اگر مارگلہ کی پہاڑیاں اسلام آباد کا قلب ہیں تو ایف نائن پارک اس کے پھیپھڑے ہیں۔ تقریباً 750 ایکڑ پر پھیلا یہ وسیع پارک شہر کے وسط میں واقع ہے۔ عوام کیلئے تفریح گاہ ہونے کے ساتھ یہ جانوروں‘ پرندوں‘ حشرات اور نباتات کا مسکن بھی ہے۔ اس کا افتتاح 1992ء میں ہوا اور مقصد اسلام آباد کے گرین کور کو تحفظ دینا تھا۔ پارک کے پانچ گیٹ ہیں جن میں مہران گیٹ جی نائن‘ بولان گیٹ ایف ٹین‘ خیبر گیٹ ای نائن اور راوی گیٹ ایف ایٹ کی طرف واقع ہیں جبکہ گیٹ نمبر پانچ پارک کے مشرقی جانب راوی گیٹ کے قریب ہی ہے۔ اس پارک کا دوسرا نام فاطمہ جناح پارک ہے۔ یہاں بچوں کا پارک‘ بارہ دری‘ جم‘ سوئمنگ پول‘ ریستوران اور آرٹ گیلری بھی موجود ہیں۔ کورونا کے دوران یہاں شہر کا سب سے بڑا ویکسی نیشن سنٹر قائم کیا گیا تھا۔اس لیے اس پارک میں اب مزید تعمیرات کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہاں گھاس کی باقاعدہ کٹائی‘ واکنگ ٹریکس کی مرمت‘ اضافی لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے‘ بہتر صفائی‘ بچوں کے پارک میں نئے جھولوں‘ ورزش کے مقامات‘ صاف ستھرے باتھ رومز اور پینے کے پانی جیسی سہولتیں درکار ہیں۔ یہ کافی شاپس یا ڈائننگ کی جگہ نہیں بلکہ فطرت سے لطف اندوز ہونے کا مقام ہے جہاں لوگ دوڑ لگا سکیں‘ واک کریں‘ کرکٹ کھیلیں‘ پرندے دیکھیں اور فوٹوگرافی کریں۔ میں نے یہاں پھولوں‘ تتلیوں‘ پرندوں‘ درختوں اور غروبِ آفتاب کی کئی تصاویر بنائی ہیں۔ یہاں بیٹھ کر آسمان دیکھنا‘ گہری سانسیں لینا اور پودوں‘ پھولوں اور پرندوں سے لطف اندوز ہونا ذہنی سکون دیتا ہے۔اسلام آباد کے متوسط طبقے کیلئے یہ پارک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر کوئی گالف کلب‘ مہنگے جم یا پانچ ستارہ ہوٹلوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا‘ نہ ہی سب کی مہنگے سینما گھروں‘ مالز‘ فٹ بال یا کرکٹ کلبوں تک رسائی ہے۔ پکنک‘ واک‘ دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے یا شادی کے فوٹو شوٹ کیلئے ایف نائن پارک ایک ایسی عوامی جگہ ہے جہاں داخلے کیلئے پاس یا فیس درکار نہیں۔
2024ء میں اس پارک میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹے گئے۔ شہریوں کے اعتراض پر کہا گیا کہ صرف وہ درخت کاٹے گئے ہیں جو پولن الرجی پھیلا رہے تھے۔ بعد ازاں شہر کے دیگر حصوں میں بھی بڑے پیمانے پر 'شجر کشی‘ کی گئی۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر کے مطابق شکرپڑیاں‘ فاطمہ جناح پارک‘ پارک روڈ اور ایچ ایٹ میں تعمیرات اور سڑکوں کیلئے درخت کاٹے گئے۔ صرف ایچ ایٹ سیکٹر میں پانچ ایکڑ جنگل ختم کیا گیا‘ اور اس میں صرف پولن پیدا کرنے والے ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے درخت شامل تھے۔ اس سے اسلام آباد کے ماحول پر شدید اثر پڑا اور آلودگی بڑھی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق مارگلہ انکلیو کی سڑک کیلئے دس سے پندرہ ہیکٹر سبزہ ختم کیا گیا‘ جبکہ ایچ ایٹ میں دو سال کے دوران 1.5 سے 6.5 ہیکٹر تک سبزہ ختم ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نئے پودے لگانے کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔ اب حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ ایف نائن پارک میں نئی تعمیرات کی جائیں گی تاہم کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔ اگر یہاں نئی تعمیرات‘ مصنوعی جھیل اور کافی شاپس بنائی جائیں تو درختوں اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر یہ کیسے ممکن ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ ایف نائن پارک کو جیسا ہے‘ ویسا ہی رہنے دینا چاہیے۔ اس کے 750 ایکڑ پر پھیلے جنگل نما ماحول میں بارش کا پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہاں پیدا ہونے والی آکسیجن شہری مفت استعمال کرتے ہیں‘ اسی لیے اسے اسلام آباد کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔ یہ زمین خالی یا فالتو نہیں! یہ ان شہریوں کی تفریح گاہ ہے جو مہنگے کلبوں‘ گالف کلبوں اور مالز کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس پارک میں طوطے‘ کوئل‘ چڑیا‘ مینا‘ کبوتر‘ باز‘ چیل‘ کوے‘ بٹیر‘ ہدہد‘ وُڈپیکر‘ سن برڈ اور دیگر پرندے پائے جاتے ہیں جبکہ سرد ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے پرندے بھی یہاں آتے ہیں۔ یہاں پائے جانے والے جانوروں میں جنگلی سور‘ لومڑی‘ بندر‘ سانپ‘ گلہریاں‘ بلیاں‘ گیدڑ‘ خرگوش اور کتے شامل ہیں۔ تتلیاں‘ شہد کی مکھیاں‘ بیٹل‘ گراس ہاپر‘ لیڈی برڈ‘ بھڑیں‘ مکڑیاں‘ چیونٹیاں اور دیگر حشرات بھی یہاں موجود ہیں۔ یہ سب ایکو سسٹم اور ماحولیاتی توازن کیلئے ضروری ہیں۔ پارک میں پھول‘ پودے‘ جھاڑیاں‘ بیلیں اور مختلف درخت ہیں جن میں پائن‘ پیپل‘ کچنار‘ املتاس‘ بکائن‘ بلیک بورڈ ٹری‘ پیپر ملبری‘ دھریک‘ انجیر‘ نیم‘ کیکر‘ چنار‘ سفیدہ‘ سنبل‘ مورنگا‘ ربڑ پلانٹ‘ آلوش اور سرو شامل ہیں۔ بوگن ویلیا کی بڑی بڑی بیلوں کے علاوہ گلاب اور چنبیلی بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت دنیا کا بڑا چیلنج ہیں۔ کرۂ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے‘ گلیشیرز پگھلنے سے سیلاب آ رہے ہیں اور ہم ہر ایک دو سال بعد سیلاب کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں گرین کور ختم کرکے کافی شاپس یا عمارتیں بنانا درست ہوگا؟ اسلام آباد میں آلودگی اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ ماحولیاتی ماہرین کی طرف سے شہریوں کو کھڑکیاں بند رکھنے‘ الرجی یا دمے کے مریضوں کو ماسک پہننے اور ایئر پیوریفائر چلانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ آلودگی کے حوالے سے ملتان‘ پشاور‘ لاہور‘ فیصل آباد اور گوجرانوالہ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اسلام آباد میں ایف سیون‘ ای الیون اور ایف ایٹ آلودگی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ شہر کا موسمیاتی توازن حد سے زیادہ تعمیرات کے باعث ہی بگڑا ہے؛ گرمی شدید‘ سردیاں مختصر اور بارشیں کم ہوگئی ہیں‘ مگر اشرافیہ اب بھی کنکریٹ اور سیمنٹ سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔اگر ایف نائن پارک کیلئے کچھ کرنا ہے تو وہاں پھلدار درخت لگائے جائیں تاکہ شہری ان کے پھل مفت توڑ کر کھا سکیں۔ پائن‘ کچنار‘ زیتون‘ انجیر‘ مالٹا‘ بیر‘ لوکاٹ‘ آڑو‘ میٹھا‘ فالسہ‘ لیموں‘ جامن‘ شہتوت‘ گلِ نیلم‘ دیودار اور چیڑ کے علاوہ پیپل‘ برگد‘ شیشم‘ گل مہر اور نیم جیسے درخت لگائے جائیں۔ ورنہ دیسی درخت صرف کتابوں میں ہی رہ جائیں گے۔ یہ درخت گرمی برداشت کرتے اور کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ انگور کی بیلیں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ شہریوں کو بھی اپنے گھروں میں پودے لگانے چاہئیں۔ گھروں میں جگہ کم ہو تو املتاس‘ گل مہر‘ کچنار‘ امرود‘ مالٹا اور لیموں لگائے جا سکتے ہیں۔ اگر حکومت آمدنی بڑھانا چاہتی ہے تو پارک میں نئی تعمیرات کے بجائے پہلے سے موجود عمارتیں استعمال کرے۔ پارک کو سرسبز رہنے دیا جائے اور مزید درخت نہ کاٹے جائیں۔ شہر میں سفیدہ‘ پیپر ملبری‘ جنگلی توت‘ کونوکارپس اور پام لگانے سے گریز کیا جائے۔ اگر ایف نائن پارک کا حال بھی ایچ ایٹ‘ شکرپڑیاں اور راول ڈیم جیسا ہوگیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ایف نائن پارک اسلام آباد کا سب سے بڑا کاربن سنک ہے۔ جنگل کاٹنے سے زیرِ زمین پانی ختم ہونے کا خطرہ ہے‘ کیونکہ پارک بارش کا پانی جذب کرتا ہے۔ جی نائن‘ ایف ایٹ اور ایف ٹین میں زیر زمین پانی کی سطح پہلے ہی سینکڑوں فٹ نیچے جا چکی ہے۔ درخت کٹنے سے پرندے‘ جانور‘ حشرات وغیرہ یہاں سے رخصت ہوجائیں گے‘ جس سے مقامی ایکولوجی تباہ ہوگی۔ گرمی مزید بڑھے گی‘ درخت کٹنے سے فطری تنوع بھی متاثر ہو گا۔ درخت کم ہوں گے تو پولن الرجی‘ دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر شہری سانس لینا چاہتے ہیں تو اسلام آباد کے پھیپھڑوں کا تحفظ ضروری ہے۔ چیڑ کا درخت بالغ ہونے میں پچاس سال لیتا ہے جبکہ اسے کاٹنے میں صرف ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ چیڑ کے درخت اسلام آباد کا درجہ حرارت کم رکھنے کیلئے بہت اہم ہیں۔ شہر میں اب تعمیرات کا سلسلہ روک کر اس کے گرین کور کو بچایا جانا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved