تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     05-11-2026

گھومنے والی چرمی کرسی

انگریزی اخبار پڑھنے کا چسکا پڑا تو روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ اس سے پہلے وفات پا چکا تھا۔ ہم نے تو اس کی شکل ہی نہیں دیکھی۔ پاکستان کے شمالی شہروں میں اس وقت روزنامہ ''پاکستان ٹائمز‘‘ کا راج تھا۔ 1967ء کے اواخر میں ڈھاکہ یونیورسٹی پہنچا تو وہاں کے معروف انگریزی روزنامہ ''پاکستان آبزرور‘‘ کے ساتھ دل نہ لگا۔ ہاکر سے کہا کہ لاہور کا اخبار ''پاکستان ٹائمز‘‘ چاہیے۔ بنگالی ہاکر کہنے لگا: صاحب! اسی دن تو نہیں‘ دوسرے دن صبح دے دیا کروں گا۔ چنانچہ پاکستان ٹائمز ایک دن بعد ملنے لگا۔ میرے لیے اس میں سب سے زیادہ دلچسپ خالد حسن کا کالم Of This and That ہوتا تھا جسے میں باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ ان کا ایک کالم آج یاد آ رہا ہے۔ وہ ایک بیورو کریٹ سے ملنے اس کے دفتر جاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں بیورو کریٹ اپنے دونوں کانوں سے آلۂ سماعت باہر نکالتا ہے۔ پھر وہ اپنا دایاں بازو جسم سے ہٹا کر میز پر رکھ دیتا ہے۔ یہ بازو مصنوعی تھا۔ پھر بایاں بازو بھی میز پر رکھ دیتا ہے۔ پھر مصنوعی پاؤں! پھر مصنوعی ٹانگیں!! خالد حسن کہنا یہ چاہتے تھے کہ کچھ افسر کرسی نہیں چھوڑ سکتے خواہ پورا جسم مصنوعی کیوں نہ لگانا پڑے۔ یہاں تک کہ کرسی پر ہی ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔
نصف صدی پیشتر کا یہ بھولا بسرا کالم آج اس لیے یاد آیا کہ میڈیا کے مطابق سابق سیکرٹری خارجہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد ترکیہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے نئی اننگز کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ کیریئر ڈپلومیٹ رہیں۔ مقابلے کا امتحان دے کر فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ وزارتِ خارجہ میں ڈائریکٹر اور ایڈیشنل سیکرٹری رہیں۔ کولمبو اور کوپن ہیگن میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ملائیشیا‘ یورپی یونین‘ بلجیم اور لکسمبرگ میں سفیر رہیں۔ اس کے بعد وہ وہ سیکرٹری خارجہ کے بلند اور باوقار منصب پر رہیں۔ فارن سروس میں شامل ہونے والے ہر افسر کا نقطۂ معراج یہی پوسٹ ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں تعینات پاکستان کے تمام سفیر سیکرٹری خارجہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بلندی پر پہنچنے کے بعد محترمہ سروس کو خیر باد کہتیں۔ گھر بیٹھ کر اپنے طویل کیریئر کے حوالے سے کتابیں تصنیف کرتیں۔ یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتیں۔ یہی کچھ امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے کیا۔ وہ وزارت سے اتریں تو سیدھا یونیورسٹی کا رخ کیا اور پروفیسر لگ گئیں۔ کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ رہیں۔ ہنری کسنجر وزارتِ خارجہ سے فارغ ہوئے تو ''کسنجر ایسوسی ایٹس‘‘ کے نام سے اپنی فرم بنائی جو بین الاقوامی موضوعات پر Consultancy کا کام کرتی تھی۔ سفارتکاری اور عالمی امور پر کسنجر نے درجن سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر کنڈولیزا رائس اور کسنجر چاہتے تو کسی بھی ملک میں سفیر نہیں لگ سکتے تھے؟ یقینا لگ سکتے تھے۔ مگر وہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد کسی کمتر منصب پر نہیں اترے۔ کسی حکومتی منصب کی خواہش نہیں کی۔ جنرل عبد الوحید کاکڑ کی حال ہی میں وفات ہوئی۔ انہیں توسیع پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی تھی۔ مگر انہوں نے اپنی نارمل مدتِ ملازمت پوری کرنے کے بعد ایک دن بھی وردی میں نہیں گزارا۔ ان کی وفات پر انہیں شاندار خراجِ تحسین پیش کیا گیا! اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کا ذکر نا مناسب نہ ہو گا۔ وہ تین سال پاکستان اکادمی ادبیات کی سربراہ رہیں۔ اگر چاہتیں تو توسیع لے سکتی تھیں جس کی ایک نہیں کئی مثالیں اور نظائر موجود تھیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق متعلقہ وزارت نے بھی انہیں پیشکش کی کہ وہ ایک میعاد مزید گزاریں مگر ڈاکٹر نجیبہ نے بہت متانت اور شائستگی سے تمام پیشکشیں رد کیں اور گھر چلی گئیں تاکہ کسی اور کو کام کرنے کا موقع ملے!
ہماری بیورو کریسی کا عجیب و غریب مزاج ہے۔ ٹاپ پر پہنچ کر‘ ریٹائر ہو کر‘ مزید ملازمت چاہیے۔ اس کیلئے اپنے ہی ماتحت کے نیچے کام کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ محترمہ ترکیہ میں سفیر ہو کر اُس سیکرٹری خارجہ کی ماتحت ہو گئیں جس کی وہ باس تھیں۔ پاکستان کی فوج دنیا کی افواج میں ایک ممتاز اور منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس فوج کی سربراہی سے فارغ ہو کر کسی دوسرے ملک میں جا کر‘ اس سے کم درجے کی ملازمت کرنا کتنی عجیب اور ناقابلِ یقین بات ہے‘ مگر یہ بھی ہوا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!! عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!! نوکر شاہی کے کچھ ارکان تو ایسے ''دور اندیش‘‘ ہیں کہ نوکری شروع کرتے ہی نوکری کے بعد کا بندوبست کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس طریقِ واردات کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کسی ایک سیاستدان کو پکڑ لینا! اس کے ساتھ نتھی ہو جانا۔ اس کے ساتھ تعیناتیاں کرانا۔ اسے ہی حکومت سمجھنا! اسے ہی ریاست گرداننا! ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ملازمت کیوں نہیں دلوائے گا؟ (ن) لیگ کی قیادت نے ایک پولیس افسر کو سینیٹ کی نشست دلوائی تھی! کیا ثواب کیلئے دلوائی تھی؟ نہیں بھائی! یہ عمر بھر کی خدمت کا صلہ تھا! کل کی نوکر شاہی آج کی کابینہ میں یوں ہی تو نہیں بیٹھی ہوئی! یہ بخشش فی سبیل اللہ تو نہیں ہوئی۔ ایک اور طریقِ واردات یہ ہے کہ کوئی انفارمیشن‘ کوئی فائل‘ کوئی سرکاری دستاویز‘ کسی ایسے بااثر شخص کو مہیا کرنی جو اس کے کام کی ہو۔ ایسی خدمت بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کام آتی ہے۔ اس حوالے سے میرے بھی تجربات ہیں جن کے ذکر کا یہ موقع نہیں۔ (میں نے اپنی خود نوشت میں ان کا قدرے تفصیلی ذکر کیا ہے)۔ یہاں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ جن صاحب کو میں نے خفیہ سرکاری فائل دکھانے یا دینے سے انکار کیا تھا ان کا فرمان تھا کہ ''کل ہم بھی آپ کے کام آئیں گے‘‘۔ اس پیشکش کا اسی وقت شکریہ ادا کر دیا تھا! فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں ریٹائرڈ افسروں کی تعیناتیاں ذاتی تعلقات یا سفارش کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے اقبال کے اس مصرع پر ذرا غور سے نظر ڈالیے ''چلنے والے نکل گئے ہیں‘‘۔ وفاقی دارالحکومت میں تین قبرستان ہیں۔ ایک تو عام قبرستان ہے جس میں وہ لوگ دفن ہوتے ہیں جن کی روحیں ان کے جسموں سے نکل کر پرواز کر جاتی ہیں۔ دوسرے دو قبرستانوں کے نام ہیں۔ وفاقی محتسب کا دفتر اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا دفتر۔ ان میں ریٹائرڈ افسروں کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی ایک ایک شاخ ایک ایک صوبے میں بھی موجود ہے۔
ایک ریٹائرڈ افسر کو توسیع دینا محض توسیع دینا نہیں ہے‘ اس سے Chain reaction پیدا ہوتا ہے۔ یعنی اس کا ایک نتیجہ نکلتا ہے۔ اس سے دوسرا نتیجہ‘ پھر دوسرے نتیجے سے تیسرا نتیجہ نکلتا ہے۔ حاضر سروس افسروں کی ترقیاں رک جاتی ہیں۔ اس سے ان میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ مایوسی کا نتیجہ پیشہ ورانہ کام میں عدم دلچسپی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یوں سرکاری مشینری کی کارکردگی‘ مجموعی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ مگر توسیع لینے والوں کو اور توسیع دینے والوں کو ان سب نتائج کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ توسیع دینے والے وفاداری خریدتے ہیں۔ توسیع لینے والے کو مزید کچھ برسوں کیلئے گھومنے والی چرمی کرسی میسر آجاتی ہے۔ رہا ملک! تو وہ یوں بھی آٹو پر چل رہا ہے! ابھی ایک مولانا صاحب نے فرمایا ہے کہ ریاست نے ہمیں کیا دیا ہے؟ ایک رباعی یاد آرہی ہے جو حضرت ابو سعید ابو الخیر سے منسوب ہے:
گفتی کہ فلان ز یادِ ما خاموش ست ؍ از بادۂ عشق دیگری مدہوش ست
شرمت بادا ہنوز خاکِ درِ تو؍ از گرمی ٔخونِ دلِ من در جوش ست
تم نے کہا ہے کہ فلاں میری یاد سے غافل ہے۔اور کسی اور کی محبت میں گرفتار ہے۔تمہیں شرم آنی چاہیے! ابھی تو تمہارے دروازے کی مٹی میرے دل کے خون کی گرمی سے جوش میں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved