تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     01-11-2026

جنرل کاکڑ نے عزت کیسے کمائی

سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی وفات پر جس طرح انہیں ہر شعبۂ فکر کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے‘ وہ پاکستان میں ایک غیر معمولی بات سمجھی جائے گی۔ اگرچہ بہت سے لوگ کہیں گے کہ اس میں ایسی کیا غیرمعمولی بات ہوسکتی ہے کہ ایک اچھے پروفیشنل فوجی کمانڈر کا اسی طرح عزت او احترام کیا جانا چاہیے جیسے جنرل کاکڑ کا کیا گیا ہے۔ آپ لوگوں نے امریکہ میں سفر کے دوران نوٹ کیا ہوگا کہ جب وہاں مقامی ایئرپورٹس پر فلائٹ بورڈنگ ہونے لگتی ہے تو معذور؍بچوں کے بعد امریکی فوجیوں کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ مسافروں میں موجود ہیں تو آگے آئیں اور پہلے سوار ہوں۔ یہ وہ عزت ہے جو عوام اپنے فوجیوں کیلئے رکھتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو جنرل ایوب دور سے ان دہائیوں میں اگر کسی آرمی چیف کو غیرمتنازع سمجھا گیا تو وہ یہی جنرل کاکڑ تھے حالانکہ ان کے دور میں ہی صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کو ایک ساتھ گھر جانا پڑا جو اس سے پہلے ملکی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ فوج کے اندر بغاوت بھی پکڑی گئی تھی‘ اس کے باوجود انہیں غیرمتنازع سمجھا گیا اور ان کی عزت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک ہی بڑی وجہ ہے جو انہیں جنرل ایوب‘ جنرل ضیا‘ جنرل مشرف‘ جنرل کیانی‘ جنرل باجوہ اور دیگر سے ممتاز کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے تین سال کی مدتِ ملازمت پوری کی اور گھر چلے گئے۔ ہوسکتا ہے آپ کہیں کہ اس فارمولے پر تو جنرل اسلم بیگ‘ جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل راحیل شریف بھی پورے اترتے ہیں۔ یقینا ایسا ہے لیکن ایک بڑا فرق ہے۔ جنرل بیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ بھی مدتِ ملازمت میں توسیع چاہتے تھے‘ مارشل لاء کا بھی سوچ رہے تھے۔ میجر عامر اکثر بتاتے ہیں کہ نواز شریف کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اگلے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان جلدی کر دیں تو اِن کا منصوبہ خراب ہوسکتا ہے اور وہی ہوا جب جنرل آصف نواز کا اعلان پہلے کیا گیا۔ اس طرح جہانگیر کرامت نے متنازع بیان کے بعد خود استعفیٰ دے دیا‘ لہٰذا ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا اور دوسرے میرے خیال میں انہیں بھی کارما لے ڈوبا کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کی حکومت مدتِ ملازمت مکمل ہونے سے پہلے ختم کرائی ‘ جنہوں نے انہیں آرمی چیف لگایا تھا۔ یوں جنرل کرامت خود بھی اپنی مدتِ ملازمت پوری نہ کرسکے۔ اس طرح جنرل راحیل شریف کے بارے اب یہ راز نہیں رہا کہ وہ مدتِ ملازمت میں توسیع چاہتے تھے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان بھی سرتوڑ کوشش کررہے تھے کہ انہیں ایک سال ہی مل جائے تاکہ ایک سال بعد وہ آرمی چیف بننے کے اہل ہو جائیں اور وزیر اعظم ہاؤس میں اپنے تعلقات کے ذریعے اپنے لیے کچھ کرشمہ کر گزریں۔ جنرل باجوہ نے چیف بنتے ہی انہیں ہٹایا اور پھر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ یوں دیکھا جائے تو اکیلے جنرل کاکڑ ہی بچتے ہیں جو اِن سب سے الگ تھے۔ جنرل کاکڑ کی آرمی چیف بننے کے داستان بھی دلچسپ ہے۔ جنرل آصف نواز کی اچانک موت سے نئے چیف کی تقرری کا سوال اٹھا تو نواز شریف اور غلام اسحاق خان میں ایشو پیدا ہوگیا۔ اس وقت متوقع طور پر لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی (ویسے کتنا خوبصورت نام ہے) اور جنرل فرخ کے نام آرہے تھے۔ جنرل فرخ پر نواز شریف کو اعتراض تھا جبکہ رحم دل بھٹی کو ایک پروفیشنل سولجر سمجھا جاتا تھا۔ اب جب پھڈا ہوا تو اس وقت نواز شریف کیمپ سے چوہدری نثار علی خان اور صدر کیمپ سے روائیداد خان فائر فائٹنگ کیلئے ایکٹو ہوئے تاکہ اس ڈیڈ لاک کو توڑا جائے۔ اس وقت ڈیڈ لاک اتنا شدید ہوچکا تھا کہ جنرل آصف نواز کے جنازے پر نواز شریف اور اسحاق خان نے ایک دوسرے سے دعا سلام تک نہ کی۔ غلام اسحاق خان کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر آرمی چیف کی تقرری کرنا ان کا حق تھا اور نواز شریف نے صرف ناموں کی سمری بھیجنی تھی جبکہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم ہیں اور آرمی چیف نے ان کے ساتھ کام کرنا تھا نہ کہ صدر کے ساتھ ‘لہٰذا چوائس ان کا ہونا چاہیے۔ یوں جب بات بڑھی تو پھر سوچا گیا چلیں نہ نواز شریف کا جنرل نہ ہی اسحاق خان کا ‘ کوئی تیسرا ڈھونڈتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اپنے بھائی جنرل افتخار علی خان کی وجہ سے جرنیلوں کو جانتے تھے۔ (جنرل مشرف کو بھی چوہدری نثار کی تجویز پر آرمی چیف لگایا گیا)۔ یوں چوہدری نثار کو جنرل عبدالوحید کاکڑ کا نام دیا گیا جو انہوں نے روائیداد خان کے آگے رکھا۔ نثار علی خان کو یقین تھا کہ وہ اس نام پر اعتراض نہیں کریں گے کیونکہ جنرل کاکڑ بھی صدر اسحاق خان اور ان کے مشیر خاص روائیداد خان کی طرح پشتون تھے اور وہ ایک پشتون آرمی چیف لانے کا موقع ضائع نہیں کریں گے۔ اگرچہ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف کو اس وجہ سے ہی کچھ خدشات ضرور تھے لیکن چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو تسلی دی کہ جنرل کاکڑ ایک پروفیشنل فوجی ہیں۔یوں اسحاق خان نے بھی فوراً رضامندگی ظاہر کر دی اگرچہ بعد میں جو کچھ ہوا اس سے نواز شریف کا خدشہ کسی حد تک ٹھیک ثابت ہوا‘ لیکن ایک اہم دوست جو اُن دنوں کے ان تمام حالات سے واقف ہیں‘ کا کہنا تھا کہ جنرل کاکڑ نے نواز شریف کو استعفیٰ کیلئے نہیں کہا تھا بلکہ یہ نواز شریف کی پیشکش تھی کہ وہ بھی مستعفی ہوتے ہیں اور وہ صدر کو بھی کرائیں‘ نئے الیکشن کرا لیتے ہیں۔ نواز شریف کو یقین تھا کہ اس طرح صدر اسحاق جن کے ابھی کچھ سال باقی تھے وہ واپس نہیں آسکیں گے جبکہ وہ مقبولیت کی بنیاد پر دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے۔ یوں اگر کسی کو ہرٹ ہوناچاہیے تو وہ صدر اسحاق اور روائیداد خان اور اجلال حیدر زیدی ہوں گے جنہوں نے کاکڑ کو چیف لگایا تھا۔
جب بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہوں نے جنرل کاکڑ کو دفتر بلایا اور کہا کہ وہ ان کی ایک سال مدت ملازمت میں توسیع کررہی ہیں۔ جنرل کاکڑ جو وردی میں تھے‘ کھڑے ہوئے اور سیلوٹ مار کر کہا: شکریہ میڈم پرائم منسٹر میں تین سال پورے ہوتے ہی وردی اور بوٹ اتار دوں گا۔ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا: ہم آرمی چیف کی تقرری کا دورانیہ چار سال کر دیتے ہیں۔ اس پر جنرل کاکڑ نے جواب دیا: اچھا خیال ہے‘تین سال واقعی کم ہوتے ہیں‘ چار سال کر دیں لیکن یہ کام آپ میری ریٹائرمنٹ کے بعد کریں اور نئے چیف کی تقرری چار سال کیلئے کر دیں۔ میرے دور سے ہوئی تو سمجھا جائے گا کہ میں نے کرائی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی نے جنرل کاکڑ کو کسی تقریب‘ میڈیا ‘انٹرویو یا سماجی محافل میں نہیں دیکھا۔ مجھے یاد ہے 2003-04ء میں اپنی کتاب ''ایک سیاست کئی کہانیاں ‘‘پر کام کررہا تھا تو پنڈی میں جنرل علی قلی خان سے ملا تھا۔ اُن کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے کہ ایک باریش خوبصورت نوجوان اندر آیا تو جنرل قلی نے تعارف کرایا کہ یہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے بیٹے ہیں‘ وہ ساتھ والے گھر میں رہتے ہیں۔ اب اس پس منظر میں جب پاکستان میں ہر دوسرا سول یا فوجی عہدیدار اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر کسی دوسرے کو موقع نہیں دینا چاہتا لیکن اس روایتی کلچر میں آپ خود ہی وردی اور بوٹ اتار دیتے ہیں حالانکہ امریکہ اور بینظیر بھٹو آپ کو بار بار پیشکش کررہے ہیں‘ ایسے آرمی چیف کی کون عمر بھر عزت نہیں کرے گا۔ وہی بات کہ بندہ عہدے‘ مال و دولت کما لیتا ہے لیکن لوگوں کی عزت کمانا بہت مشکل ہے۔ اس کیلئے اپنے اندر کے لالچ‘ خواہشات کو مارنا پڑتا ہے۔ سات دریا اور سات جنگل عبور کرنا پڑتے ہیں۔ خود سے لڑنا پڑتا ہے۔ سادھو سنت ‘فقیر والی قناعت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ جو زندگی کے اس کڑے امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور پاور حاصل کرنے کی اپنی اندھا دھند خواہشات کو شکست دیتے ہیں وہی سکندر کہلاتے ہیں۔ وہی زندگی اور موت کے بعد عزت کماتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved