تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     03-11-2026

سنگاپور کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان اور ہمارے ایوان

صرف چند دہائیوں میں سنگاپور کے مچھیروں کی بستی سے جدید ترین شہری ریاست بن جانے کا کرشمہ یا معاشی ماڈل دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور ترقیاتی اداروں میں بطور خاص پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ اسی سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالا کرشنن چند روز قبل پاکستان کے دورے پر آئے تو ان کی وزیراعظم شہباز شریف‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈارسے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی و علاقائی تعلقات کی مضبوطی کیلئے بہت سی آفرز اور تجاویز بھی اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جیو اکنامکس کے کئی منصوبے بھی انہوں نے پیش کیے مگر ہم نے نہیں دیکھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ جیسے ہمارے ایوانوں یا تجارتی و خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹیوں میں سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورے کے حوالے سے کوئی اہم بحث ہوئی ہو۔دراصل گزشتہ چند دنوں سے ہمارے بعض وزرائے کرام‘ ایک بزرگ سیاستدان اور نو آموزانِ سیاست مولانا فضل الرحمن کے خلاف مہم میں مصروف ہیں۔ مولانا گزشتہ نصف صدی کے دوران ہمیشہ اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالتے نظر آئے ہیں۔ مولانا صاحب کا طرزِ خطابت نپا تلا اور ہلکے پھلکے مزاج سے مرصع ہوتا ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر بولتے اور خوب بولتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وہ آئین کے تناظر میں زورِ خطابت دکھا رہے تھے۔تاہم لفظ ''ریاست‘‘ کے استعمال میں مولانا کے عرفان سے خاصی بھول ہوئی ہے۔اس سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا طرزِ عمل قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مولانا صاحب نے عمران خان کے دورِ حکومت میں علی الاعلان (ن) لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ مولانا انتخابِ الفاظ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے مگر جوشِ خطابت میں زبان کی لرزش کے بارے میں انہیں خود ہی وضاحت کرنی چاہیے تاکہ دوطرفہ بیان بازی کا سلسلہ تھم جائے۔
واپس آئیے سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورے کی طرف۔ اُن کا دورہ کثیر المقاصد تھا۔ تاہم اس کا اہم ترین نکتہ تجارتی تعلقات کی وسعت تھا۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے معلومات اور اقدامات کے بارے میں ریسرچ و تجربات کا تبادلہ بھی اُن کے ایجنڈے میں شامل تھا۔اگلے برس 'ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز‘ (آسیان ) کی چیئرمین شپ سنبھالنے سے قبل اس کے ایک اہم رکن پاکستان کی حمایت حاصل کرنا بھی سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورے کا حصہ تھا۔ پاکستان اور سنگاپور کے مابین تجارتی منظر نامہ اور درآمد و برآمد کا گوشوارہ پیش کرنے سے قبل آپ کو یہ بھی بتا دوں سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشنن نے دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں میں ٹریڈنگ اور جیو اکنامکس کے حوالے سے ہونے والے ریسرچ ورک اور سکالرز کے تبادلے کی بھی پیشکش کی ہے۔ سنگاپور کے شاہراہِ ترقی پر تیز رفتار سفر کے آغاز کے بارے میں اتنی بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب سنگاپور کو 1959ء میں خود مختاری ملی اس وقت وہ مچھیروں کی ایک ساحلی بستی تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم لی کوآن یو نے 1963ء میں ملائیشیا کے ساتھ کنفیڈریشن میں شمولیت اختیار کرلی مگر صرف دو سال کے بعد ‘ 1965ء میں ملائیشیا نے سنگاپور کو علیحدہ کر دیا۔ اب لی کوآن یو نے سنگاپور کے ایک الگ ریاست ہونے کی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا تہیہ کر لیا۔
لی کوآن یو کے سامنے مسائل کا انبار تھا۔ ہر طرف غربت ہی غربت اور بیروزگاری تھی۔ نسلی‘ لسانی اور علاقائی عصبیتیں ترقی کے راستے میں روڑے اٹکا رہی تھیں۔ سنگاپور میں بڑی قومیتیں چینی النسل‘ ملایا اور انڈین تھے۔ ساحلی ریاست کے قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کے علاوہ سیاسی و معاشی عدم استحکام تھا۔ ان حالات میں باہمی صلاح مشورے اور گہرے غور و خوض کے بعد لی کوآن یو نے ریاست کی ترقی کیلئے چھ ستونوں کا منصوبہ پیش کیا اور اس پر عمل بھی کر کے دکھایا۔ جدید ریاست کے ان ستونوں میں سے اہم ترین کرپشن کا خاتمہ ہے۔ دیگر نکات میں دیانتدار اور نظم و ضبط کی پابند انتظامیہ‘ ہر دباؤ سے آزاد عدلیہ‘ بیرونی سرمایہ کاری‘ وسیع تر تعلیم و ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی تربیت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نسلی و لسانی تعصبات کا خاتمہ اور قومی ہم آہنگی بھی ایجنڈے میں شامل تھی۔ سنگاپور کی سیاسی قیادت اور عوام آج بھی ان چھ اصولوں پر دل و جان سے ایمان رکھتے اور اُن پر عمل پیرا ہیں۔ اسی چھ نکاتی منصوبے کا ثمر ہے کہ محض نصف صدی میں ہی تسلسل کے ساتھ‘ سنگاپور اب پہلے سے بڑھ کر تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے۔ چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود اس کے شہری ساری دنیا میں سر اٹھا کر چلتے ہیں۔ ہماری سنگاپور کے ساتھ تجارت تو ہے مگر اس کا حجم بہت کم ہے۔ پاکستان سنگاپور کو کروڈ آئل اور معدنی تیل برآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیوی مشینری‘ ٹیکسٹائل مصنوعات‘ سلے اَن سلے کپڑے‘ ادویات‘ شوز اور سپورٹس اشیا وغیرہ ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان سنگاپور کی ریفائنریوں سے پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اور الیکٹرانک اشیا‘ انڈسٹری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز‘ پلاسٹک اشیا اور میڈیکل آلات وغیرہ درآمد کرتا ہے۔ 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے سنگاپور کو 27 کروڑ 81 لاکھ ڈالر کی ایکسپورٹس کیں جبکہ وہاں سے پاکستان نے ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی اشیا امپورٹ کیں۔ تجارتی خسارہ واضح ہے۔ اب سنگاپور کے وزیر خارجہ نے تجارت کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے کئی تجاویز وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات میں پیش کی ہیں۔
ہماری یونیورسٹیاں نالج ری سائیکل کرتی ہیں۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کا کوئی نیا تخلیقی و تحقیقی کارنامہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہو۔ پاکستان اس وقت جس معاشی دلدل اور غربت و بیروزگاری میں پھنسا ہوا ہے‘ اس کی وجہ کرپشن کی انتہا‘ سوچ کا انجماد اور معاشی و سماجی افکارِ تازہ کا فقدان ہے۔ کسی زمانے میں پاکستانی قیادت سنگاپور سے اکتسابِ فیض کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی مگر ہماری اشرافیہ شاید لی کوآن یو کے کڑے ترقیاتی ماڈل سے خوفزدہ ہو گئی۔ اس ماڈل کی پہلی شرط کرپشن کا مکمل خاتمہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ مستعد انتظامیہ ہے۔ آج بھی سنگاپور کا چھ نکاتی معاشی و اصلاحی ماڈل بروئے کار لایا جائے تو چند برسوں میں کایا پلٹ سکتی ہے مگر ہمارے تو مسائل ہی اور ہیں۔ ہر حکومت کو یہاں اپنی بقا کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔
پاکستان G24 ممالک گروپ کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ افریقہ‘ ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک کا گروپ ہے اس میں چین کو بھی خصوصی دعوت پر شامل کیا جاتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ اس گروپ میں پاکستان کے پاس کون سی ایسی بات ہوگی جو دیگر ترقی پذیر ممالک کو متاثر کر سکے۔آج کے دور میں جیو پولیٹکل اہداف کے حصول کیلئے جیو اکنامکس کا تصور بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ چین ایک بڑا ملک ہے‘ وہ اپنی معاشی طاقت کو اپنی عالمی حیثیت مضبوط کرنے کیلئے بڑے بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ سنگاپور ایک بالکل چھوٹا سا ملک ہے مگر اپنے جغرافیائی محل وقوع اور اپنی پورٹ سے فائدہ اٹھا کر اپنے ویژن اور محنت سے ایک بہت بڑا عالمی تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ چند سال پیشتر سے پاکستان میں جیو اکنامکس کا تصور زیر بحث آنے لگا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے شاندار محل وقوع بخشا ہے۔ پاکستان جنوبی و مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ چین و امریکہ سے اپنے تعلقات اور برادر ملک سعودی عرب کی اشیر باد سے پاکستان سارے ایشیا میں معاشی کارروائیوں کو بامِ عروج تک پہنچا سکتا ہے۔ بس اس کی وہی ایک سنگاپور والی شرط ہے: زیرو کرپشن اور سیاسی دباؤ سے آزاد اور مستعد انتظامیہ وعدلیہ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved