تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     01-11-2026

گڈ گورننس اور غذائی تحفظ کا مستقبل

گڈ گورننس کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ اس میں عوامی اعتماد‘ یکساں احتساب‘ بدعنوانی کی روک تھام‘ مؤثر عوامی خدمات‘ خطرات پر قابو پانے کیلئے بہترین انتظام‘ استحکام‘ بالخصوص عوام کی فلاح کیلئے مؤثر اقدامات‘ عدم مساوات اور سماجی انتشار و اضطراب میں کمی شامل ہیں۔ کوئی بھی ملک مؤثر گورننس میکانزم کے بغیر نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ نہ ہی وہ اقوامِ عالم کے ساتھ مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ مادرِ وطن 79برسوں سے گڈ گورننس کی ان تمام خصوصیات سے محروم ہے۔ جمہوری نظام میں تعطل‘ احتساب کا فقدان‘ بدعنوانی اور قانون کی حکمرانی کی عدم دستیابی ملک میں بہترین حکمرانی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ لہٰذا راقم الحروف اپنے کالم کے ذریعے ایسے نکات کا تجزیہ پیش کرنے لگا ہے جو ایک بہترین نظامِ حکومت کی بنیادیں ہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں قوانین کا اطلاق طاقتور اور کمزور‘ دونوں پر یکساں ہو۔ حکومتی فیصلے عوامی مفاد میں کیے جائیں اور ہر ادارہ اپنی کارکردگی کیلئے جواب دہ ہو۔ دیانتدار قیادت‘ احتساب اور مؤثر حکومتی ڈھانچے کے ذریعے پاکستان اپنی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روشن مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ Honesty is the best policy ہی گڈ گورننس کا اہم اصول ہے۔ یونین کونسل‘ ٹاؤن کمیٹی‘ ضلعی کونسل‘ میٹروپولیٹن کارپوریشن‘ صوبائی و وفاقی حکومت اسکا بنیادی ڈھانچہ ہیں۔ بہترین حکومت دو اہم ماڈلز کے تحت کام کرتی ہے: حکمرانی اور خدمات کی فراہمی۔ جبکہ مقامی بلدیاتی حکومتوں کے بغیر شہریوں کے بنیادی حقوق اور ضروریات کی آئینی ضمانتوں کو یقینی بنانا مشکل ہے۔ ہماری حکمرانی کا ماڈل تین بڑے شعبوں پر مشتمل ہے‘ جن میں لیڈرشپ‘ Execution Pillar اور معاون عناصر شامل ہیں۔
گڈ گورننس کا تصور صرف انتظامی مسائل کا حل نہیں بلکہ آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ‘ زرعی اراضی پر غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی یلغار‘ پانی کے بحران‘ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص حکمرانی کی بدولت غذائی تحفظ کے حوالے سے قومی سلامتی کیلئے بھی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ ملک عزیز 2021ء میں زرعی طور پر خود کفیل تھا مگر اب گلوبل ہنگر انڈیکس میں 122 ممالک میں سے 106ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خوراک کی قلت نے بڑی بڑی ریاستوں کے استحکام کو متاثر کیا‘ معاشرتی بے چینی کو جنم دیا اور حکومتوں کو شدید عوامی دباؤ سے دوچار کیا۔ آج جب دنیا جنگوں‘ موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی مہنگائی جیسے چیلنجز سے گزر رہی ہے‘ پاکستان کیلئے غذائی تحفظ کا معاملہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کیا وسیع ہاؤسنگ سوسائٹیاں کسی ملک کی حقیقی خوشحالی کا معیار بن سکتی ہیں؟ روس‘ یوکرین جنگ سمیت حالیہ عالمی واقعات‘ سپلائی چین سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل اور دنیا بھر میں غذائی تحفظ کی کمی کو دیکھتے ہوئے اب اس ممکنہ خطرے پر بھرپور توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ ماہرین مستقبل میں خوراک کی ممکنہ قلت سے بچاؤ کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دراصل روس‘ یوکرین تنازع سے پہلے بھی عالمی معیشت کو متعدد انسانی تنازعات‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات‘ قدرتی آفات‘ کووڈ19 اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ یوکرین کو دنیا میں غذائی اجناس کی فراہمی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ روس یوکرین جنگ نے غذائی تحفظ کے مسائل کو غیرمعمولی حد تک بڑھا دیا ہے‘ جس سے قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر بحیرۂ اسود میں ترسیل کیلئے بحری جہازوں کے بیمے کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے‘ جس سے بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے وہ ممالک جو روس یا یوکرین سے غذائی اجناس درآمد کرتے تھے‘ اب انہیں اچانک کینیڈا یا آسٹریلیا جیسے ممالک سے خوراک خریدنا پڑ رہی ہے۔ طویل فاصلے کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات سمیت خوراک مزید مہنگی ہو گی۔ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں میں غذائی تحفظ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے متعدد پروگراموں پر کام جاری ہے۔ جیسا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا‘ منافع بخش اور ماحول دوست زرعی نظام کو فروغ دینا‘ خوراک کے ضیاع میں کمی اور مؤثر تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا۔ قارئین کی آگاہی کیلئے مذکورہ پس منظر بیان کیا گیا ہے۔
پاکستان میں غذائی تحفظ کے مسائل تیزی سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس مسئلے پر حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ منصوبہ نظر نہیں آتا‘ نہ ہی اس مسئلے پر کوئی بات کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کو جن مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ان میں ایک بڑا چیلنج آبادی میں تیزی سے اضافے کو سنبھالنا اور زرعی زمینوں میں مسلسل کمی کو روکنا ہے۔ شہری آبادی میں بے قابو اضافہ ایک عالمی رجحان ہے‘ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں‘ جہاں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ بہتر مواقع‘ تعلیم‘ ملازمتوں اور کاروبار کیلئے دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جتنی زیادہ آبادی ایک جگہ جمع ہو گی‘ خصوصاً ان غریب ممالک میں جہاں زمین کے وسائل محدود ہیں‘ اتنا ہی زیادہ دباؤ دستیاب وسائل پر پڑے گا۔
دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی‘ معاشی اور ماحولیاتی صورتحال نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ مستقبل کی بڑی جنگیں صرف سرحدوں‘ وسائل اور جغرافیائی حدود پر نہیں لڑی جائیں گی بلکہ خوراک اور پانی کا تحفظ بھی عالمی طاقتوں کے درمیان اہم ترین سٹرٹیجک ایشوز میں شامل ہو چکا ہے۔ جس ریاست کے پاس اپنی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں وہ نہ صرف عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کی محتاج رہے گی بلکہ کسی بھی بین الاقوامی بحران کے دوران اسے شدید معاشی و سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک جانب آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف زرعی رقبہ رہائشی منصوبوں کی نذر ہو رہا ہے‘ اور ناقص طرزِ حکمرانی اور غیر مؤثر منصوبہ بندی نے غیر یقینی مستقبل کے خطرات کو اور بڑھا دیا ہے۔ ضروری قانون سازی کے ذریعے پھیلتی ہوئی رہائشی سکیموں کو محدود کیا جائے۔ زرعی زمینوں کر رہائشی سکیموں میں تبدیل کرنے کے نتیجے میں زرعی اراضی سکڑ رہی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ زرعی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ زراعت سے متعلقہ شعبوں کو بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ اداروں کے پاس زرعی رقبے کے تحفظ کا کوئی مؤثر منصوبہ ہے؟ کیا ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری سے قبل زرخیز اراضی کا جائزہ نہیں لیا جاتا؟ زرعی زمین کا نقصان ملک کی معیشت اور مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے کلیدی کارکردگی کے اشارے (KPIs) اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں سے یہ پوچھا جائے کہ زرعی اراضی کے تحفظ‘ شہری آبادی کے بہترین انتظام‘ پانی کی دستیابی اور غذائی تحفظ کیلئے کیا کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ محض پالیسیوں کا اعلان کافی نہیں۔ شہری آبادی کے بے قابو پھیلاؤ نے ترقی کے نام پر بڑے شہروں کو بڑے بحرانوں میں ڈال دیا ہے۔ جیسا کہ لاہور‘ جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا‘ اب توسیعی پراجیکٹس‘ بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ‘ درختوں کی بے دریغ کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کی ہر سانس ''گراں بار‘‘ ہے۔ کراچی ''شہرِ ناپرساں‘‘ کا نوحہ بھی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹ رہا ہے جن کی ایک بڑی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے۔ اگرچہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سطح پر یہ مسئلہ اٹھا رہا ہے‘ تاہم نتیجہ خیز اقدامات کے حصول کیلئے حکومت کو اس معاملے پر مزید توجہ اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کو سیاسی استحکام‘ شفافیت‘ عوامی خدمات کی تیز رفتار فراہمی اور ریاستی اداروں میں جواب دہی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے‘ جس کیلئے شفافیت اور احتساب کا ایک بہترین نظام تشکیل دینا ضروری ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved