پاکستان کی معیشت کو اس وقت جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور حکومتی آمدن کے ذرائع کو وسیع کرنا انتہائی اہم ہیں۔ جولائی سے اکتوبر کے دوران ایف بی آر نے 4 ہزار 89 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جبکہ اس مدت کا ہدف چار ہزار 185 ارب روپے تھا؛ یعنی چار ماہ میں 96 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ابتدائی اعداد وشمار میں یہ کمی 124 ارب روپے تھی لیکن اکتوبر کے آخری روز ٹیکس گوشواروں کے ساتھ موصول ہونے والی ادائیگیوں اور دیگر وصولیوں کے بعد مجموعی شارٹ فال کم ہو کر 96 ارب روپے رہ گیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3 ہزار 840 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ اس لحاظ سے رواں سال ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ہوا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سالانہ ہدف حاصل کرنے کیلئے تقریباً 17.4 فیصد اضافے کی ضرورت ہے۔ یعنی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ضرور ہوا لیکن مطلوبہ رفتار ہدف سے خاصی کم ہے۔ اکتوبر میں تقریباً 1003 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا جبکہ اس ماہ کا ہدف 1132ارب روپے تھا۔ یوں اکتوبر میں 129 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔ اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں وصولیوں میں تقریباً پانچ فیصد اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ مقررہ ہدف پورا کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔ ان حالات میں ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد اور کمپنیوں نے ایکسٹینشن فائل کی ہے اور ایف بی آر اکثریت کو ایکسٹینشن دینے سے گریزاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سالانہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے والے مہینے میں ہی ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو رہے تو بقیہ مہینوں میں بہتری کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے۔
پاکستان اور خلیجی (جی سی سی) ممالک میں تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے آزاد تجارتی معاہدے کی کوششیں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی اور وفاقی وزیر تجارت کے درمیان ملاقات میں اس معاہدے پر جلد پیشرفت اور دو طرفہ تجارت بڑھانے کے حوالے سے بات چیت سے تجارت کے نئے دروازے کھلنے کی امید ہے۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2024-25ء کے اعدادوشمار کے مطابق اس مالی سال میں مشرقِ وسطیٰ سے درآمدات تقریباً 17ارب ڈالر اور برآمدات تین ارب 10 کروڑ ڈالر رہیں جس کے مطابق تجارتی خسارہ تقریباً 13 ارب 97 کروڑ ڈالر سے زائد تھا۔ مالی سال 2024-25ء میں مشرقِ وسطیٰ کو پاکستانی برآمدات میں 1.52 فیصد کمی ہوئی‘ جو مالی سال 2023-24ء میں تین ارب 15 کروڑ ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس درآمدات 5.64 فیصد اضافے سے 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ اگست 2004ء میں اقتصادی تعاون کا فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت آزاد تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کی گئی۔ 2006ء اور 2008ء میں مذاکرات کے ابتدائی ادوار ہوئے تاہم 2009ء میں یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ جنوری 2021ء میں دوبارہ مذاکرات کی کوششیں ہوئیں اور 2022ء اور 2023ء میں مذاکرات کے مزید ادوار ہوئے اور ستمبر 2023ء میں ریاض میں آخری مذاکراتی دور ہوا۔ اب حکومت پاکستان اس معاہدے پر جلد دستخط کرنے کی خواہشمند ہے۔ پاکستان چاول‘ گوشت‘ آم‘ کینو‘ کھجور‘ سبزیاں اور دیگر زرعی مصنوعات برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر حکومت برآمد کنندگان کو طویل مدتی سپلائی معاہدوں‘ جدید کولڈ سٹوریج‘ بہتر پیکنگ‘ حلال سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرے تو پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کا وژن 2030ء بھی پاکستانی کاروباری اداروں کیلئے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
اس وقت ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گیس کا بحران سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی ایل پی جی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے اور اس پر بڑھتا درآمدی انحصار قومی توانائی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں 17 لاکھ 36 ہزار ٹن سے زائد ایل پی جی درآمد کی گئی جس پر تقریباً 294 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ جون 2026ء کے ایک سروے کے مطابق ملک کی سالانہ طلب تقریباً 28 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر بھی خطرات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 2025ء میں دنیا کی ایل پی جی کی تقریباً 30 فیصد سمندری برآمدات آبنائے ہرمز سے گزریں جبکہ مارچ 2026ء میں اس راستے سے ایل پی جی کی ترسیل تقریباً 80 فیصد کم ہوگئی۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی یا اہم بحری راستوں کی بندش پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کیلئے مشکلات مزید بڑھا سکتی ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی رقم میں نمایاں فرق کا ہے۔ اوگرا نے نومبر 2026ء کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کی ہے جو اکتوبر کے مقابلے میں 14 روپے 73 پیسے زیادہ ہے۔ مگر بعض علاقوں میں یہ گیس 600 سے 700 روپے فی کلو تک فروخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ قیمتوں کے تعین کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی نگرانی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان حالات میں مجوزہ ایل پی جی پالیسی خاصی اہم ہے۔ حکومتی سطح پر سرکاری اداروں کو درآمدات اور قیمتوں کے تعین میں زیادہ کردار دینے کی تجویز زیر غور ہے جس پر نجی مارکیٹنگ کمپنیوں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کرنا ایک مثبت قدم ہے لیکن حقیقی ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی میں شفافیت‘ مسابقت اور رسد کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اداروں کی شمولیت اسی وقت فائدہ دے سکتی ہے جب ان کے پاس بروقت درآمدات‘ ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کی عملی صلاحیت موجود ہو۔
اس وقت پاکستان کے مالیاتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اوپن بینکنگ ریگولیشنز کا مسودہ عوامی مشاورت کیلئے جاری کرنا محض بینکاری کے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی کوشش ہے۔ اوپن بینکنگ کا مطلب ہے کہ بینک صارف کے مالیاتی ڈیٹا پر مکمل اجارہ داری نہیں رکھے گا بلکہ صارف کی اجازت سے یہ معلومات دوسرے مجاز اداروں تک پہنچ سکیں گی۔ اگر کسی شخص کے تین مختلف بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں تو اوپن بینکنگ میں ایک ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے وہ اپنے تمام اکاؤنٹس کی مجموعی مالی صورتحال دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی چھوٹا کاروباری شخص اپنے بینک اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن ہسٹری کی بنیاد پر کسی مالیاتی ادارے سے قرض حاصل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ برطانیہ میں اوپن بینکنگ نے مالیاتی شعبے میں نئی خدمات کیلئے راستہ کھولا ہے۔ برطانیہ کی فنانشل کنڈیکٹ اتھارٹی کے مطابق 2025ء میں برطانیہ میں اوپن بینکنگ کے فعال صارفین کی تعداد 16 ملین سے تجاوز کر گئی اور اوپن بینکنگ ادائیگیوں میں ایک سال کے دوران 53 فیصد اضافہ ہوا۔ برطانیہ میں اس نظام کے ذریعے صارفین اور چھوٹے کاروباروں کو اپنے بینک اکاؤنٹس کی معلومات مجاز تھرڈ پارٹی اداروں کے ساتھ شیئر کرنے اور متبادل ادائیگی کی سہولتیں استعمال کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان کے لیے یہ تجربہ اس لحاظ سے اہم ہو سکتا ہے کہ اوپن بینکنگ کے ذریعے بینکنگ مارکیٹ میں نئے کاروباری ماڈلز اور مسابقت کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں ڈیٹا سکیورٹی کو کس قدر یقینی بنایا جاتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved