اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب قرآن مجید آگاہ فرماتی ہے کہ تمام جانداروں کے دماغ اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ کی صحیح مسلم میں ایک حدیث شریف ہے کہ آدم علیہ السلام کی تمام اولاد کے دل رحمان کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ دل ایسے ہی ہیں جیسے ایک دل ہو۔ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتے ہیں ان دلوں کا رخ متعین فرما دیتے ہیں۔
قارئین کرام! دماغ پر ریسرچ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی کی ریسرچ میرے سامنے آئی ہے۔ اس یونیورسٹی کا نام Queensland ہے۔ اسی یونیورسٹی میں دماغی ریسرچ کا بھی ایک ادارہ ہے۔ اس ادارے نے بالغ انسانی دماغ کے نیورونز کی تعداد ایک سو ارب یعنی ایک کھرب کے قریب بتائی ہے۔ جیسا کہ پچھلے کالم میں راقم نے عرض کیا تھا کہ یہ تعداد ویسے تو 86 ارب بتائی جاتی ہے مگر یہ ایک کھرب بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انعام کہ جب میں مزید ریسرچ کرنے بیٹھا تو وہی ایک کھرب کی تعداد سامنے آ گئی۔ یوں سمجھیے کہ انسانی دماغ میں ایک کھرب درخت ہیں۔ یہ گھنے جنگلات ہیں‘ اُن ایک کھرب درختوں کے جو مختلف اقسام کے ہیں۔ ایک جملہ ملاحظہ ہو جسے کوئینز لینڈ برین انسٹیٹیوٹ نے اپنی ریسرچ کے آغاز میں تحریر کیا ہے:
Neurons are the fundamental units of the brain and nervous system, they are responsible for receiving sensory input from the external world.
ترجمہ: دماغی خلیات دماغ اور اعصابی نظام کے بنیادی اجزا ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہر کی دنیا سے حسّی معلومات کو حاصل کریں۔
جی ہاں! ثابت ہوا کہ دماغی شعور کا تعلق ایسا نہیں کہ وہ نیورونز کی پیداوار ہو بلکہ یہ نیورونز شعوری معلومات حاصل کرتے ہیں تو ہماری اس دنیا سے باہر‘ کسی اور جہان سے حاصل کرتے ہیں۔ جی ہاں! یہ وہ جہان ہے جس کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے۔ ایسا جہان کہ جہاں دماغی اور قلبی کنٹرول اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کے نہ ماننے والوں کی بات غلط ہے جو مادہ پرستی کی ذہنیت کے ساتھ انسانی روح کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک کھرب نیورونز سے ہی شعور پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنے وجود ہی کو اپنا خالق سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ایسے لوگوں سے پوچھتے ہیں: ''کیا وہ بغیر کسی شے کے پیدا کر دیے گئے ہیں‘ یا (پھر ایسا ہے کہ) اپنے خالق وہ خود ہی بن گئے ہیں‘‘ (الطور: 35)۔
اللہ اللہ! یہ لوگ سائنس کا سہارا لے کر لوگوں کو ملحد بناتے ہیں مگر آج جدید ترین سائنس یہ اعلان کر رہی ہے کہ دماغ ایک Receiver ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ریڈیو یا ٹی وی اپنے چینل کے ساتھ ٹیون ہوتا ہے اور ٹی وی سٹیشن سے نشر ہونے والی معلومات کو ریسو کر کے نشتر کر دیتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ ٹی وی یا ریڈیو کا جو ڈھانچہ ہے‘ اس کے اندر جو بجلی کا سرکٹ ہے وہی معلومات بنا بنا کر سنا اور دکھا رہا ہے تو ایسے شخص کو علم سے بے خبر ہی کہا جائے گا۔ خدا اور خالق کے وجود کے منکر بھی ایسے ہی بے خبر ہیں۔
کمپیوٹر کے نظام میں مجرموں (ہیکرز) کی بھی ایک دنیا ہے‘ وہ اس میں گھستے ہیں‘ کسی کے اکائونٹ کا پاس کوڈ معلوم کرکے اس پر قبضہ کر لیتے ہیں اور ڈاکا زنی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ایسے ہی جناتی شیطان‘ حضور کریمﷺ کے فرمان کے مطابق‘ انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہیں۔ یہ کبھی انسانی دماغ میں بیٹھ کر وسوسے پیدا کرتا ہے‘ کبھی دل میں بیٹھ کر یہ کام کرتا ہے۔ چونکہ شیطان انرجی کی ایک قسم ہے لہٰذا وہ انسانی جسم کے باہر سے بھی دماغ اور دل میں وسوسے پیدا کر لیتا ہے اور انسان کو بُری راہوں پر لگا دیتا ہے۔ وساوس کی اس ڈاکا زنی سے بچنے کے لیے زندگی کا پاکیزہ ہونا بہت ضروری ہے۔ پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ وہی نماز حاصلِ نماز ہے جس کا ترجمہ آتا ہو۔ مکمل اور کامل دھیان اپنے خالق اپنے مالک‘ اللہ کی طرف ہو۔ انسان لوگوں کے حقوق کا پاسبان بننے والا ہو۔ دوسروں کے دکھوں کو سہنے والا ہو مگر خود دکھ دینے والا نہ ہو۔ ماں باپ کا فرمانبردار ہو۔ الفت و محبت والا ہو۔ اپنے زیرنگیں لوگوں کو معاف کر دینے والا ہو۔ اخلاق اور کردار میں بلند ہو۔ ایسے شخص کے گرد ایک نورانی دائرہ اور ہالہ بن جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے ''حجاب مستور‘‘ کہا ہے۔ اس دائرے کے اندر ابلیسی انرجی کا سرایت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ وساوس کے ذریعے دماغی اور قلبی خلیات اور نیورونز کو متاثر کرنا مشکل ترین امر بن جاتا ہے۔ اگر کہیں غفلت کی وجہ سے کچھ اثر ہو جائے تو قرآن مجید کی تلاوت اور حضور نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے اذکار سے انسان واپس اپنی فطری حالت پر آ جاتا ہے۔اسی حوالے سے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ''اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو‘ بے شک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے وہ چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں‘‘ (الاعراف:200 تا 201) ۔ رسول کریمﷺ کا صحیح بخاری میں فرمان ہے کہ ''بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے‘ جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا انہیں زبان پر نہ لائیں‘‘۔
آخر پر پاک وطن کی قیادت کو سلام کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو جو شیطانی انرجی کی اکساہٹوں سے آگ بگولہ ہوتے ہیں اور انسانیت کو تباہ کن بارود کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں‘ ان کے منصوبوں کو میرے دیس کی قیادت نے ناکام بنا ڈالا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ''السلام‘‘ ہے۔ یعنی سلامتی دینے والا۔ اس صفاتی نام کو ماننے والا انسان دنیا کی تمام انسانیت کو سلامتی دینے کی کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ''المؤمن‘‘ ہے۔ یعنی امن و امان دینے والا۔ وہ بندہ جو مومن ہے وہ اپنے المؤمن خالق کی رضا کے لیے انسانیت کو امن دینے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس کے دماغ اور دل میں جو مثبت لہریں اٹھ رہی ہیں‘ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چل رہی ہیں۔ درمیان میں کسی شیطانی انرجی کو گھسنے کا یارا نہیں ہوتا۔ الحمدللہ! میرے دیس کی قیادت مسلسل اور لگاتار انسانی امن کے لیے کوشاں ہے۔ اب پھر پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع جناب شہزادہ خالد بن سلمان کو اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابرہیم قالن کو ساتھ لیا اور سیدھے ایران تشریف لے گئے۔ امن کی فاختہ ان شاء اللہ بے خوف ہو کر اڑے گی۔ خلیجی خطے میں بھی اور باقی سارے جہان میں بھی۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ امن کی فیلڈ میں پاسبانِ حرمین شریفین مملکتِ پاکستان کو مزید عزتوں‘ عظمتوں اور سرفرازیوں سے ہمکنار فرمائے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved