تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     29-10-2026

معشوق شہر

ساپانجا جھیل کے اطراف ہم تین لوگ گاڑی میں چکراتے پھر رہے تھے۔ ایک طرف جھیل اور دوسری طرف پہاڑی ندیوں کے سیلاب نظر آتے تھے۔ ہمیں ایک راستے کی تلاش تھی۔ کوئی راستہ جو ہمیں اس علاقے سے نکال کر سیلاب سے محفوظ بڑی سڑک تک لے جائے۔ کافی دیر کے بعد ایک راستہ مل ہی گیا اور ہم اس سڑک پر آ گئے جو سیدھے معشوقیے جاتی تھی۔
کیسا خوبصورت نام ہے نا معشوقیے! عربی‘ فارسی‘ ترکی اور اردو میں ایک ہی معنوں میں مستعمل۔ محبوب‘ پیار کے لائق‘ دل میں بسا ہوا۔ محبوب جو کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے اور کوئی مقام‘ کوئی شہر بھی۔ مجھے یہ نام اپنی طرف کھینچتا تھا۔ جب میں نے ساپانجا جھیل جانے اور اس علاقے میں چار دن ٹھہرنے کا ارادہ کیا تو اس کے اطراف کی جستجو بھی ہوئی۔ نئے نئے نام سامنے آنے لگے۔ کئی نام تو اس روداد میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ ایک نیا نام کرتے پے بھی تھا۔ ترکی میں کرتے پے کا مطلب ہے وہ بلند مقام جہاں برف گرتی ہو یا موجود ہو۔ اسی کے قریب ایک اور نام نے میری توجہ اپنی طرف کروا لی۔ ترکی حروف میں لکھا تھا Masukiye۔ شروع میں پڑھنے میں دقت ہوئی لیکن بالآخر سمجھ آ گیا کہ یہ معشوقیے ہے۔ شاعر ہو اور معشوق سے دور رہے‘ کیسے ہو سکتا ہے! میں نے پڑھا کہ یہاں جنگل‘ پہاڑ‘ دریا‘ آبشاریں سب یکجا ہیں تو میرا شوق بڑھ گیا۔ پھر اس جگہ کی تصویروں نے مجھے اسیر کر لیا اور میں نے ترکی روانہ ہونے سے پہلے پاکستان ہی سے ایک ہوٹل کی بکنگ کرا لی تھی۔ معشوقیے شہر نزدیک آتا گیا اور میرا تجسس بڑھتا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نیشنل پارک کا بورڈ آیا۔ یعنی یہ علاقہ ترکی کے نیشنل پارک میں آتا تھا اور یہاں قدرتی حسن اور ماحول کو بعینہٖ برقرار رکھنے کے قواعد لاگو ہوتے تھے۔ تھوڑا آگے بڑھے تو شہر کا مرکزی حصہ شروع ہو گیا جس میں دکانیں‘ بازار (ترکی میں پازار)‘ مسجد وغیرہ تھے۔ لیکن ہمیں اس میدانی جگہ سے اوپر پہاڑوں کی طرف جانا تھا۔ ہمارا ہوٹل شہر سے کچھ اوپر پہاڑی ڈھلانوں پر تھا۔ دونوں طرف بلند پہاڑی درخت تھے جن کے رنگ بارش کے بعد اور نکھر آئے تھے۔ گرد غبار‘ مٹی اور آلودگی کا نشان بھی نہیں تھا۔ ناشپاتی کے درخت جابجا تھے جن پر سبز ناشپاتیاں پیلی ہو رہی تھیں۔ سیب کے درختوں پر سیبوں کے گال سرخ ہو چلے تھے۔ یہ بارش سے بھیگی ہوئی بل کھاتی خوبصورت سڑک تھی جو چڑھائی چڑھتے ہوئے ہر موڑ پر ایک نیا منظر سامنے لاتی تھی۔ شہر پیچھے رہ گیا تھا اور ایک دو کلومیٹر کے بعد سامنے سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دی۔ بائیں طرف ایک موڑ کاٹ کر سڑک پہاڑ پر مزید اوپر چڑھتی تھی۔ دائیں طرف ایک چھوٹی سڑک جاتی تھی اور اس سڑک پر لکڑی کے تنوں سے ایک دروازہ سا بنا ہوا تھا‘ جیسے کسی شہر میں داخل ہونے کا دروازہ ہوتا ہے۔ اس دروازے کے اوپر ترکی حروف میں لکھا ہوا تھا: وادیٔ الا بالِک میں خوش آمدید۔ ہمیں اسی طرف جانا تھا۔ بالِک ترکی میں مچھلی کو کہتے ہیں۔ الا بالِک یعنی ٹرائوٹ مچھلی۔ یہ ٹرائوٹ مچھلی کی وادی تھی جہاں ہوٹل اور ریسٹورنٹ وغیرہ تازہ ٹرائوٹ مچھلی کیلئے مشہور تھے۔ ہم اس سڑک پر مڑے اور دائیں بائیں بورڈ پڑھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ پانچ منٹ کے بعد دائیں طرف میرے ہوٹل کا بورڈ نظر آیا جس پر ترکی میں لکھا ہوا تھا: یزی جیلر ہوٹل۔ Yazicilar Otel۔ یزی جیلر کا مطلب ہے لکھنے والا‘ یعنی مصنف‘ خطاط وغیرہ۔ ایک لکھنے والے کے قیام کیلئے اس سے بہتر جگہ کون سی ہو سکتی تھی۔ ہم ایک چھوٹی سے پُلی سے گزر کر ایک بڑے سے پارکنگ ایریا میں داخل ہوئے۔ یہ بالکل پہاڑ کے دامن میں بنا ہوا ایک ہوٹل تھا۔ اس پارکنگ ایریا سے کئی طرف راستے نکلتے تھے۔ ایک چھوٹی سی نیم پختہ پگڈنڈی پہاڑ پر چڑھتی تھی۔ ایک راستہ پارکنگ کی بغل سے نیچے وادی کی طرف جاتا تھا جس کے کونے پر ایک سووینیئرز کی دکان تھی۔ قدرے بائیں طرف‘ سامنے ہوٹل کی بلڈنگ درختوں کے بیچ سے جھانک کر ہمیں دیکھ رہی تھی۔ جنگل‘ پہاڑ‘ ہریالی‘ سکون۔ قریب ہی کہیں بہتے پانی کی آواز۔ اس جگہ کی خوبصورتی مبہوت کن تھی۔ ہم کچھ پتھریلی سیڑھیاں چڑھے اور بل کھاتے راستے سے گزر کر عمارت میں داخل ہوئے۔ ایک بہت بڑے ڈائننگ ہال کے ایک گوشے میں استقبالیہ تھا‘ لیکن اس کی طرف نظر بعد میں جاتی تھی۔ لکڑی کے بنے ہوئے اس ہال کی چھت کم وبیش تیس فٹ بلند تھی۔ بڑے بڑے لکڑی کے شہتیروں نے دو طرفہ ڈھلانی چھت اپنے کندھوں پر سنبھالی ہوئی تھی۔ چھت کی ڈھلوانیں بتاتی تھیں کہ یہاں سردی میں برف گرا کرتی ہے۔ ایک طرف بڑا سا آتشدان تھا جس میں لکڑی کے کندے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے چشمِ تصور میں وہ منظر دیکھا جہاں اس ہال سے باہر برف گرتی تھی اور عنابی چائے کی چسکیاں لیتے مسافر آتشدان پر ہاتھ تاپتے تھے۔ یہ ہال پرانے ترک طرزِ تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ تھا جس کی آرائش بہت ذوق کے ساتھ کی گئی تھی۔ میں نے استقبالیہ پر اپنا پاسپورٹ دیا لیکن کمرہ دیکھنے سے پہلے میری فرمائش وہ دریا یا ندی دیکھنے کی تھی جس کی تصویریں میں پہلے دیکھ چکا تھا۔ ایک ترک لڑکا ہمیں ہال سے باہر اس کھلے ٹیرس پر لے گیا جہاں لمبے اونچے درختوں کے نیچے‘ لکڑی کی میزیں اور کرسیاں بڑی تعداد میں رکھی تھیں۔ پانی کا شور یہاں تیز تھا۔ ہم ٹیرس کے کنارے پر لگی ریلنگ کی طرف بڑھے۔ کنارے پر لگی میزوں کرسیوں کے درمیان راستہ بنایا اور اب ہم ایک تیز‘ پُرشور‘ گونجتے دریا سے آٹھ دس فٹ اوپر کھڑے تھے۔ یہ دریائے آئگر تھا۔ آئگر ترکی میں طاقتور گھوڑے کو کہتے ہیں۔ اس سرکش منہ زور دریا کو جوان تنومند گھوڑے stallion سے بالکل ٹھیک تشبیہ دی گئی تھی۔ دریائے آئگر کنارے صبح یہاں ناشتہ لگایا جاتا تھا۔ پانی اور ہوا کے شور کے باوجود یہاں سکوت اور سکون تھا۔ ہم نے چاروں طرف کا جائزہ لیا۔ خدایا! اتنا حسن‘ اتنا وافر حسن۔ تیری زمین کتنی خوبصورت ہے۔ حسن یہاں درختوں سے چھن چھن کر زمین پر گرتا تھا۔ دریا سے اٹھ کر ہمارا خیر مقدم کرتا تھا۔ ہلکی رم جھم میں ہمیں بھگوتا تھا‘ اور خوشبودار بھیگی ہوا کے جھونکوں میں ہمارے کپڑوں کے آر پار ہوتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا نہیں کہ تصویر یا وڈیو میں جو دکھایا گیا ہو‘ وہ اصل میں بھی ویسا ہو۔ لیکن ہوٹل والوں نے کوئی مبالغہ نہیں کیا تھا۔ یہ جگہ اصل میں بھی ویسی تھی جیسی کیمرے نے دکھائی تھی۔ یہاں تصویر‘ تصور اور حقیقت سب یکجان ہو جاتے تھے۔ ایسی خوبصورت جگہ پر تین دن گزارنا تو ایک خواب تھا اور میں اسی خواب سے گزر رہا تھا۔
تیسری منزل پر موجود کمرے میں تمام ضروری تمام سہولتیں موجود تھیں۔ ایک دریچہ نیچے دریا کی طرف کھلتا تھا۔ یہاں سے پہاڑ سے اترتا شور مچاتا جھاگ اڑاتا دریا ہر وقت سامنے تھا۔ سامان رکھ کر میں پھر نیچے ڈائننگ ہال میں آ گیا کہ ڈاکٹر محمود اور ڈاکٹر خلیل وہیں میرا انتظار کرتے تھے۔ یہ جگہ خود ان دوستوں کو بھی بہت پسند آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھرانے کیساتھ بھی یہاں ضرور آئیں گے۔ انہیں سکاریا واپس جانا تھا لیکن دو بجے دوپہر سب کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ میں نے اصرار کرکے انہیں کھانے کیلئے روک لیا۔ اس ہوٹل میں اب میں میزبان تھا اور ترک میزبان میرے مہمان۔ اس وادیٔ الا بالک میں سب سے خاص چیز یہاں کی ٹرائوٹ مچھلی تھی‘ سو اسی کا آرڈر دیا گیا۔ لکڑی کی دہکتے توے والی قاب یعنی ہاٹ پلیٹ میز پر رکھی گئی تو پکتی مچھلی کی سنسناتی‘ چھن چھن کرتی آوازوں اور گوشت کی مہک نے بھوک مزید بڑھا دی۔ مرچ مسالے کے بغیر مچھلی کا تصور ہمارے یہاں نہیں ہے لیکن سچ یہ ہے کہ بے مرچ مسالا ایسا ذائقہ میں نے کہیں اور نہیں چکھا۔ یہ شاید پہلے ابالی جاتی ہے۔ لیکن کچھ اور بھی طریقہ ہے جو اسے مزیدار بناتا ہے۔ اب ترکی کھانے پاکستان میں بھی کئی جگہ ملتے ہیں لیکن میرے علم میں اس طرح کی ڈش یہاں نہیں ہے۔ البتہ ترکی میٹھا کنافے پاکستان میں بھی اب ملتا ہے۔ سو اس دن کھانے کے بعد کنافے نے بھی ہماری شکم سیری میں اپنا پورا حصہ ڈالا۔ ترک دوستوں کے جانے کے بعد اب میں تھا‘ وادیٔ الا بالک تھی اور دریائے آئگر۔ ہم تینوں کو تین دن ایک ساتھ گزارنے تھے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved