پاکستان نے دہشت گردی کی حمایت بند نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو سخت نتائج کی تنبیہ کی ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان کا ردعمل شاید اس بار ماضی سے کافی مختلف ہو اس لیے افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے اس انتباہ کو سنجیدگی سے لے۔ جب پاکستان افغان سرزمین کے دہشت گردی میں استعمال کے حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کر رہا ہے تو انکار کی مزید گنجائش نہیں رہتی۔ نہ ہی آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں شواہد کو یکسر جھٹلایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ‘ امریکہ‘ یورپی یونین کے علاوہ مسلم ممالک بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ اکثریتی ممالک جو مؤقف پیش کر رہے ہیں وہ درست نہیں اور افغانستان کا جو مؤقف ہے وہ درست ہو۔ عالمی برادری زمینی حقائق کو پرکھ کر ہی کسی کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتی ہے۔ پاکستان افغانستان کو آج جن سنگین نتائج سے متنبہ کر رہا ہے‘ دونوں ممالک کے تعلقات اس سطح پر آنے میں افغانستان کی طالبان قیادت کا اہم کردار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے اگست 2021ء میں امریکی افواج کا انخلا ہوا تو عمومی تاثر یہ تھا کہ خطے میں اب امن قائم ہو گا۔ بالخصوص پاکستان کے اکثریتی حلقے اس لیے بھی خوش تھے کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے دیرینہ مراسم ہیں۔ مشترکہ ثقافت‘ مذہبی ہم آہنگی اور سرحدیں مشترک ہونے کے علاوہ ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ افغانستان کا کافی حد تک معاشی انحصار پاکستان پر تھا۔ سو خیال تھا کہ افغان طالبان کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوں۔ ان عوامل کے علاوہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغانستان کی حمایت کا عالمی سطح پر جو ماحول بنا تھا‘ ہم اس کا بھی حصہ تھے اس لیے سیاسی اور عسکری حلقے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پاکستان کیلئے اہم تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے تھے مگر ابھی طالبان کو اقتدار میں آئے ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہونے لگیں۔ ابتدا میں ان کارروائیوں کو معمولی سمجھا گیا اور پاکستان نے وہی راستہ اختیار کیا جو ایک پڑوسی ملک دوسرے پڑوسی ملک کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہوئے اختیار کرتا ہے مگر افغان قیادت کی طرف سے مسلسل پاکستان کے مؤقف کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے سمیت ہر وہ قابلِ قدر راستہ اختیار کیا جس سے ہمسائیگی خراب نہ ہوتی ہو۔ حکومتی اور سفارتی سطح پر جب بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو اُن علما کرام پر مشتمل اعلیٰ وفد کو افغانستان بھیجا گیا جنہیں طالبان اپنے استاذ کہتے ہیں۔ مگر امارت اسلامیہ اور اسلامی نظام کی دعویدار حکومت نے علما کرام کی بات بھی تسلیم نہیں کیا۔
افغان مہاجرین جن کی دہائیوں سے پاکستان میزبانی کر رہا تھا‘ انہیں مرحلہ وار واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا گیا‘ مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ یقینا پاکستان کیلئے آسان نہ تھا مگر قومی سلامتی کیلئے یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا تاکہ افغان قیادت ہوش کے ناخن لے۔ لڑکھڑاتی معیشت کے ساتھ لاکھوں مہاجرین کی وطن واپسی افغان طالبان کیلئے نیا امتحان ثابت ہوئی۔ انہوں نے یہ مشکل تو جیسے تیسے برداشت کی تاہم شدت پسند عناصر کو تحفظ فراہم کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح افغانستان کی اقتصادی شہ رگ سمجھی جانے والی دو اہم تجارتی گزرگاہوں؛ طورخم اور چمن بارڈ کو بند کر دیا گیا۔ آج ان تجارتی گزرگاہوں کو بند ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔ اس دوران بلاشبہ دونوں اطراف کی تاجر برادری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اس ضمن میں پاکستان کا مؤقف بجا ہے کہ تجارت کے لیے قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ افغان قیادت اس کے باوجود اپنی سرزمین پر موجود شدت پسند عناصر کو تحفظ دینا ترک نہ کیا۔ جب تمام روایتی حربوں کے بعد بھی افغان قیادت نے دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی اور سرپرستی ختم نہیں کی اور افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں متواتر جاری رہیں تو پاکستان نے انتہائی مصدقہ اطلاعات پر افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ چونکہ افغان قیادت بھی بخوبی جانتی تھی کہ جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے‘ اس لیے افغان طالبان نے روایتی مذمت سے آگے کچھ نہیں کہا۔
آج ایک بار پھر پاکستان افغان قیادت کو متنبہ کر رہا ہے تو افغانستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران افغانستان سے متصل پاکستان کے صوبہ خیر پختونخوا میں سیاسی سطح پر بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ٹی آئی طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ افغانستان میں رجیم چینج کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں بسانے کی بات ہو یا دہشت گردوں کے خلاف وفاقی سطح پر حکمت عملی‘ ہر موقع پر پی ٹی آئی نے ایسا مؤقف اختیار کیا کہ جس سے اس کا سیاسی بیانیہ متاثر نہ ہو۔ پی ٹی آئی نے طالبان کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی اس سے کیا حاصل ہوا‘ یہ الگ بحث ہے؛ تاہم طالبان کو یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ماضی میں پی ٹی آئی کی صورت ان کیلئے خیبر پختونخوا میں سیاسی سطح پر کوئی نرم رویہ پایا بھی جاتا تھا تو وہ اب انہیں میسر نہیں رہا۔ اب وفاقی سطح پر جو پالیسی تشکیل پائے گی‘ صوبے میں بھی اسی پر عمل درآمد ہو گا۔ خیبر پختونخوا میں شدت پسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے‘ سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دراصل افغانستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب پاکستان میں شدت پسندوں کیلئے جگہ تنگ ہو گی تو وہ افغانستان کا رخ کریں گے اور پاکستان کی افواج کو اگر ضرورت پڑی تو ان کا پیچھا کرتے ہوئے افغانستان کے اندر بھی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ کابل انتظامیہ کو چاہیے کہ پاکستان کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لے‘ بالخصوص ایسے موقع پر جب ایک صوبے کی حکومت کو دہشت گردی کی قومی پالیسی سے اختلاف کی بنیاد پر ختم کیا جا چکا ہے۔ ایسے موقع پر جب بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر ہو‘ اور افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہو۔ ایسے موقع پر جب عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہے اور امریکہ نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کر کے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی توثیق کر کے اپنا تعاون ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے جی 20کے وزرائے خارجہ اجلاس میں کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ امریکی وزیر خارجہ کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ افغان طالبان پر زور دینے میں پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے تاکہ ٹی ٹی پی‘ بی ایل اے اور دیگر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس پس منظر کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ اب بال افغان قیادت کے کورٹ میں ہے وہ پاکستان کے انتباہ کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اگر ماضی کی روش قائم رہی تو پاکستان کو شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا جواز حاصل ہو جائے گا‘ بھلے وہ افغانستان کے اندر ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved