تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     02-11-2026

دہلی کا حوضِ خاص اور لاہور سے محبت

برطانیہ کے مؤقر اور معتبر روزنامہ گارڈین نے فروری میں اپنے قارئین سے دہلی کے ایک ایسے محلے کا تعارف کرایا جو کتابوں کی دکانوں‘ چائے خانوں‘ آرٹ گیلریوں اور فنونِ لطیفہ کے دوسرے مظاہروں سے مالا مال ہے۔ نام ہے حوضِ خاص۔ کالم نگار کی طرح‘ جن لوگوں نے اردو ادب کا تھوڑا بہت مطالعہ کر رکھا ہے وہ حوضِ خاص کے نام سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ غالباً غالب کے نادر روزگار خطوط میں بھی کسی جگہ حوضِ خاص کا ذکر آتا ہے۔ صد افسوس میں کئی بار دہلی جانے کے باوجود حوضِ خاص کی سیر و سیاحت سے ہمیشہ محروم رہا۔ جو دوچار دن ملتے تھے وہ اپنی وکیلانہ مصروفیات‘ غالب سے لے کر حضرت نظام الدین اولیاء اور امیر خسرو کے مزارات پر حاضری دینے‘ لال قلعہ کی سیر اور جامعہ مسجد کی زیارت اور چاندنی چوک میں دنیا کے سب سے مزیدار گول گپے کھانے میں اس طرح پلک جھپکتے گزر جاتے تھے کہ لگتا تھا کہ جیسے یہ سب ایک خواب تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مہربان خاتون نے میری مادری زبان‘ پنجابی سے میری گہری عقیدت اور محبت دیکھ کر مجھے پیشکش کی کہ وہ مجھے پنجابی کی شہرہ آفاق شاعرہ امرتا پریتم کے گھر لے جائیں گی جہاں وہ عظیم شاعرہ نہ صرف مجھے اپنی سب سے مشہور نظم ''اج آکھاں وارث شاہ نوں‘‘ خود سنائیں گی بلکہ اپنے ہاتھو ں سے کشمیری چائے بنا کر بھی پلائیں گی۔ میری میزبان خاتون بار بار کوشش کے باوجود میرے وزٹ کے دوران ملاقات کا دن اور وقت طے نہ کر سکیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں امرتا پریتم کی صحت اچھی نہ تھی اور انہیں بار بار ہسپتالوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔ میں اگلے سال پھر دہلی گیا مگر تب تک پنجاب کی یہ قابلِ فخر بیٹی جو پہلے گوجرانوالہ سے ہجرت کر کے دہلی گئی تھی‘ اب دہلی سے اتنی دور جا چکی تھی جہاں اس کی روح ابد تک سکھ کی نیند سوئے گی۔ امرتا کو اس کا پریتم جو اس جہاں میں نہ ملا‘ شاید اگلے جہان میں مل گیا ہو۔ چار سُو پھولوں کی پتیاں‘ مدھر گیتوں کی دھنیں‘ گوجرانوالہ کی خوبصورت یادیں۔ ان کے رفیق حیات کا یہ مزاحیہ جملہ آخر سچ نکلا کہ امرتا ہر وقت صرف مجھے ڈرانے کیلئے اپنی موت کا ذکر کرتی ہے مگر اس کا مرنے ورنے کا نہ ارادہ ہے اور نہ پروگرام۔ شاید وہ یہ نہ جانتا تھا کہ مرجانے کیلئے نہ ارادے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ پروگرام کی۔ امرتا کا ذکر یوں آیا کہ وہ حوضِ خاص کے پاس رہتی تھیں۔ آخر کار میں ہاتھ ملتا رہا گیا۔ نہ امرتا پریتم کا دیدار ہوا اور نہ حوضِ خاص کا۔ میری نظر میں تو خاص بات یہ تھی کہ اس محلہ کے پاس امرتا رہتی تھیں۔ بس ایک حوضِ خاص ہے جو رہ گیا۔ میری نظر میں تو صرف حوض ہی باقی ہے۔ خاص تو خواب و خیال ہوا۔ گارڈین میں حوضِ خاص کا تذکرہ میرے لیے تھوڑے سے حسد اور بہت سارے رشک کا باعث بنا۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ کیفیت چند لمحوں میں ختم ہو گئی۔
نیو سٹیٹس مین برطانیہ میں بائیں بازو کا ایک قابلِ احترام‘ قدیم اور قابل تعریف ہفت روزہ ہے‘ اس کے ایک شمارہ میں میرے بیٹے بیرسٹر علی کے دوست Peter Oborne کا لاہور پر مضمون پڑھا تو دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ برطانیہ میں ایسے بااثر انگریزوں کی تعداد کئی ہزاروں میں ہے جو تمام منفی پروپیگنڈا کے باوجود پاکستان سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں اور اردو شاعری کے عشاقِ نامراد کی طرح اس محبت کو دل کے نہاں خانوں میں چھپاکر نہیں رکھتے بلکہ اس کا ہر موقع پر کھلم کھلا اظہار کرتے اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ پیٹر کا شمار اس قبیلہ کے سرداروں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس نے پاکستانی کرکٹ اور اس کی تاریخ اور اس کے کھیلنے والوں پر Wounded Tigers کے نام سے جو کمال کی کتاب لکھی ہے اس کا ذکر میں اپنے ایک پرانے کالم میں کر چکا ہوں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس کتاب کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں پیٹر کی بقیہ تحریر کی طرف۔
چند برس قبل پیٹر الحمرا ہال لاہور میں ہونے والے ادبی میلے میں حصہ لینے خاص طور پر پاکستان گیا تھا۔ اس میلے میں نہ صرف مشاعرے ہوئے اور ادبی محفلیں سجائی گئیں بلکہ موسیقی اور رقص کے علاوہ تاریخ‘ سیاست اور سماجی علوم پر درجنوں مذاکرے بھی منعقد کیے گئے۔ امریکہ کی ایک چوٹی کی یونیورسٹی میں پڑھانے والی پاکستانی مورخ خاتون عائشہ جلال بھی ان نامور شخصیات میں شامل تھیں جن کی شرکت نے اس ادبی میلہ کو چار چاند لگائے۔ لاہور کے اس وِزٹ کے بعد سے پیٹر اندرون لاہور کے حسن کی تعریف میں قصیدے لکھتا نہیں تھکتا۔ وہ باغ جناح کی اس گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے بھی گیا جہاں پاکستان اوّلین دنوں میں ٹیسٹ میچ کھیلتا تھا۔ بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ پاکستانی کرکٹ باغ جناح کے گہوارے میں پل کر جوان ہوئی۔
پیٹر پاکستانی کھانوں کا بہت بڑا مداح ہے اور لاہور میں اسے اپنے اس رسوائے زمانہ چٹخورے پن کے مظاہرے کے بے پناہ مواقع ملے۔ ادبی میلے کے غیرملکی مہمانوں کے اعزاز میں گورنر ہاؤس کے 80 ایکڑوں میں پھیلے باغ کے وسط میں ایک یادگار ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ پیٹر برطانیہ کے معروف روزنامہ ٹیلیگراف سے بہت عرصہ وابستہ رہ کر ایک اصولی اختلاف کی بنیاد پر مستعفی ہوگیا تھا۔ پیٹر نے ادبی میلہ میں ہونے والی جس تقریب کا خاص طور پر بطور تعریف ذکر کیا وہ سرگودھا کے ایک گاؤں ہڈالی (جو مٹھ ٹوانہ اور جوہر آباد کا پڑوسی ہے) میں پیدا ہونے والے اور تقسیم ملک کے بعد ہندوستان چلے جانے والے شہرہ آفاق ادیب خوشونت سنگھ کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ 1971ء کی جنگ کے بعد مشرقی پاکستان سے ہزاروں افراد بھارت کی قید میں چلے گئے تو ان دنوں خوشونت سنگھ کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملاقات ہوئی۔ خوشونت سنگھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی قیدیوں کو جلد از جلد رہا کر دیں تو ہمسایہ ممالک میں خیر سگالی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اندرا گاندھی نے اس مشورے کا برا مناتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشونت سنگھ سے اخلاقیات پر درس لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ سرگودھا کا ایک اکھڑ اور بے خوف سکھ سردار آگے سے انہیں یہ جواب دے گا کہ آپ کو اپنی اخلاقی سطح بلند کرنے کیلئے جو بھی موقع ملے اسے آپ کو گنوانا نہیں چاہیے۔
ادبی میلے کے دوران پیٹر کے اَن گنت مداحوں نے اس کی بہادری اور اپنے ضمیر کی آواز سننے کی بھی تعریف کی۔ وہ اس بنیاد پر کہ وہ چاہتا تو بہ آسانی خاموش رہ سکتا تھا مگر اپنے اخبار کے مالکان کی بے اصولی اس سے برداشت نہ ہو سکی۔ اور اس نے اُس بڑے عہدے کو احتجاجاً چھوڑ دیا جس کے خواب عام لوگ عمر بھر دیکھتے ہیں۔ پیٹر نے اپنے سر پر بہادری کے پھولوں کا تاج پہننے سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ بہادر تو پاکستان کے صحافی ہیں جہاں بیس برسوں کے اندر پچاس صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں 40اور روس میں 56قتل ہونے والے صحافی اس اسم صفت کے اصل مستحق ہیں۔ بقول فیض:
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved