تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     01-11-2026

مفاہمت اور پارلیمانی سیاست

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کی قیادت ہر وہ کام کر رہی ہے جو اسے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ اگر پہلے دانشمندی سے کام لیا ہوتا تو صوبائی حکومت کو بچایا جا سکتا تھا۔ پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کر دی ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر اتفاق کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ یعنی وہی علی امین گنڈا پور جن پر کچھ عرصہ پہلے پارٹی کا ایک دھڑا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ تھا اب انہی کا نام مذاکرات کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ اس نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو بنایا جس کی وجہ سے پارٹی کو مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔ پارٹی قیادت آج جس نتیجے پر پہنچی ہے اگر پہلے ہی حالات کی سنگینی کا ادارک کر لیا جاتا تو پارٹی ساکھ اور صوبائی حکومت دونوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ آج پی ٹی آئی دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کی بات ماننے کے لیے تیار ہے‘ اگر یہی بات سہیل آفریدی اُس وقت کر دیتے جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی اور وفاق کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آتی۔
جمہوری معاشروں میں مذاکرات کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو اس سے بہتر کوئی راستہ ہو نہیں سکتا‘ تاہم پوزیشن پر فرق ضرور پڑے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک پی ٹی آئی اپنی شرائط سے نیچے آنے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں تھی مگر اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ احتجاج کا طوفان ناکامی کا داغ اپنے ماتھے پر سجائے تھم چکا ہے۔ صوبائی حکومت‘ جسے بوقتِ ضرورت ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا‘ وہ ختم ہو چکی ہے۔ اب اگر وفاق کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلتا ہے تو وفاقی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ اس وقت مذاکرات پی ٹی آئی کی ضرورت ہیں‘ سو وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے کمزور پوائنٹ کا فائدہ اٹھائے گی۔ اس بدلتی سیاسی صورتحال میں یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا ضروری ہے کہ کسی جماعت کی بقا کا دارومدار وقت کے درست ادراک پر ہوتا ہے‘ مگر تحریک انصاف نے ہر موڑ پر تصادم کو ترجیح دی جس نے ریاست اور جماعت کے درمیان خلیج کو اس حد تک بڑھا دیا کہ اب معمولی نوعیت کا ریلیف حاصل کرنے کے لیے بھی طویل اور کٹھن مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
وفاق میں شامل جماعتوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا تو دہشت گردی اور بیڈ گورننس کو جواز بنایا۔ اس ضمن میں وفاق نے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے کر خصوصی فنڈز کا اجرا کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان اقدامات کے لیے کم از کم چھ ماہ کی مدت درکار ہو گی کیونکہ وفاقی حکومت اگر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بغیر ایمرجنسی اور گورنر راج کو ختم کرتی ہے تو اسے موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے کیا حاصل کر لیا؟ ہماری اطلاعات کے مطابق وفاق اور مقتدرہ کی طرف سے پی ٹی آئی کے لیے اگلے چھ ماہ تک کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اگر وفاق کی بات چیت شروع ہوتی ہے تو اس میں خیبر پختونخوا کی حکومت بحالی کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گی۔ پی ٹی آئی بہت کچھ حاصل نہیں کر سکے گی۔ اگر کچھ حاصل کیا بھی تو وہ خان صاحب کے علاج معالجے میں ریلیف ہو گا۔ اس وقت تمام پتے حکومت کے پاس ہیں اور پی ٹی آئی کو اپنی کھوئی ہوئی چیزیں واپس پانے کے لیے کافی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ کوئی جماعت ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہے اور اپنی حکمت عملی میں سختی کا عنصر غالب رکھتی ہے تو وقتی جذباتی جوش تو بلند رہتا ہے لیکن تنظیمی اور انتظامی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کا معزول انتظامی سیٹ اَپ اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل اور عوامی تائید کے باوجود اگر بروقت درست فیصلے نہ کیے جائیں تو طاقت کے توازن کا پلڑا مخالف فریق کے حق میں جھک جاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں جو لائحہ عمل ترتیب دیا ہے‘ اس کا مقصد نہ صرف صوبے میں امن و امان کی مستقل بحالی ہے بلکہ پی ٹی آئی کے اثر و رسوخ کو قانون اور انتظامی دائرے میں محدود کرنا بھی ہے۔ ایسے میں پارلیمانی پارٹی کا دیر سے جاگنے کا احساس اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کے اندر سنجیدہ حلقے جذباتی سیاست کے نتائج سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں اور وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سوشل میڈیا پر موجود گروہ کی جانب سے پیدا کی جانے والی مشکلات بھی زیر بحث آئیں‘ جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ ایک دور میں پی ٹی آئی کے لیے پلس پوائنٹ سمجھا جانے والا سوشل میڈیا اب بے قابو جن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مفاہمت اور مزاحمت کے اس بیانیے نے تحریک انصاف کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے پاس کھونے کے لیے تو بہت کچھ تھا مگر پانے کے لیے راستے دشوار ہو چکے ہیں۔ دونوں ایوانوں میں قائد حزبِ اختلاف کے لیے دوسری جماعتوں کو فوقیت دینا ایسی غلطی تھی جس کی تلافی آسان نہیں۔ اگر آج پارٹی قیادت ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر مضبوط اور متفقہ پالیسی کے تحت آگے بڑھتی ہے تب بھی اسے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سیاسی میدان میں اس وقت اس کی قیمت بہت کم ہے۔ آنے والے مہینوں میں اگر سنجیدہ ڈائیلاگ شروع ہوتا بھی ہے تو وہ صرف اور صرف شخصی سطح پر چند انسانی بنیادوں پر دی جانے والی سہولیات یا ریلیف تک محدود رہنے کا احتمال ہے کیونکہ ریاستی مشینری صوبائی حکومت کی بحالی کو فی الحال اپنے ایجنڈے پر فوقیت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ملک کے موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تحریک انصاف کے لیے نعرے بازی اور بے سود احتجاجی سیاست کی سوچ سے نکل کر مؤثر پارلیمانی اپوزیشن کے سانچے میں ڈھلنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ پارلیمانی میدان اور آئینی فورمز کا عملی استعمال ہی کسی سیاسی قوت کے لیے عوامی مقبولیت کو پائیدار نتائج میں بدلنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر صوبائی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے سامنے آنے والا مفاہمتی رجحان کسی عارضی دباؤ کا نتیجہ یا وقت گزاری کی حکمتِ عملی ثابت ہوا تو اس کے نتیجے میں پارٹی کے لیے سیاسی بحران اور تنہائی کے دائرے مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔ اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جو سیاسی جماعتیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں لاتیں وہ بالآخر قومی منظرنامے پر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved