عمل سے جوڑنا ضروری ہو گا۔ پیرو میں سیاسی عدم استحکام اور حکمرانوں سے عوامی ناراضی اصلاحات کا موقع پیدا کر سکتی ہے تاہم صرف حکومت یا صدر کی تبدیلی کافی نہیں‘ اداروں کی مضبوطی اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
سب سے بڑھ کر بھارت میں مخصوص مسائل پر جنریشن زی کے احتجاجوں کی کامیابی کے امکانات روشن تر ہیں۔ امتحانی پرچوں کے افشا‘ بے روزگاری اور تعلیمی بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کی مہم نے وزیر تعلیم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا اور اب باری ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کرنے والی بھارتی عدلیہ کی ہے۔ دیکھیں کیا وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جین زی کے احتجاج دراصل بہتر مستقبل‘ انصاف‘ روزگار اور بنیادی حقوق کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل سنیں اور ان کے حل کیلئے موثر اقدامات کریں۔ بصورت دیگر شدید احتجاج کیلئے تیار رہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved