تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     02-11-2026

یہی زندگی ہے

سنیچر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں سہ فریقی کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا گیا۔ یہاں کم و بیش 35 ہزار تماشائیوں کے لیے گنجائش ہے۔ سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ایک ایک بال اور ایک ایک چوکے چھکے پہ داد دی جا رہی تھی۔ آپ اگر میچ دیکھنے سٹیڈیم نہیں گئے تو ٹی وی پہ ضرور دیکھا ہو گا۔ یہ کالم میں آپ کو یہ بتانے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ میں نے یہ تمہید ایک اور مقصد کے لیے باندھی ہے۔
ہمارے ہاں جب کرکٹ میچ ہوتا ہے‘ سارا شہر ایک اضطراب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ ٹریفک درہم برہم ہو جاتی ہے۔ جو سفر آدھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے‘ میچ کی وجہ سے ایک گھنٹہ لے لیتا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے جس کا ہم سب کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام آدمی متاثر ہوتا ہے اور اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔ پھر مہنگائی بھی ہے۔ لوگ اس وجہ سے بھی پریشان ہیں۔ ان کے پاس تفریح کے لیے وقت ہے نہ سرمایہ۔ یہی نہیں‘ لاہور میں قیدی نمبر 804 کے مداح بھی کم نہیں۔ ان کا غصہ اور ناراضی بھی ہے۔ اک عمومی تبصرہ یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ 'حالات بہت خراب ہیں‘۔ سوال یہ ہے کہ اس مہنگائی میں اور ان خراب حالات میں‘ یہ 35 ہزار افراد کون تھے؟ یہ کہاں سے آئے؟ کیا ان میں سے کوئی مہنگائی سے متاثر نہیں ہوا؟ کیا ان میں عمران خان صاحب کے مداح شامل نہیں تھے؟ کیا یہ ٹریفک کے مسائل سے دوچار نہیں ہوتے جو میچ کی وجہ سے شہر میں پیدا ہو جاتے ہیں؟
ظاہر ہے کہ ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں۔ جو میچ دیکھنے آئے‘ ان میں مہنگائی سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ تھے۔ خان صاحب کے چاہنے والے بھی کم نہیں ہوں گے۔ وہ بھی ہوں گے جو ہر مجلس میں حالات کی خرابی کا رونا روتے ہیں۔ یہ سب اپنے خیالات میں سچے ہوں گے۔ مہنگائی یقینا ہے۔ حالات بھی اطمینان بخش نہیں۔ اس کے باوصف وہ جوش کہاں سے آیا جو میچ کے دوران میں دکھائی دیا؟ اس خوشی کا ماخذ کیا ہے جس سے یہ تماشائی سرشار تھے؟ اس کا جواب ہے: اسی کا نام زندگی ہے۔
زندگی ہمہ رنگ ہوتی ہے۔ خوشی اور غم‘ دھوپ اور چھاؤں‘ یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہم مہنگائی سے پریشان ہوتے ہیں لیکن کچھ پیسے پس انداز کر کے‘ میچ کا ٹکٹ بھی خرید لیتے ہیں۔ ہم حکومت کے مخالف ہوتے ہیں لیکن محسن نقوی صاحب کے بنائے ہوئے کرکٹ سٹرکچر سے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ہمیں عمران خان کی قید کا دکھ ہو سکتا ہے مگر ہم فخر زمان اور عرفات منہاس کی بلے بازی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم عمر بھر زندگی کے مختلف بلکہ متضاد چہرے دیکھتے اور ان کے ساتھ نباہ کرتے ہیں مگر کبھی شعوری طور پر اس عمل کو سمجھتے نہیں۔ جب ہم تجزیہ کرنے بیٹھتے ہیں توہم میں یک رخا پن آ جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں جب خیبرپختونخوا دہشت گرد حملوں کے زد میں تھا تو ایک مؤقف سامنے آیا: 'خیبرپختونخوا میں لوگ مر رہے ہیں اور پنجاب میں شادیاں ہو رہی ہیں‘۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ پنجاب میں لوگوں کو خیبرپختونخوا کے حالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ اسی یک رخے پن کا اظہار تھا۔کوئی پوچھے: کیا اس دوران میں خیبرپختونخوا میں شادیاں نہیں ہو رہی تھیں؟ بلوچستان میں حالات اچھے نہیں لیکن کیا وہاں لوگ شادیاں نہیں کرتے؟ اگر ایک طرف لوگ مر رہے ہیں تو دوسری طرف انسان پیدا بھی ہو رہے ہیں۔ زندگی ان متضاد رنگوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ اگر ہم اس کو شعوری سطح پر جان سکیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں ہمارا زاویۂ نظر بدل سکتا ہے۔
کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے سماج میں لکیریں کھینچ دیتے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر‘ کبھی سیاست کے عنوان سے اور کبھی رنگ و نسل کی بنیاد پر۔ مذہبی اختلاف ایک حقیقت ہے۔ سیاست میں نقطہ ہائے نظر کا پایا جانا بھی کوئی عجوبہ نہیں۔ دنیا میں مختلف رنگوں اور نسلوں کے لوگ رہتے ہیں۔ اگر ہم اس اختلافِ رنگ و نسل کو ایک امرِ واقعہ سمجھ کر آگے بڑھیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے وجود کو تسلیم کریں اور یہ مانیں کہ دوسرا اختلاف کے باوجود‘ اپنی شناخت کے ساتھ مخلص ہو سکتا ہے۔
پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ سیاست میں ایک تلخی در آئی۔ مولانا فضل الرحمن جلال میں تھے اور ان کے مخالفین نے بھی جواباً وہی لب و لہجہ اپنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں یہ سب ایک سٹیج پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے تھے۔ مستقبل میں بھی اس کا پورا امکان موجود ہے کہ ہم یہ منظر پھر دیکھیں۔ کیا ان تجربہ کار لوگوں کو اس کا ادراک نہیں ہے؟ اگر ہے تو یہ انتہا پسندانہ مؤقف کیوں؟ لہجے میں اتنی تلخی کیوں؟ پھر یہ کہ کارکن بھی لیڈر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جیسے انہوں نے اپنی عقل کو ان کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ان کو بھی سوال کرنا چاہیے کہ آج انہیں جن کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے‘ کل ان کے حق میں مہم چلانے پر مجبور تو نہیں کیا جائے گا؟ آج کا مذہب فروش آپ کا اتحادی ہوکر دین کا سچا خادم کیسے بن جاتا ہے؟ اگر عوام کی شعوری سطح بلند ہو تو یہ سوال ضرور اٹھائیں۔
زندگی کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں حرکت ہے۔ درست تر الفاظ میں حرکت ہی زندگی کا ثبوت ہے۔ حرکت کا مطلب ارتقا ہے۔ ہر لحظہ ہماری کیفیت بدلتی ہے۔ ہم ایک مقام پر کھڑے نہیں ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم جس زمان و مکان کی حدود میں رہتے ہیں‘ وہ متحرک ہے۔ وقت ایک ہوتے ہوئے بھی حال سے ماضی میں بدل رہا ہے۔ ہمیں اس کے مطابق متحرک ہونا ہے۔ ہم حرکت میں ہوتے ہوئے بھی اس کا شعور نہیں رکھتے۔ جب زمین متحرک ہے تو ہم ثابت کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب وقت بدل رہا ہے تو ہم ایک ہی جگہ کیسے کھڑے رہ سکتے ہیں؟ یہ حرکت بقا کے اسباب پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ہم جبلی تقاضے کے تحت اپنی بقا کے لیے حالات کی تبدیلی کو قبول کرتے ہیں۔ سردی آتی ہے تو کمبل اوڑھ لیتے ہیں۔ گرمی آتی ہے تو اتار دیتے ہیں۔ حرکت کا یہ تصور اگر ہمارے شعور کا حصہ بن جائے تو زندگی کے مختلف واقعات میں ہمیں تضاد کے بجائے ایک ہم آہنگی دکھائی دینے لگے گی۔ پھر ان واقعات کی تفہیم ہمارے لیے آسان ہو جائے گی جن کی وجہ سے ہم مضطرب رہتے ہیں۔
آج مہنگائی ہے۔ ہم اس کا گلہ کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ پیسے بچا کر کبھی میچ دیکھنے چلے جائیں گے اور کبھی بچوں کو آئس کریم کھلانے لے جائیں گے۔ ہم اپنے مسلک پر قائم رہیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیں گے کہ وہ اپنے مسلک پر کھڑے رہیں۔ ہم ٹریفک کے رش سے پریشان ہوں گے مگر اس کے ساتھ شہر میں ہونے والے میچ سے حظ بھی اٹھائیں گے۔ ہم کسی عزیز کے مرنے پر روئیں گے اور کسی رشتہ دار کی شادی پر بھنگڑا بھی ڈالیں گے۔ ہم کسی سے سیاسی اختلاف رکھیں گے اور اس کی خوشی غمی میں شریک بھی ہوں گے۔ اسی کا نام زندگی ہے۔ ہم سب یہی کرتے ہیں مگر لا شعوری طور پر۔ اگر شعوری سطح پر ہم اس کا ادارک کر سکیں تو ان لوگوں کے بہکاوے میں نہ آئیں جو اپنے مفادات کے لیے ہمیں سوچنے نہیں دیتے۔ آپ اس موضوع پر سوچ کے تو دیکھیں!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved