تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     31-10-2026

واسکوڈے گاما اور میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)

میں نے لزبن پہنچنے سے پہلے ہی ان مقامات کی فہرست تیار کر رکھی تھی جنہیں ہم نے لزبن پہنچنے کے بعد دیکھنا تھا۔ اس فہرست میں دریائے ٹگس کے آخری سرے پر واقع بیلم ٹاور تھا‘ سال 1514ء سے 1520ء کے درمیان تعمیر ہونے والا پتھر کا یہ چوکور حفاظتی برج بحر اوقیانوس سے آ کر دریائے ٹگس کے ذریعے لزبن کی بندرگاہ میں داخل ہونیوالے جہازوں کی نگرانی اور بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں چھوٹے سے دفاعی قلعے کا کام دیتا تھا۔ آج بھی اس دفاعی برج کے اندر پرانے قدیمی منظرنامے کی یاد میں درجن بھر سے زائد پرانی توپیں پڑی ہوئی ہیں‘ جن کی گولہ داغنے والی نالیاں برج کے سامنے اور دائیں بائیں حصے میں موجود خاص اسی کام کیلئے بنائے گئے سوراخوں پر جمی ہوئی ہیں۔ یوں لگتا ہے گویا تاریخ اس جگہ منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔ پرتگال کے باشاہ مینوئل اول کے حکم پر ہلکے پیلے پتھر سے تعمیر شدہ یہ دفاعی برج شاید کبھی کنارے سے کافی ہٹ کر دریا میں واقع ہوگا لیکن اب کنارے پر جمنے والی ریت اور مٹی کے باعث خشکی سے زیادہ دور نہیں رہا۔ برج کے اندر جانے کیلئے ایک بڑے وزنی پل نما تختے سے گزرنا پڑتا ہے۔ زنجیروں اور گراریوں سے منسلک یہ تختہ ایک متحرک پل ہے۔ تختے سے بنے ہوئے اس پل کو برج کے اندر لگی ہوئی گراریاں گھما کر اٹھایا جائے تو یہی تختہ اوپر اٹھ کر برج کے اندر داخلے کے واحد راستے کو بند کر دیتا ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد پہلا کام بیلم ٹاور جانا تھا۔ بیلم ٹاور سے ڈیڑھ دو سو گز پہلے دریائے ٹگس کے کنارے پر ایک یادگار جسے مانیومینٹ آف ڈسکوریز کہتے ہیں بنی ہوئی ہے۔ یہ کنکریٹ سے بحری جہاز کا بنایا گیا اگلا حصہ ہے۔ اس میں اوپر کی طرف جاتا ہوا ایک راستہ ہے جس پر درجنوں لوگ اوپر جا رہے ہیں۔ سب سے اوپر اور آگے پرتگال کے ایک شہزادے الفانتے ڈوم ہینرک‘ جسے ہنری دی نیویگیٹر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ‘کا مجسمہ ہے۔ اس کے بعد بادشاہ الفانسو پنجم کا مجسمہ ہے‘ اس کے پیچھے تیسرے نمبر پر مشہور و معروف جہازران اور پرتگال کے عہد اکتشاف کے ہیرو واسکوڈے گاما کا مجسمہ ہے۔
بچپن میں جب میں نے پہلے پہل واسکوڈے گاما کا نام سنا تو مجھے لگا یہ بھی شاید گاما پہلوان کا کوئی عزیز ہوگا اور ظاہر ہے اس حوالے سے اول اول میں اسے مسلمان ہی سمجھتا رہا۔ ذرا بڑا ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک پرتگالی جہاز ران تھا جس نے یورپ سے ہندوستان کا بحری راستہ دریافت کیا تھا۔ 1498ء میں جب واسکوڈے گاما براعظم افریقہ کے اوپر سے گھوم کر راس اُمید سے ہوتا ہوا ہندوستان کی بندرگاہ کالی کٹ پر پہنچا تو یہ کسی بھی جہاز ران کا یورپ سے ہندوستان کی جانب پہلا سمندری سفر تھا۔ اس بحری مہم نے مستقبل میں یورپی جہازرانوں کا ہندوستان کی جانب راستہ کھول دیا۔ واسکوڈے گاما نے پرتگال سے ہندوستان کیلئے تین بحری سفر کیے۔ اگر واسکوڈے گاما کی ان تین مہمات کا جائزہ لیا جائے تو اس کا دوسرا اور تیسرا تجارتی سفرحقیقت میں نوآبادیاتی توسیع کیلئے کی جانے والی بحری جنگی مہمات کا درجہ رکھتے تھے۔ اس دور میں یورپ اور ایشیا میں ہندوستان کے کپڑے‘ قیمتی پتھروں اور مسالا جات ازقسم جائفل‘ کالی مرچ‘ لونگ‘ دارچینی وغیرہ کی بڑی مانگ تھی اور بہت سے دیگر ممالک سے تاجر حضرات ہندوستان کی منڈیوں سے یہ چیزیں خرید کر لے جاتے تھے۔ ہندوستان کے پہلے سفر کے دوران ہی واسکوڈے گاما اور اس کے ساتھ آنے والی پرتگالی تاجروں نے ہندوستان میں آ کر دیگر غیر ملکی تاجروں کی طرح اس زمانے میں رائج روایتی تجارت کرنے کے بجائے ہندوستان میں اپنا تجارتی مرکز قائم کرنے اور مقامی تاجروں کے ساتھ برابری اور حصہ داری کے علاوہ باقاعدہ غلبہ اور اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ پرتگالی تاجر جو دراصل باقاعدہ مہم جُو بھی تھے‘ نے اپنے تجارت کے خود ساختہ تصور کو بنیاد بناتے ہوئے نوآبادیاتی قسم کے تاجرانہ نظام کو تشکیل دینا شروع کردیا۔ اس نظریۂ تجارت میں کسی قسم کی مقامی رکاوٹ کی صورت میں پرتگالیوں نے زور زبردستی کا رویہ اپنایا۔ واسکوڈے گاما کا 1502ء کا دوسرا سفر تو باقاعدہ مسلح مہم تھی جس میں وہ اپنے ساتھ جنگجو سپاہی اور توپیں بھی لایا۔ اس مرتبہ اس کے سفر کا مقصد کالی کٹ کے حکمران کو زیرنگیں لانے کے ساتھ ساتھ پرتگالی تجارتی مفادات کو طاقت کے ذریعے منوانا تھا۔ انہوں نے Cartaz نامی اپنا ایک بحری تجارتی پرمٹ جاری کیا جس کے تحت ہر بحری جہاز کو پرتگالیوں سے اجازت نامہ لینا پڑتا تھا بصورت دیگر وہ اس جہاز کو لوٹ لیتے یا ڈبو دیتے تھے۔ 1510ء میں پرتگالیوں نے ہندوستان کی بندرگاہ گوا پر حملہ کر کے اسے بیجا پور کے سلطان سے چھین لیا اور اسے ہندوستان میں پرتگالی سلطنت کا دارالحکومت بنا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے دمن‘ دیو اور بمبئی میں قلعے بنا کر ساری بحری تجارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جس کام کا خیال پرتگالیوں کو 1502ء میں آیا تھا برطانویوں نے اس کا آغاز قریب سو سال بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں کیا۔ انگریزوں کا پہلا تجارتی جہاز ''ہیکٹر‘‘ 1608ء میں سورت کی بندر گاہ پر لنگرانداز ہوا۔ لزبن میں کئی جگہ پر واسکوڈے گاما کے مجسمے لگے ہوئے ہیں۔ دریائے ٹگس کے پُل کا نام واسکوڈے گاما کے نام پر ہے۔ لزبن کا بلند ترین ٹاور واسکوڈے گاما ٹاور کہلاتا ہے۔ ایک عدد شاپنگ سنٹر اس مہم جُو کے نام پر ہے اور ایک شاندار پارک کا نام گارڈن واسکوڈے گاما ہے جس میں اس کا مجسمہ لگا ہوا ہے۔ لزبن کو واسکوڈے گاما کا شہر کہا جاتا ہے۔ اس میں شاید سب سے زیادہ مجسمے بھی واسکوڈے گاما کے لگے ہوئے ہیں۔
واسکوڈے گاما نے ہندوستان کے پہلے دو اسفار بادشاہ مینوئل اول کے زمانے میں کیے۔ 1524ء میں جب واسکوڈے گاما ہندوستان کے تیسرے اور آخری سفر پر روانہ ہوا تب پرتگال پر جون سوم کی حکومت تھی۔ بادشاہ نے روانگی سے پہلے واسکوڈے گاما کو ہندوستان کا وائسرائے مقرر کر دیا لیکن عمر نے وفا نہ کی اور وہ کوچین( موجودہ کوچی) میں کرسمس سے ایک دن قبل 24 دسمبر 1524ء کو اگلے جہان رخصت ہو گیا۔ اسے کوچی کے سینٹ فرانسس چرچ میں دفن کر دیا گیا جہاں سے اس کی میت کو چودہ سال بعد 1535ء میں اس کے بیٹے پیڈرو دا گاما نے پرتگال میں کانونٹ آف نوسا سنہورا داس ریلیکواس میں منتقل کروا دیا۔ واسکوڈے گاما کی باقیات اس چرچ میں قریب ساڑھے تین سو سال دفن رہنے کے بعد لزبن کی مشہور چرچ اور خانقاہ جیرانیموس موناسٹری میں منتقل کر دی گئیں۔ یہاں اس کی باقیات ایک سفیدی مائل لیوش پتھر سے بنے ہوئے صندوق نما تابوت میں ہیں جس کی اطراف میں بادبانی جہاز‘ صلیب آرڈر آف کرائسٹ اور آرملری سفیئر (Armillary Sphere) بنے ہوئے ہیں۔ تابوت کے اوپر لیٹے ہوئے واسکوڈے گاما کا مجسمہ ہے جو فنی اعتبار سے قابلِ دید ہے۔ یہ شاندار اور خوبصورت چرچ فن تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے اور لزبن میں اسے دیکھنا ایک لازمہ ہے۔ اس کا مرکزی دروازہ مجسمہ سازی کا ایسا شاہکار ہے کہ اس کی باریکیاں دیکھ کر بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ اس مرکزی دروازے کے قریب ہی چرچ کے نچلے حصے میں واسکوڈے گاما کا تابوت پڑا ہوا ہے اور اس کے مقابل دوسری طرف پرتگال کے مشہور شاعر اور اپنی رزمیہ نظم Os Lusíadas کے حوالے سے عالمی ادب میں نمایاں مقام کے حامل لوئش دی کانوئش کا سنگی تابوت ہے۔ یہ ایک علامتی ترتیب ہے جو پرتگال کی سمندری مہمات اور ان کی ادبی تشکیل کے مابین تعلق کو واضح کرتی ہے۔
میں تابوت کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا کہ زندہ قومیں کس طرح اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ معرکۂ ہِلی کے ہمارے ہیرو میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر) بنگلہ دیش کے ضلع دیناج پور کے گاؤں بوالدار میں دفن ہیں۔ گزشتہ 55سال میں کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ میجر محمد اکرم شہید کی میت کو پاکستان لاکر اسے پورے اعزاز سے دفن کرتی۔ کیا یہ کام اب بھی نہیں ہو سکتا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved