دانشور اور صحافی کی تعریف میں ابہام ہے۔ یہی ابہام ان غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے جو اس وقت ہمارے معاشرے کو لاحق ہو گئی ہیں۔
صحافت‘ فنی اعتبار سے خبر کو عوام تک پہنچانا ہے۔ خبر فرد کے بارے میں ہو سکتی ہے اور اداروں کے بارے میں بھی۔ صحافی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کی خبر میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو۔ دانش‘ ایک علمی و فکری مشق کا اظہار ہے جو دستیاب معلومات کو ایک ذہنی عمل سے گزارنے کے بعد ان سے نتائج اخذ کرتی ہے۔ دانشور کی ذمہ داری ہے کہ وہ مصدقہ معلومات کو اپنا ماخذ بنائے اور ان سے وہ نتائج کشید کرے جو فطری ہوں اور ان میں کسی مفاد کے تحت تحریف نہ کی گئی ہو۔ دانشور جب مسلسل اس فکری مشقت سے گزرتا ہے تو سماج‘ سیاست‘ مذہب اور دیگر موضوعات پر بعض نتائج تک پہنچتا ہے۔ اس کا کام ان نتائج کا ابلاغ ہے۔ ان نتائج سے اتفاق کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی۔ صحافی ان معنوں میں غیرجانبدار ہوتا ہے کہ وہ کسی واقعے کو اس طرح رپورٹ کر دیتا ہے جس طرح وہ پیش آتا ہے۔ دانشور اپنا نتیجہ فکر بیان کرتا ہے‘ اس لیے وہ غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔
آج صحافت اور دانش میں امتیاز مشکل ہو گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صحافیوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو واقعات پر غور کرتے اور ذہنی مشقت سے گزرنے کے بعد ایک ورلڈ ویو رکھتے ہیں۔ وہ اس کا ابلاغ بھی کرتے ہیں۔ وہ ایک وقت میں دو کردار ادا کر تے ہیں۔ عام لوگ ان میں تمیز نہیں کرتے۔ اسی لیے وہ ان صحافیوں کو جانبدار قرار دیتے ہیں جب وہ بحیثیت دانشور‘ سیاسی و مذہبی موضوعات پر اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں۔ ایک مثال سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا میں سیاسی پروگراموں کے بعض میزبان دانشور بھی ہیں۔ وہ جب پروگرام میں مہمانوں سے انٹرویو کرتے ہیں تو اس وقت ان سے غیر جانبداری کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سب مہمانوں کو اپنی بات کہنے کے لیے یکساں وقت دیں۔ سب سے ایک جیسا سلوک کریں۔ یہ جب کالم لکھتے ہیں یا خود کسی پروگرام میں بطور مہمان شریک ہوتے ہیں تو اس وقت وہ اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں۔ یہاں ممکن ہے کہ ہم ان کی بعض آرا سے اتفاق نہ کریں۔ اس حیثیت میں ان سے یہ توقع نہیں کی جا نی چاہیے کہ وہ غیر جانبدار رہیں۔ اس حیثیت میں انہیں وہ بات کہنی ہے جسے وہ درست سمجھتے ہیں۔
جو دانشور صحافی نہیں ہے وہ لوگوں کے سامنے اپنا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اپنا مؤقف بیان کرتا ہے۔ اس سے دو چیزوں کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ ایک یہ کہ اس کی معلومات کا ذریعہ مصدقہ اور علم راسخ ہو۔ مثال کے طور پر اگر وہ اسلام پر بات کر رہا ہے تو اس کے مؤقف کی بنیاد قرآن و سنت ہوں۔ دوسرا یہ کہ اس کی دلیل محکم ہو۔ یعنی وہ جو نتائج اخذ کر رہا ہو‘ عقل اسے قبول کرتی ہو۔ اگر ہم اس کے مؤقف کو رد کریں گے تو دو بنیادوں پر۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مقدمے کو قرآن و سنت کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ پر استوار کر رہا ہے۔ یا پھر اس کی بات عقل کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہی معاملہ دیگر شعبوں کا بھی ہے۔ سیاست پر بات کرنے کے لیے سیاسیات‘ تاریخ اور دیگر سماجی علوم کا علم بقدرِ ضرورت لازم ہے۔ مثال کے طور پر اگرکوئی مسلم معاشروں میں مذہبی سیاست پر دانشوری کر رہا ہے تو اسے مسلم سیاسی فکر‘ اسلامی تحریکوں اور ان کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے۔ اگر کوئی پولیٹکل اکانومی پر اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہے تو اسے سیاست و معیشت کے باہمی تعلق سے آگاہی ہونی چاہیے۔
جب معاشرے میں صحافت اور دانشوری کے ایسے مظاہر سامنے آئیں گے تو اس سے ان معاملات پر عوامی آگاہی کی سطح میں بہتری آئے گی۔ عوام کو مصدقہ خبر ملے گی۔ معاشرہ ارتقا سے گزرے گا۔ ایسے معاشرے میں مذہبی و سیاسی جذبات کا استحصال مشکل ہو جائے گا۔ لوگوں کو یہ جاننے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ کس کی بات لائقِ التفات ہے اور کسے نظر انداز کر دینا چاہیے۔ پھر ان وی لاگرز اور کالم نگاروں کا کاروبار ماند پڑ جائے گا جو جہالت پھیلاتے ہیں اور پکڑے نہیں جاتے۔ عوام بہکنے سے محفوظ رہیں گے۔ پھر عوام میں ان سیاستدانوں کی پذیرائی مشکل ہو جائے گی جو مذہب یا ریاست کے نام پر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایک خرابی یہ بھی در آئی ہے کہ ٹی وی پروگراموں کے میزبانوں کو بلا استثنا دانشور سمجھ لیا گیا ہے۔ حکومت دانشوروں کی فہرست بناتی ہے تو ان سے شروع کرتی اور ان پر ختم کر دیتی ہے۔ ان میزبانوں میں دانشور بھی ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر۔ اس سے وہ قضیہ جاگ اٹھتا ہے جس کا تعلق صحافی کی جانبداری یا دانشور کی غیر جانب داری سے ہے۔ اگر یہ فرق سامنے رہے تو ہمیں رائے قائم کرنے میں آسانی رہے۔ اس حوالے سے بعض مقدمات مشترک بھی ہیں۔ مثال کے طور پر آزادیٔ رائے ایک قدر ہے۔ ایک دانشور اس کا دفاع کرے گا کہ اس کے بغیر سماج کا فکری ارتقا ممکن نہیں۔ صحافی اس لیے اس کی حمایت کرے گا کہ اس کے بغیر وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ایک سطح پر یہ بحث جمہوری معاشرے سے جڑ جاتی ہے جو آزادیٔ رائے کو یقینی بناتا ہے۔
دانشور کا تعلق سماج کے فکری ارتقا کے ساتھ ہے۔ اس باب میں اس کے نظریات ہوں گے جن سے اتفاق اور عدم اتفاق‘ دونوں ممکن ہیں۔ اس کو صحافی پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ایک صحافی سے یہ مطالبہ روا نہیں کہ وہ فلاں مہم یا جد وجہد میں کیوں شریک نہیں۔ صحافی اور سیاستدان میں یہی فرق ہے کہ سیاستدان عملی سیاست سے متعلق ہوتا اور صحافی خود کو عملی یا اقتدار کی سیاست سے دور رکھتا ہے۔ اگر وہ سیاسی جلسوں سے خطاب کرنے لگے تو پھر اس کا صحافیانہ تشخص مجروح ہونے لگتا ہے۔ اگر وہ ایک دانشور ہے‘ جس کا پیشہ صحافت ہے تو اس حیثیت میں کسی سیاسی مؤقف کی تائید کر سکتا ہے۔ تاہم دانشور بھی بالعموم اقتدار کی سیاست سے الگ رہتا ہے۔ وہ سیاسی اقدار کے لیے متحرک ہو سکتا ہے‘ کس کو اقتدار تک پہنچانے یا مسندِ اقتدار سے الگ کرنے میں شریک نہیں ہو سکتا۔
ماضی میں بعض رسائل و جرائد ایک خاص سیاسی نقطۂ نظر کی تر ویج کے لیے نکلتے تھے۔ فنی اعتبار سے ان کا نظریاتی صحافت سے تعلق تھا‘ پیشہ ورانہ صحافت سے نہیں۔ جیسے مولانا ابوالکلام آزاد کا 'الہلال‘ یا مولانا ظفر علی خان کا 'زمیندار‘۔ یہ غیر جانبدار نہیں تھے۔ آج کے دور میں جب صحافت کا ذکر ہوتا ہے تو عام طور اس سے مراد پیشہ ورانہ صحافت ہوتی ہے۔ اس لیے صحافت کے غیر جانبدار ہونے کی بحث کی جاتی ہے۔ مولانا آزاد جیسے لوگ دانشور تھے جو ایک خاص زاویۂ نظر رکھتے تھے اور سماج کو اس کے مطابق ڈھالنے کے داعی بھی تھے۔ اگر اس کو صحافت شمار کیا جائے تو آج کے دور میں کالم کو ہم اس روایت کا تسلسل کہہ سکتے ہیں۔ کالم بالعموم دانش کا اظہار ہے اور ظاہر ہے کہ حسبِ توفیق ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت کا حامی ہو سکتا ہے اور مخالف بھی۔ کالم نگار سے‘ اس لیے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ نظریات کے باب میں غیر جانبدار ہو۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved