مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انہوں نے خواجہ آصف کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ محض انہوں نے خواجہ صاحب کو گدگدی کی تھی۔ سوچتا ہوں اگر یہ گدگدی تھی تو پھر نشتر زنی کیسی ہوتی ہو گی؟
پاکستانی سیاست بھی عجیب رنگوں کی مصوری ہے۔ یہاں کبھی کوئی کسی کو للکارتا ہے‘ کبھی کوئی کسی کو آئینہ دکھاتا ہے‘ کبھی کوئی کسی کی تاریخ کھنگالتا ہے اور کبھی کوئی کسی کے صبر کا امتحان لیتا ہے‘ لیکن سیاست کے اس سنجیدہ اور خشک ماحول میں مولانا فضل الرحمن نے ایک ایسا لفظ اچھال دیا ہے جس نے سیاسی ایوانوں میں تفننِ طبع کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
ہماری سیاست میں عموماً لوگ ایک دوسرے کو چوٹ پہنچاتے ہیں اور پھر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکتے ہیں تاکہ مخالف کو زیادہ سے زیادہ اذیت سے دوچار کیا جا سکے‘ مگر مولانا نے کمال کر دیا۔ پہلے نشتر زنی کو گدگدی قرار دیا‘ پھر وضاحت فرمائی کہ یہ تو محبت کا ایک معمولی سا اظہار تھا۔ اگر محبت کا معمولی سا اظہار اتنا شدید تھا تو شدید تر محبت کا شدید ترین اظہار کیسا ہوتا ہو گا؟ اب فریقِ مخالف اگر اس محبت یا گدگدی کو سیاسی حملہ سمجھ بیٹھے تو اس میں گدگدی کرنے والے کا کیا قصور؟ عام زندگی میں گدگدی کے بعد آدمی ہنستا ہے‘ مگر سیاست میں بعض گدگدیاں ایسی ہوتی ہیں کہ آدمی ہنسنے کے بجائے تقریر کرنے لگتا ہے‘ اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اتنا کرب محسوس کرتا ہے کہ ردِ عمل دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایسی گدگدی کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بہت سی ایسی باتیں اور راز منکشف ہو جاتے ہیں جو قوم کے یہ کرم فرما شاید ایسے ہی مواقع کیلئے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ یہ انکشافات وقت پر کیوں نہیں کیے جاتے کہ ان حالات و واقعات کا سد باب کیا جا سکے‘ یا کم از کم ان کا رخ موڑا جا سکے جو غلط فیصلوں اور اقدامات کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں اور ملکی تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسے انکشافات صرف اسی وقت کیوں کیے جاتے ہیں جب سیاسی اختلافات سر ابھارتے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ کسی کام کو اسی وقت ٹھیک کیا جائے جب یہ غلط ہونا شروع ہوتا ہے۔ کیا ہمارے قابلِ قدر سیاسی لیڈر اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی اس وقت کی خاموشی کیسے کیسے مسائل اور کیسے کیسے بحرانوں کا باعث بنتی رہی ہے؟
اس سارے قصے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عوام کی طرح مذکورہ دونوں رہنما بھی ایک دوسرے کے سیاسی مزاج سے بخوبی واقف ہیں۔ خواجہ آصف کی زبان میں برجستگی اور طنز کا اپنا رنگ ہے۔ اپنے بیانات کے ذریعے فریقِ مخالف پر ایسا یکبارگی حملہ کرتے ہیں کہ فریقِ مخالف سنبھل نہیں پاتا‘ بڑی دیر بعد اس کے حواس بحال ہوتے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن کے پاس الفاظ کا ایسا ذخیرہ ہے جس میں مذہبی استعارے بھی ہیں‘ سیاسی لطافت بھی اور موقع محل کے مطابق طنز کے تیر بھی۔ مولانا صاحب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بعض اوقات ایک فقرے میں وہ بات کہہ جاتے ہیں جس کیلئے دوسروں کو پوری پریس کانفرنس کرنا پڑتی ہے۔ بیان‘ تقریر یا خطاب کیلئے نستعلیق الفاظ اور فقروں کا استعمال بھی مولانا صاحب بخوبی جانتے ہیں۔ روزمرہ باتوں اور سیاسی تقریروں کے دوران خوبصورت تشبیہات اور استعاروں کا استعمال ان پر ختم ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلافِ رائے کو اتنا ذاتی کیوں بنا دیا جاتا ہے؟ ایک سیاسی رہنما دوسرے کی بات سے اختلاف کرے تو جواب دلیل سے آنا چاہیے‘ نہ کہ نسب نامے‘ آبائی وفاداریوں اور ملک چھوڑنے کے مشوروں سے۔ سیاست کا حسن یہی ہے کہ مخالف کو مخالف سمجھا جائے‘ دشمن نہیں ورنہ گدگدی اور مکے کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور عوام تماشائی بن کر کبھی ہنسیں گے‘ کبھی پریشان ہوں گے کہ ہمارے ملک میں آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ سیاست حقیقت میں ذاتی دشمنی یا تعصب کا نام نہیں بلکہ یہ اختلافِ رائے‘ نظریے‘ منطق اور دلائل کا تلازمہ ہے۔ سیاست میں مختلف خیالات اور نظریات کا ہونا فطری ہے لیکن یہ اختلاف ذاتی عداوت یا دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ اصل سیاست اصولوں‘ فکری مباحث‘ منطق اور عوام کی بہتری کیلئے لائحہ عمل پیش کرنے کا نام ہے‘ نہ کہ کردار کشی کا۔ جو لوگ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی تک لے جاتے ہیں‘ وہ جمہوریت کی روح کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سیاسی نظام کا اصل مقصد معاشرے کی اصلاح‘ عدل و انصاف کا قیام اور عوام کے مسائل کا حل ہوتا ہے‘ اور ہونا چاہیے۔
سیاست کے اس سارے کھیل میں عوام کا حال بھی قابلِ دید ہے۔ انہیں مہنگائی گدگدی بلکہ نشتر زنی کرتی ہے تو وہ ہنس نہیں پاتے‘ بجلی اور گیس کے بل مُکا بن کر آتے ہیں تو ان کا چہرہ پہلے ہی سرخ ہوتا ہے۔ گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا پڑ جائے تو بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ پٹرول ڈلوائے یا گھر والوں کیلئے آٹا خریدے؟ سیاستدان ایک دوسرے کی گدگدی اور مکوں پر بحث کرتے رہتے ہیں لیکن عوام کی سوچ ایک ہی مسئلے تک محدود رہتی ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں؟ عوام سوچتے ہیں‘ قومی رہنماؤں میں کاش کوئی ایسا بھی ہو جو اُن کے مسائل کو سنجیدگی سے لے اور ان کی زندگی میں خوشی کی کوئی حقیقی گدگدی کرے۔ نشتر زنی نہیں‘ خوشگوار گدگدی۔
سائنسدانوں نے گدگدی کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ گارگالیسس (Gargalesis) وہ گدگدی ہے جو کوئی دوسرا شخص کرے تو اس پر زوردار ہنسی آتی ہے اور بعض اوقات اس ہنسی کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نزمیسس (Knismesis) ہلکی سی سرسراہٹ یا کھجلی جیسے احساس کو کہتے ہیں جو پروں یا انگلیوں کو ہلکے سے پھیرنے سے ہوتا ہے اور اس پر ہنسی نہیں آتی‘ لیکن جسے گدگدی کی جاتی ہے وہ حظ ضرور اٹھاتا ہے۔ ہمارے مولانا نے گدگدی کی تیسری قسم متعارف کرا دی ہے‘ جس میں جسے گدگدی کی جائے وہ دوسرے کی باتوں کی تپش پوری طرح محسوس کرتا ہے اور ردِعمل ظاہر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
بہرحال مولانا صاحب کا یہ فقرہ کہ خواجہ آصف بڑے بھائی ہیں‘ میں نے تو انہیں ہلکی سی گدگدی کی ہے‘ ہماری سیاسی لغت میں ایک نئے محاورے کا اضافہ ضرور کر گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خواجہ آصف اس گدگدی کو محض ایک دوستانہ شرارت سمجھتے ہیں یا اس کا جواب دینے کیلئے کوئی نئی سیاسی اصطلاح ایجاد کرتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں بزرگ سیاستدانوں کے مابین یہ معاملہ گدگدی تک ہی محدود رہے‘ مکوں تک نہ پہنچے کیونکہ ملک پہلے ہی بہت سے مسائل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے‘ اس میں مزید سیاسی مکے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ گزارش صرف یہ ہے کہ آپ ایک دوسرے کو ضرور گدگدی کرتے رہیے‘ مگر خدارا عوام کا بھی کچھ خیال کریں کہ وہ مہنگائی کی گدگدیوں یعنی نشتر زنیوں کی وجہ سے بے حال ہوتے جا رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور خواجہ آصف کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے مابین بیانات کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر چودھری سالک حسین کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس ارسال کردیا ہے جبکہ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہوں۔ اب اس نئی جنگ کو گدگدی قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں‘ اس کا فیصلہ قارئین خود کر لیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved