تحریر : سلمان غنی تاریخ اشاعت     04-11-2026

افغان رجیم بھارتی پراکسی کیوں؟

دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے یہ شرط تسلیم کی تھی کہ وہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنائیں گے اور افغان سرزمین کا ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال روکیں گے تاکہ افغانستان اور خطے میں امن و استحکام قائم ہو۔ لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ طالبان نے اس حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے اور دوحہ معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے کے بجائے پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک پر الزام تراشی شروع کر دی۔ اس رجحان سے افغانستان کی عالمی ساکھ کو ٹھیس پہنچی اور عالمی و علاقائی سطح پر اس کا نام دہشت گردی اور شدت پسندی سے جڑ گیا۔
پاکستان افغانستان میں امن کو خطے کے استحکام سے مشروط کرتا آیا ہے اور ماضی قریب تک افغان مسائل کے سیاسی حل کیلئے طالبان کو اقتدار میں لانے کی کوشش کرتا رہا لیکن آج افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہی ہے۔ اب پاکستان عالمی و علاقائی قوتوں سے دہشت گردی کے سدباب کیلئے اثرورسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ حال ہی میں G20 کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کا نشانہ نہ بنے‘ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملے تشویشناک ہیں۔ امریکہ کا یہ پالیسی بیان حقیقت پسندانہ ہے۔ امریکہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی بنانے کا فیصلہ اسی کا تھا۔ پاکستان نے یہ جنگ جیت کر دکھائی اور بھاری مالی اور جانی نقصان بھی اٹھایا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے جن کو قابو کرکے بوتل میں بند کیا مگر سوال یہ ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے معاملے میں اس کے ساتھ کس حد تک کھڑے رہے؟ وار آن ٹیرر میں پاکستان کو لگ بھگ 150 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا اور تقریباً 90 ہزار سے زائد شہریوں‘ افسروں‘ اور جوانوں کی قربانیاں دینا پڑیں۔ امریکہ اور مغرب کو اس نقصان کا مداوا کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ آج بھی پاکستان دہشت گردی کے خلاف ثابت قدم ہے اور خصوصاً مغربی سرحد پر اس چیلنج کا مقابلہ کر رہا ہے۔ پاکستان پُرعزم ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے یکسر پاک کرکے دم لے گا۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی کا معاملہ اب واضح ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی فورسز کو پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھارت بظاہر پاکستان پر براہِ راست جارحیت کے قابل نہیں رہا تاہم اپنے زخم سہلاتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے وہ افغان سرزمین سے سرگرم ہے۔ شواہد موجود ہیں کہ بھارتی ایجنسی 'را‘ اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ و فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی کو افغان انتظامیہ میں شامل عناصر کی براہِ راست تائید حاصل ہے۔ افغان انتظامیہ میں تقسیم کا عمل بھی بالواسطہ طور پر دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے کیونکہ انتظامیہ میں شامل ذمہ داران کی اکثریت بھارت سے رابطے میں ہے اور بھارتی شہ پر ہی پاکستان کے خلاف مذموم کھیل کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے رائٹرز کو دئیے گئے انٹر ویو میں خبردار کیا ہے کہ طالبان رجیم نے پاکستان میں دہشت گردی بند نہ کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اپنے مذموم مقاصد کیلئے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجو استعمال کرتے ہیں‘ افغانستان کو اب غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں‘ یہ ایک ایسا رجیم ہے جو بھارت کی پراکسی ہے اور بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا بڑا سرپرست ہے۔ ان کے مطابق کالعدم تنظیمیں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم نے نور ولی ‘ بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ان کو وہاں سے اسلحہ ملتا ہے اور انہیں اہداف دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر طالبان رجیم نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات دور نہ کیے تو اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔
پاکستان اپنی بقا اور سلامتی کیلئے اپنے سے چھ گنا بڑی قوت کو شکست دے کر دنیا کو اپنی دفاعی صلاحیت کا پیغام دے چکا ہے۔ پاکستان پر جارحیت کرنے والی کوئی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو‘ پاکستان اسے بھرپور سبق سکھانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس لیے افغان سرزمین پر دہشت گردی کو کچلنا اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا پاکستان کیلئے زیادہ مشکل نہیں۔ تاہم افغانستان سے ہمسائیگی کا خیال کرتے ہوئے اور خطے کے استحکام کیلئے پاکستان وہاں امن کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات اور خدمات کی طویل تاریخ ہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی اور افغانستان کے مسائل کے سیاسی حل اور اس عمل میں افغانوں کی شمولیت کیلئے کوششیں کیں۔ پاکستان دوحہ معاہدے میں بھی حتی المقدور شریک رہا اور اس کی کوششوں کے نتیجے میں ہی طالبان اور امریکہ میں مذاکرات ہوئے اور وہ اقتدار میں آئے‘ لیکن انہوں نے جس بنیاد پر یہ ذمہ داری قبول کی تھی اس سے کھلا انحراف شروع کر دیا۔ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے بجائے پہلے ان سے صرفِ نظر کیا‘ پھر واضح ہوا کہ طالبان اپنے مفادات کے سبب دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
افغان طالبان کی غفلت کے سبب ہی پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے اڈوں کے خلاف کارروائی کرکے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے اس کارروائی سے پہلے ہی دنیا پر اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا اور یہ ناگزیر بھی تھا۔ اس کے باوجود افغان انتظامیہ اب بھی پاکستان کے خلاف براہِ راست جوابی کارروائی میں مصروف ہے جبکہ دہشت گردی کی پشت پناہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف تعاون اور مؤثر اقدامات کیلئے تیار نہیں۔ اگر پاکستان کی مغربی سرحد کے پر سرحد پار سے دہشتگردی کے حملے جاری رہے اور جانی نقصان رکنے میں نہ آیا تو پاکستان کے پاس فوجی کارروائی‘ سفارتی دباؤ اور علاقائی تعاون کے آپشن موجود ہیں۔ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور سرحدی علاقوں کو پاک کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے تاہم پاکستان اب بھی افغانستان سے کھلی جنگ سے گریزاں ہے‘ جس کی بڑی وجہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہونا اور افغان عوام سے پاکستان کے تعلقات ہیں۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ اسے یہ ناخوشگوار فریضہ انجام نہ دینا پڑے اور طالبان خود اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کریں۔ پاکستان نے چین‘ ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر اور دیگر ہمسایہ ممالک سے رابطے کیے کہ وہ اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرکے افغان سرزمین کا دہشتگردی کیلئے استعمال رکوائیں لیکن افغان طالبان ذمہ داری کا احساس کرنے کے بجائے اپنی سرزمین کے دہشتگردی کیلئے استعمال ہی سے انکار کرتے رہے اور سفارتی دباؤ کی افادیت محدود ہو کر رہ گئی۔جب کوئی ملک طالبان کی ضمانت نہ دے سکا تو پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اب بھی یہی آپشن مؤثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved