تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     01-11-2026

مولانا… اقتدار کے بغیر

مولانا فضل الرحمن قومی اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو پورا ایوان گوش بر آواز تھا۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی کہانی سنانا شروع کی‘ اپنے مفاہمانہ کردار کی تفصیل بیان کرتے گئے‘ انہیں بڑی توجہ سے سنا جا رہا تھا۔ وہ بولتے بولتے کچھ پھسلے اور ریاست کا تذکرہ زبان پر آ گیا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ریاست کا لفظ اسٹیبلشمنٹ کے مترادف کے طور پر بولا جانے لگا ہے۔ احزابِ اقتدار و اختلاف میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ریاست سے مراد ریاستی ادارے‘ بلکہ ادارہ لیتے ہیں۔ اہلِ دانش اور صحافت میں سے بھی کئی ریاست کا ذکر اسی انداز میں کرنے لگے ہیں‘ حالانکہ ریاست کسی ایک ادارے کا نہیں‘ اداروں کے مجموعے کا نام ہے۔ مقننہ‘ انتظامیہ اور عدلیہ مل کر ریاست کی تشکیل کرتے ہیں۔ جہاں تک دفاعی اداروں کا تعلق ہے‘ آئین ان کا کوئی الگ تشخص یا حیثیت تسلیم نہیں کرتا‘ وہ انتظامیہ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور اسی کے تحت ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ریاست کے ساتھ اس بے تکلفی کے مرتکب حضرات و خواتین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں ایک ادارہ سب پر حاوی رہا ہے‘ اس لیے ریاست سے مراد اس کو لیا جا سکتا ہے یا لیا جانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں کئی بار مارشل لاء کا نفاذ ہوا ہے‘ آئین منسوخ کیا گیا‘ اور اسے معطل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا‘ ہمارے مارشل لاؤں نے انتظامیہ اور (کسی حد تک) مقننہ کی ذمہ داریاں تو سنبھالیں لیکن عدلیہ سے چھیڑ چھاڑ کم ہی کی ہے۔ اس کے ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے احکامات کی پیروی کو یقینی بنانے کا تاثر دیا جاتا رہا ہے۔ نتیجتاً ملک کا اجتماعی نظم درہم برہم نہیں ہو پایا۔ مارشل لاء جتنی آسانی سے لگا‘ اتنی ہی آسانی سے ر خصت بھی ہو گیا۔ ہم اپنی خامیوں کا تذکرہ تو بآوازِ بلند کرتے رہتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاں جب بھی فوج نے اقتدار سنبھالا ہے‘ ایک ادارے کے طور پر اور ایک اجتماعی فیصلے کے تحت سنبھالا ہے۔ فوجی ہائی کمان کو زیر کر کے یا اس کے خلاف بغاوت کر کے اقتدار سنبھالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پائی۔ جس نے اس حماقت کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی‘ اُسے حوالہ ٔ زنداں کیا گیا‘ مقدمات قائم ہوئے اور اسے طویل عرصے تک قید کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔ میجر جنرل اکبر خان سے لے کر ظہیر الاسلام عباسی تک طویل کہانی بلکہ کہانیاں موجود ہیں۔ پاکستانی فوج کا یہ بھی افتخار ہے کہ اس کے ہاتھوں کسی منصب دار کا ''ماورائے عدالت‘‘ قتل نہیں ہوا۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کے قالب میں ڈھل جانے والے اپنے برادر محترم ہی کو دیکھ لیجیے۔ بنگلہ بندھو سے لے کر جنرل ضیاء الرحمن تک ڈھیروں خون تاریخ کے صفحات پر بکھرا ہوا ہے۔ پاکستان میں صرف ایک سابق وزیراعظم کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا‘ اور وہ بھی باقاعدہ مقدمہ چلا کر‘ سول عدالت کے ذریعے۔ پہلے ہائی کورٹ میں اور پھر سپریم کورٹ میں کئی ماہ سماعت ہوئی۔ وکلائے صفائی نے دل کھول کر دلائل دیے‘ ملزم نے بھی خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ طویل تحریری فیصلے نے اس کا جرم ثابت کیا۔ اس مقدمے کے مدعی احمد رضا قصوری آج بھی ہمارے درمیان سرگرم ہیں۔ انہوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر اظہارِ تشکر کیا اور آج تک اس فیصلے کو انصاف کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے موجود ہیں‘ سپریم کورٹ کے اندر بھی موجود رہے ہیں اور ان میں سے چند نے اس فیصلے کے خلاف فیصلہ بھی داغ دیا ہے‘ لیکن کہنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مارشل لاء نے یکطرفہ طور پر کسی سیاستدان یا عہدیدار کا خون اپنی گردن پر نہیں لیا۔ ہماری فوج نے (بحیثیت مجموعی) قوانین اور قواعد کی پابندی کو برقرار رکھنے کی سعی کی ہے یا اس کا تاثر دیے رکھا ہے جس سے ہمارا ریاستی ڈھانچہ الحمدللہ اپنے پاؤں پر کھڑا رہا ہے۔ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں نکل گئی۔ عرض یہ کرنا مقصود تھا کہ مولانا ریاست کی من مانی تشریح کر کے اس پر چڑھ دوڑے تو ان کی گرفت ہونی چاہیے تھی اور اب بھی ان کی خدمت میں عرض کیا جانا چاہیے کہ وہ علم سیاسیات کی اصطلاحات کو ان کے معروف معانی میں استعمال کریں تو یہ فقہ حنفیہ کے عین مطابق ہو گا‘ اور اس پر فقہ جعفریہ کی رُو سے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکے گا۔ مولانا فضل الرحمن ماشاء اللہ 73برس کے ہو چکے۔ وہ کوئی لا ابالی نوجوان تو ہیں نہیں کہ انہیں شک کا فائدہ دے دیا جائے۔ وہ ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر بولنے پر قادر ہیں۔ اردو اور عربی کے ساتھ ساتھ فارسی اور انگریزی پر بھی نظر رکھتے ہیں‘ اس لیے ذومعنی گفتگو سے گریز ہی ان کے شایانِ شان ہو گا۔
مولانا کئی دہائیاں سیاست میں گزار چکے‘ انہوں نے آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کی توانائی کے لیے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ طاقت کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کے دعویدار جتھوں کا جس طرح انہوں نے منہ موڑا‘ ان کے سامنے جس طرح دیوارِ چین بن کر کھڑے رہے اور اپنے ساتھیوں کے خون کا نذرانہ جس طرح پیش کیا‘ وہ سب تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔ ان کی شخصیت اور ان کی جماعت قابلِ فخر ہیں‘ وہ ہماری جمہوریت کا اثاثہ ہیں۔ ان سے اختلاف ہونا چاہیے‘ ان پر تنقید بھی کی جانی چاہیے‘ لیکن ان کی شخصیت اور حیثیت کا انکار ریاستِ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ یہ جو وزرائے کرام ان پر جھپٹ رہے ہیں اور اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پا رہے‘ یہ حکومت کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ دلیل اور ادب کے ساتھ اپنی بات کیجیے‘ الفاظ کا صحیح انتخاب سیکھیے۔ اردو ادب کا نہیں تو گرائمر ہی کا مطالعہ کر لیجیے۔ بھونڈے الزامات نہ لگایے‘ مولانا جو کچھ بھی ہیں اور جیسے بھی ہیں ان کا دم غنیمت ہے۔ پاکستانی قوم انہیں اچھی طرح جانتی ہے‘ ان کا اعتراف کرتی اور اُنہیں تسلیم کرتی ہے۔ وہ اقتدار کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں اور الحمد للہ رہ رہے ہیں۔ اقتدار کو ان سے ٹکرانا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
لاہور جمخانہ پر حملہ
لاہور کا جم خانہ کلب آج کل حملوں کی زد میں ہے۔ اس کی عمر ایک سو سال سے کہیں زائد ہے۔ اسے اشرافیہ کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے زمین چھین لینے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں جبکہ یہ جمہوری انداز میں کام کرنے والا ایک ادارہ ہے‘ جس کے ہزاروں ممبروں میں سرکاری افسروں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ پروفیسر‘ اہلِ صحافت‘ اہلِ تجارت غرض کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں۔ پنجاب حکومت نے اسے زمین کرائے پر دے کرپورے لاہور پر احسان کیا ہے۔ اس کے وسیع و عریض سبزہ زار لاہور کے شہریوں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں‘ فضا کی کثافت کو نگل جاتے ہیں۔ یہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ ادبی‘ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی بڑا مرکز ہے۔ اس کی جگہ عمارات تعمیر کرنے کی نہ قانون اجازت دے سکتا ہے‘ نہ لاہور کے شہری۔ اگر ثقافتی اور تہذیبی مراکز کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو یہ کہیں رکے گا نہیں‘ لاہور کیا پورے پنجاب کو کھنڈر بنا کر رہے گا۔ انگریزوں کی عطا کردہ جاگیروں اور زمینداریوں کا تحفظ کرنے والے یہ نوٹ کر لیں کہ بے معنی اور کھوکھلے الفاظ کی جگالی کسی کام نہیں آئے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے درخواست ہے کہ ریٹائرڈ یا حاضر سروس انقلابیوں سے ہوشیار رہیں۔ لاہور کا چہرہ مسخ نہ ہونے دیں‘ اس کا دم نہ گھٹنے دیں۔ اس کے سبزہ زاروں پر لوہے اور سیمنٹ کا تسلط نہ ہونے دیں۔ اس کے پھیپھڑوں کی چیر پھاڑ کسی کو نہ کرنے دیں۔ لاہور کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ دستورِ پاکستان کا تقاضا بھی ہے کہ تعلیمی‘ تفریحی‘ سماجی اور سپورٹس کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved