وطن عزیز پاکستان کو آزاد ہوئے 79 سال ہو گئے مگر پھر بھی ہر طرح کے وسائل ہونے کے باوجود ہم محکوم اور مقروض ہیں۔ ہمیں آج تک کوئی ایسا حکمران نہیں ملا جو ہمارے ملک اور اس کے غریب عوام کے بارے میں سوچے۔ ہمارے مقتدر طبقات نے فضول خرچیاں بلکہ شاہ خرچیاں کر کے اس ملک کو کنگال کر دیا ہے۔ کاش وہ فضول خرچیوں کے حوالے سے قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کرتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ قرآن پاک کے آٹھویں پارے کی سورۃ الاعراف کی آیت: 31 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ''کھائو، پیو اور اسراف نہ کرو، بیشک اسراف کرنے والے (فضول خرچ) اسے پسند نہیں‘‘۔ اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات سے صریحاً انحراف کرنے کی وجہ سے ہم بے ادبی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اور اس کی سزا ہمیں آخرت میں تو ملنا ہی ہے‘ اس دنیا میں بھی مل رہی ہے کہ ہمیں قرض کیلئے دنیا بھر میں ہاتھ پھیلانا پڑ رہے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور ان میں سے ایک کروڑ نوے لاکھ بدقسمت بچوں کا تعلق ہمارے ''گڈ گورننس‘‘ والے صوبہ پنجاب سے ہے۔ جبکہ ہمارے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھنے والی ہیں۔ حکمرانوں کے پروٹوکول اور ان کے دفاتر کی تزئین و آرائش کو اور ان کے رہن سہن کو دیکھ لیں تو آپ پر عیاں ہو جائے گا کہ اتنی فضول خرچی ہوتی ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو مالِ مفت سمجھ کر بے رحم طریقے سے خرچ کیا جاتا ہے۔ مقتدر طبقات کی عیش وعشرت کیلئے باہر سے اتنی چیزیں منگوائی جاتی ہیں کہ کروڑوں بلکہ اربوں ڈالرز خرچ کرنا پڑتے ہیں‘ اور کثیر زرمبادلہ ان درآمدات کی نذر ہو جاتا ہے۔
بلاشبہ حکمران طبقہ عوام کے پیسوں سے خریدا گیا ایندھن اور دیگر مراعات مفت استعمال کرتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کے اللوں تللوں اور فضول خرچیوں کی رقم قرضوں سے پوری ہو رہی ہے۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران کھربوں روپے ایسے منصوبوں پر ضائع کر دیے گئے جو عوام کے کام نہ آئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وطنِ عزیز پاکستان 99 ہزار ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ اس بھاری قرض کی وجہ سے ہر پاکستانی بچہ پیدا ہوتے ہی ڈھائی لاکھ روپے کا مقروض ہو جاتا ہے۔ یہ بھاری قرضہ کس نے اتارنا ہے؟ یقینا پاکستان کے عوام نے اپنے ٹیکس کے پیسوں سے یہ قرض اتارنا ہے۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہم پاکستانی من حیث القوم فضول خرچ ہیں اور بدقسمتی سے اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فضول خرچی اور دکھاوے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر امیروں کو دیکھ کر عام لوگ بھی ضرورت سے بڑھ کر فضول خرچی کر رہے ہیں اور اپنی زندگی بھر کی کمائی شادی پر لٹا دیتے ہیں بلکہ دھوم دھام سے شادی کرنے کیلئے قرض اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور پھر عمر بھر اس قرض کے بوجھ سے نہیں نکل پاتے۔ یہ رجحان نہ صرف افراد کے مالی مسائل میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ سماجی اقدار کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور کسی کا منہ لال دیکھ کر خود کو فضول خرچی کے تھپڑ مار مار کر اپنا منہ بھی لال کر لیتے ہیں۔ آج کل شادی بیاہ ایک سادہ تقریب کے بجائے ایک مقابلہ بن چکے ہیں۔ کون زیادہ مہنگا ہال لے گا‘ کس کے کھانے میں زیادہ ڈشز ہوں گی‘ کس کا لباس زیادہ قیمتی ہو گا‘ یہی چیزیں اب شادی کا معیار بن گئی ہیں۔ اس دوڑ میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوتے مگر معاشرے کے دباؤ میں آ کر قرض لے کر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ مشہور ضرب المثل ہے‘ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہ فضول خرچی نہ صرف مالی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ نئے رشتے کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جب ایک خاندان شادی کے لیے قرض لیتا ہے تو اس کا بوجھ کئی سالوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح شادیوں سمیت مختلف تقریبات میں مہنگی بجلی کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوشیوں سے شروع ہونے والا رشتہ فضول خرچی کے باعث پریشانیوں میں گھر جاتا ہے۔ اگر ہم سادگی کو اپنائیں اور اپنے اخراجات کو کم کریں تو ہمارے خاندانوں کی مالی حالت بہتر ہو گی۔
پینے کا صاف پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جبکہ ہم یہ پانی گاڑیوں اور سڑکوں کو دھونے میں استعمال کر کے ضائع کر رہے ہیں۔ بطور مسلمان ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ نماز کیلئے وضو کرنے میں بھی پانی کا ضیاع نہیں کرنا لیکن ہم مساجد میں بھی بے تحاشا پانی ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہم پانی کو اس قدر فضول خرچ کر رہے ہیں کہ زیر زمین پانی کا لیول سینکڑوں فٹ نیچے چلا گیا ہے۔ لاہور جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں پینے کا صاف بڑی مشکل سے میسر ہے اور لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں لیکن اس سب کے باوجود پانی ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔ وقت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں لیکن ہم پاکستانی بحیثیت قوم وقت کو بھی بے درد ی سے ضائع کر رہے ہیں۔ خاص طور پر سرکاری دفاتر میں کام کرنے کے بجائے زیادہ تر وقت گپ شپ میں گزار دیا جاتا ہے‘ بطور قوم ہم نے وقت کی قدر نہیں کی اور یہ وقت اب ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اگر ہم نے وقت کی اب بھی قدر نہ کی اور اس کا درست استعمال نہ کیا تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور فضول گزارا ہوا وقت دوبارہ ہاتھ نہیں آئے گا۔
79 سال سے صرف حکومت بدلی ہے‘ چہرے بدلے‘ پاکستان نہیں بدلا‘ عوام کے حالات نہیں بدلے کیونکہ ملک میں مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے اور لوگ بے روزگاری کی دلدل میں دھنس رہے ہیں‘ امیرلوگ اور امیر ہو گئے اور غریب اپنی دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم فضول خرچی سے باز نہیں آ رہے۔ حکمرانوں کی اربوں کی جائیدادیں ہیں مگر آج بھی غریب لوگ کرائے کے مکان میں رہ کر برسوں گزار دیتے ہیں اور مہنگائی کی وجہ سے اپنا گھر تک نہیں بنا سکتے۔
عوام جب بیمار ہو کر ہسپتال جاتے ہیں تو ان کو بیڈ تک نہیں ملتا۔ اگر ملتا ہے تو دو دو مریض ایک ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہیں یا اتنے زیادہ پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں کہ آدمی بیمار بھی ہو تو ہسپتال کا رخ نہیں کرتا‘ اور ہمارے حکمران ہیں کہ وہ اپنے ملک میں علاج کروانے سے ڈرتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی‘ لوڈشیڈنگ سے برا حال ہو گیا ہے‘ پڑھائی کے اتنے اخراجات ہیں کہ اب لوگ بچوں کو پڑھانے کے بجائے ہنر سکھانے پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگر پڑھ لیں تو ڈگریاں لے کر بھی تو مزدوری ہی کرنی ہے‘ پھر ایسے ہی مزدوری سہی۔
ایک طرف ہمارا حکمران طبقہ بدستور مراعات اور سہولتوں سے مستفید ہونے میں مصروف ہے تو دوسری طرف حسب معمول تمام حکومتی اخراجات اور قرضوں وسود کا بوجھ عام پاکستانی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ملک میں جمہوریت ہو یا آمریت‘ فضول خرچی کی وجہ سے پاکستانی عوام پر قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فضول خرچی گویا ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں پھنسی قوم اس وقت تک نہیں نکل سکتی جب تک کہ وہ خود انحصاری‘ خودداری اور ملکی وسائل‘ اشیا و خدمات کی ترقی پر مبنی راستہ اختیار نہیں کر لیتی اور حکمران طبقہ اپنی مراعات وسہولتوں کا خاتمہ کر کے وسائل کے مطابق خرچ کرنے کو شعار نہیں بنا لیتا۔ لیکن یہاں تو عرصہ دراز سے الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اس طرح تو ملکی ترقی کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved