تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     04-11-2026

کراچی میں دینی اجتماعات

کراچی صوبہ سندھ کا دارالحکومت اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی سڑکیں کشادہ اور مناظر دلکش ہیں۔ اس میں بکثرت بلند وبالا عمارتیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں سمندر اور اس کے کنارے کے مناظر بھی انتہائی دلکش اور حسین ہیں۔ کراچی میں دین سے محبت کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مختلف دینی جماعتوں کے کراچی میں بڑے بڑے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ قرآن وسنہ موومنٹ صوبہ سندھ کے چیئرمین مولانا اختر علی محمدی اور ان کے رفقا عبدالرحمن فاروقی‘ مولانا یوسف سلفی‘ مولانا حنیف سلفی اور حافظ وقاص نے مجھ سے 31 اکتوبر کو گلشن ضیا اورنگی ٹائون میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کیلئے وقت مانگا اور ساتھ ہی اصرار کیا کہ اس بار میں دو تین روز کیلئے کراچی آئوں۔ 30 اکتوبر کی رات کو جب میں کراچی پہنچا تو دوست احباب کے ہمراہ جماعت غربا اہلحدیث کے مرکز جامعہ ستاریہ میں پہنچا جہاں جماعت کے نومنتخب امیر مولانا محمد سلفی اپنے رفقا کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر بڑے پیار‘ محبت اور گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ میں نے جماعت کے سابق امیر مولانا عبدالرحمن سلفی‘ جو چند روز قبل دنیائے فانی سے کوچ کر گئے تھے‘ کی وفات پر تعزیت کی۔ مولانا عبدالرحمن سلفی ایک باعمل عالم دین تھے جو مدتِ مدید تک کراچی میں درس وتدریس‘ وعظ ونصیحت اور تدریس وتحقیق کے کاموں میں مشغول رہے۔ ان دوستوں سے مل کر یونہی محسوس ہوا جیسے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات ہو رہی ہے۔
اگلے روز اورنگی ٹائون میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد شروع ہونے والی اس کانفرنس میں مجھے رات کے تقریباً ایک بجے اپنی گزارشات کو عوام کے سامنے رکھنے کا موقع ملا‘ جن کی کثیر تعداد وہاں موجود تھی۔ میں نے سامعین کے سامنے یہ بات رکھی کہ عقیدۂ ختم نبوت غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ نبی کریمﷺ کی رسالت اور ختم نبوت پر بھی مکمل یقین رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ یہ عقیدہ کتاب اللہ‘ سنت رسول اللہﷺ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے اور اس عقیدے میں کسی قسم کی ترمیم و تحریف کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ نبی کریمﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا اعلان کرتا ہے وہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ اس عقیدے کی اہمیت کو جہاں تحریر وتقریر کے ذریعے واضح کیا گیا‘ وہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں 7 ستمبر 1974ء کو ختم نبوت کے دفاع کیلئے متفقہ قرارداد پیش کی گئی اور یوں دنیا بھر میں اس مسئلے کی قانونی حیثیت بھی واضح ہو گئی۔
یکم نومبر کو مغرب کی نماز کے بعد رول ماڈل انسٹیٹیوٹ میں ''فتنوں کے مقابلے پر ایمان کی حفاظت‘‘ کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مرد وخواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے سامعین کے سامنے اس بات کو رکھا کہ ایمان اللہ تبارک وتعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور باقی تمام نعمتیں اسی کے ساتھ معنی خیز ہوتی ہیں۔ فرعون کے پاس عہدہ تھا‘ قارون کے پاس سرمایہ تھا‘ ہامان کے پاس منصب تھا اور ابولہب کا تعلق ایک بڑے قریشی خاندان کے ساتھ تھا لیکن یہ لوگ اس لیے ناکام ہو گئے کہ ایمان کی دولت سے محروم رہے۔ ایمان کو نقصان پہنچانے والے فتنوں سے ہمیں باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ چند اہم فتنے درج ذیل ہیں: 1: بد اعتقادی۔ 2: نبی کریمﷺ کی اتباع میں سستی اور کوتاہی۔ 3: مادہ پرستی۔ 4: شہوات کی پیروی۔ 5: خواہشات کا اتباع۔ 6: پروپیگنڈے کا فتنہ‘ جس میں جھوٹ اور سچ کی آمیزش ہوتی ہے۔
2 نومبر کو کراچی کے ایک بڑے تعلیمی ادارے‘ جامعہ ابی بکر میں ظہر کی نماز کی ادائیگی کے بعد اساتذہ اور طلبہ کے سامنے اپنی گزارشات کو رکھنے کا موقع ملا جن کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ قارئین کے سامنے بھی پیش کرنا چاہتا ہوں: اللہ تبارک وتعالیٰ کا چنا ہوا اور پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اور اسکی بنیاد اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریمﷺ کے ارشادات اور تعلیمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس کو جمیع انسانیت کیلئے اسوۂ کامل بنایا۔ آپﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا اور سورۃ النساء میں اس بات کو واضح فرما دیا کہ جس نے نبی کریمﷺ کی اطاعت کی‘ درحقیقت اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ نبی کریمﷺ کی اتباع دنیاوی اور اخروی کامیابی کی بنیاد ہے لیکن بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنیاد پر اتباع رسولﷺ سے محروم ہو جاتے ہیں‘ جس کی چند اہم وجوہ درج ذیل ہیں:
(1) آبائو اجداد کی اندھی پیروی: ہر شخص کو طبعاً اپنے آبائو اجداد سے محبت ہوتی ہے اور وہ ان کی ہر بات کو اپنے لیے اہم سمجھتا ہے لیکن اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہﷺ کی بات کے مقابلے میں آبائو اجداد کی بات پر اصرار کرنا درست نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 104 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا‘ (کیا) اگر چہ ان کے بڑے نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں‘‘۔ (2) مذہبی رہنمائوں کی ہر بات کو بلا چون وچرا تسلیم کرنا: کتاب وسنت کے مطابق نبی کریمﷺ کی بات کے مقابلے میں اپنے مذہبی رہنمائوں کی ہر بات کو بلا چون وچرا تسلیم کرنا درست نہیں ہے۔ مذہبی رہنمائوں کی عزت اور احترام کے ساتھ ان کی اُسی بات کو تسلیم کرنا چاہیے جو کتاب وسنت سے ثابت ہو۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت عدیؓ بن حاتم طائی سے روایت ہے کہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا‘ میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: ''عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو‘ میں نے آپﷺ کو سورۃ التوبہ کی آیت اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ (انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے) (التوبہ: 31) پڑھتے ہوئے سنا۔ آپﷺ نے فرمایا: ''وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے‘ لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے اور جب وہ لوگ ان کیلئے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے‘‘۔ (3) اپنے سیاسی رہنمائوں کی ہر بات کو حجت سمجھنا: دین وشریعت میں اپنے سرداروں‘ چودھریوں‘ وڈیروں اور سیاسی رہنمائوں کی بلا دلیل اور غیر مشروط پیروی کی بھی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیات: 66 تا 67 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے۔ (حسرت وافسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے۔ اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راہِ راست سے بھٹکا دیا‘‘۔ (4) خواہشات کی پیروی: کتاب وسنت کے مطابق اللہ اور نبی کریمﷺ کے مقابلے پر اپنے خواہش کی پیروی کرنے والے لوگ ناکام ونامراد ہو جائیں گے جبکہ اپنی خواہش کو دبا کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات کو ماننے والے لوگ کامیاب ہو جائیں گے۔ سورۃ النازعات کی آیات: 37 تا 41 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہو گی)۔ اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہو گی)۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے‘‘۔ (5) اکثریت کی پیروی: عوام کے اکثریت کی رائے اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات سے متصادم ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت: 116 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کر دیں‘‘۔
اساتذہ و طلبہ نے ان گزارشات کو بہت توجہ کے ساتھ سنا۔ یوں دورۂ کراچی اپنے جلو میں بہت سی خوبصورت یادوں کو لیے مکمل ہوا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved