تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     05-11-2026

سید مودودی کا فکری وارث کون؟

برادرِعزیز حسن الیاس سید مودودی کے مرقد تک پہنچے تو ان کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ اُن کی تصویر ہوا کے دوش پر سوار کہیں سے کہیں جا پہنچی۔ سید کے کچھ عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو انہیں جذبات کا یہ بے ساختہ پن پسند نہیں آیا۔ اُن کے ردِعمل سے معلوم ہوا کہ مولانا کے ساتھ اظہارِ محبت کے حقوق محفوظ ہیں۔ ہما شما کیلئے یہ دروازہ بند ہے۔ اس کا ایک سبب اور بھی ہے اور وہی میرا موضوع ہے۔
حسن الیاس‘ جاوید احمد صاحب غامدی کے شاگرد‘ ان کی فکر کے شارح اور خوشہ چین ہیں۔ وہ ان کے داماد بھی ہیں۔ جاوید صاحب مولانا مودودی کی تعبیرِ دین کو اساسی طور پر درست نہیں سمجھتے۔ مولانا کے ان عقیدت مندوں کا خیال ہے کہ جو اُن کی فکر سے اس نوعیت کا اختلاف رکھتا ہو‘ اس کا مولانا سے کوئی فکری تعلق نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر خود کو ان کے فکری وارثین میں شمار کرتا یا اپنے کام کو ان کے فکری تسلسل میں دیکھتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ سچا نہیں۔ وہ اگر اظہارِ محبت کرتا ہے تو یہ بھی کوئی چال ہے۔ وہ دراصل مولانا کی وراثت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اُن کی قبر پر بہنے والے ایسے آنسوئوں کو حقیقی سمجھ کر‘ مولانا کے اصل وارثوں کو دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ وہ خبردار رہیں اور ان بہروپیوں سے اپنی وراثت کو بچائیں۔ مولانا کے حقیقی وارث وہی ہوں گے جو اُن کی فکر کو بنیادی طور پر درست سمجھتے ہوں۔
یہ مقدمہ ایک گمان پر مشتمل ہے اور ایک نقطہ نظر پر۔ گمان کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور مولانا کے ان عقیدت مندوں پر چھوڑتے ہوئے‘ مجھے اس نقطہ نظر کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے۔ فکرِ مودودی پر غامدی صاحب کا تنقیدی کام چند صفحوں کا ایک مضمون ہے جو 'تاویل کی غلطی‘ کے عنوان سے ان کی کتاب 'برہان‘ میں شامل ہے۔ اگر یہ تعبیر درست نہیں تو اُن کے خیال میں صحیح تعبیر کیا ہے؟ جاوید صاحب کا بیشتر کام اس سوال کا جواب ہے۔ یہ کام اپنے جوہر میں تنقیدی نہیں۔ فکرِ مودودی کو انہوں نے کبھی اپنا ہدف بنایا نہ اس کے خلاف کوئی مہم اٹھائی۔ اپنی کتاب 'میزان‘ پڑھاتے ہوئے‘ محض تعلیمی ضرورت سے یا کسی استفسار کے جواب میں‘ انہوں نے تنقید کی۔ کم وبیش نصف صدی پر محیط اُن کی علمی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ کوئی ایک مثال ایسی نہیں کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے لوگوں کو بطورِ خاص اپنا 'ربط‘ بنایا ہو۔ انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ انہیں کوئی جماعت کھڑی کرنا تھی نہ اقتدار کی جنگ کا حصہ بننا تھا۔ دعوتی مقاصد کیلئے انہوں نے ایک بار تنظیم کی ضرورت محسوس کی تو 'الانصار المسلمون‘ قائم کی۔ جلد ہی اندازہ ہوا کہ جماعت سازی دعوتِ دین کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جو عصبیت دین کیلئے خاص ہونی چاہیے‘ وقت کے ساتھ ساتھ وہ جماعت کو منتقل ہو جاتی ہے۔ پھر دین کا دفاع اور جماعت کا دفاع ہم معنی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ باب ہی بند کر دیا۔ گزشتہ بیس پچیس برس سے‘ ان کی تمام تر سرگرمی دعوتی وتعلیمی ہے۔ اُن کی مخاطب تمام بنی نوع انسان ہے۔ اپنے پرانے تعلق کی وجہ سے‘ وہ جماعت اسلامی کو اپنی برادری سمجھتے ہیں۔ اب جماعت ان کو کیا سمجھتی ہے‘ یہ میرا مسئلہ نہیں۔
اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے‘ اب آئیے اصل قضیے کی طرف۔ فکری تسلسل کیلئے‘ یہ لازم نہیں کہ غور وفکر کا منہج یا نتیجہ فکر بھی ایک ہو۔ بعض اوقات جزوی اتفاق بھی اہلِ علم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ تسلسل کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ ایک بڑے دائرے میں رہتے ہوئے‘ آزادانہ غور وفکر کے قائل ہوں۔ دینی علم کے باب میں یہ دائرہ قرآن وسنت ہے۔ مولانا مودودی اس علمی وفکری روایت کے امین ہیں‘ جو امام غزالی‘ ابنِ تیمیہ‘ شیخ احمد سرہندی‘ شاہ ولی اللہ‘ شبلی‘ ابوالکلام آزاد اور علامہ اقبال کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ اس فہرست میں شامل کئی شخصیات کا تعلق تصوف کی روایت سے ہے۔ مولانا مودودی اس کے ناقد تھے۔ اس روایت سے ان کا اختلاف اساسی تھا۔ اس کے باوصف‘ مولانا مودودی کا ذکر ان کے تسلسل میں کیا جاتا ہے۔ مولانا خود غزالی اور ابن تیمیہ کو تجدید و احیائے دین کی روایت کے استمرار میں دیکھتے ہیں۔ وہ یہ ربط کیسے قائم کرتے ہیں‘ ملاحظہ کیجیے: ''امام غزالی کے تجدیدی کام میں علمی وفکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے اُن کے کام میں پیدا ہوئے۔ دوسری قسم اُن نقائص کی جو اُن کے ذہن پر عقلیات کے غلبے کی وجہ سے تھے۔ اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔ ان کمزوریوں سے بچ کر امامِ موصوف کے اصل کام یعنی اسلام کی ذہنی واخلاقی روح کو زندہ کرنے اور بدعت وضلالت کی آلائشوں کو نظامِ فکر ونظامِ تمدن سے چھانٹ چھانٹ کر نکالنے کے کام کو جس شخص نے آگے بڑھایا‘ وہ ابن تیمیہ تھے‘‘۔
مولانا مودودی کو مولانا آزاد کا نقشِ ثانی سمجھا جاتا ہے‘ لیکن مولانا آزاد کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ''مولانا کے ہاں بہت سے خلا ہیں اور بہت سی چیزیں اسلامی نظریے کے ساتھ گڈمڈ ہو گئی ہیں‘‘ (شخصیات‘ صفحہ 232)۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی کی بھی سنیے‘ جو ایک وقت میں جماعت اسلامی کا حصہ رہے۔ مولانا کی فکر پر ان کی تنقید وہی ہے‘ جو جاوید غامدی صاحب کی ہے۔ وہ بھی مگر‘ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی ہیں۔ اب اگر غزالی و ابن تیمیہ‘ آزاد و مودودی اور مودودی و علی میاں تجدید و احیائے دین کی روایت کا تسلسل ہو سکتے ہیں تو مودودی و غامدی کیوں نہیں؟
مولانا مودودی اور جاوید غامدی صاحب میں فکری مماثلتیں بھی بہت ہیں۔ مثال کے طور پر‘ حدیث و سنت کے باب میں دونوں کا نقطۂ نظر ایک ہے۔ میں اس کی بہت سے مثالیں دے سکتا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ عقیدت مندوں نے نہ تو مولانا مودودی کو طالب علمانہ انداز میں پڑھا ہے اور نہ غامدی صاحب کو۔ انہیںیہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے آج جن الزامات کے ساتھ جاوید غامدی صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے‘ کل مولانا مودودی بھی انہی الزامات کے ساتھ کٹہرے میں کھڑے تھے اور اُس وقت مدعی ہمارا روایتی مذہبی طبقہ تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ‘ جنہوں نے روایت میں رہتے ہوئے قرآن و سنت پر آزادانہ غور کا راستہ اختیار کیا‘ وہ باہمی اختلاف کے باوجود ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ ائمہ اربعہ اگر حلال و حرام میں اختلاف رکھتے ہوئے‘ ایک ہی روایت کے امین ہو سکتے ہیں۔ اقبال و مودودی‘ دو مختلف مذہبی دھاروں سے تعلق رکھتے ہوئے‘ جزوی اتفاق کی وجہ سے ایک لڑی میں پروئے جا سکتے ہیں تو مولانا مودودی اور جاوید غامدی کیوں نہیں؟
جماعت اسلامی کی قیادت‘ میرے علم کی حد تک‘ کبھی کسی تشویش یا خوف میں مبتلا نہیں ہوئی۔ اُسے علم ہے کہ غامدی صاحب اُن کے حریف نہیں۔ دونوں کی دنیائیں الگ ہیں۔ عقیدت مندوں کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جو آنسو بے اختیار اقبال کی قبر پر بہہ نکلیں یا سید مودودی کے مرقد پر‘ مولانا امین احسن اصلاحی کی لحد پر یا شاہ اسماعیل شہید کے مزار پر‘ ان کی حقیقی ہونے میں مجھے کبھی شبہ نہیں ہوا۔ میں اقبال اور شاہ اسماعیل کی قبروں پر ایک جیسی کیفیت سے دوچار ہوا ہوں۔ آنسو دماغ کی نہیں‘ دل کی سنتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved