پشاور کا قدیم قلعہ بالا حصار خاموش تھا۔ بالا حصار اور سامنے بچھی ہوئی رواں دواں جرنیلی سڑک ایک دوسرے کو تکتے تھے۔ قلعہ بالا حصار نے حیرانی اور خاموشی سے یہ منظر دیکھے کہ پشاور میں حکومت بدل گئی‘ نئے حکمران آ گئے اور پرانے حکمران اسیر ہو گئے۔ نہ انکی کوئی خبر آتی ہے‘ نہ بیان۔ پرانے کوتوال‘ داروغہ اور عمال معزول کر دیے گئے۔ نئے لوگوں نے مسندیں سنبھال لیں۔ سب کچھ ہوگیا لیکن ایسے جیسے کچھ نہیں ہوا۔ قصہ خوانی اور نمک منڈی میں چپل کباب اور نمکین گوشت کی مہک اسی طرح‘ اور ارغوانی قہوے کی محفلیں اسی طرح سج رہی ہیں۔ ایسی تبدیلی قلعہ بالا حصار نے پہلے کب دیکھی تھی۔
بالا حصار کو 1826ء کا زمانہ یاد آنے لگا۔ قلعہ لاہور کے عجائب گھر میں ایک حنوط شدہ گھوڑی کھڑی یاد آئی۔ گھوڑی کا نام لیلیٰ تھا اور اس لیلیٰ کے ایک نہیں کئی مجنوں تھے۔ ایک سے ایک بڑا عاشق اور ایک سے ایک بڑا حکمران۔ لیلیٰ پشاور کے حکمران یار محمد خان کی ملکیت تھی۔ یار محمد خان کا بھائی اسی دور میں کابل کا حکمران تھا۔ لیلیٰ کی خوبصورتی اور خصوصیات کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی اور بڑے بڑے حکمران‘ جن میں شاہِ روم بھی شامل تھا‘ اس کیلئے خطیر رقم کی پیشکش یار محمد خان کو کر چکے تھے لیکن اسے اس گھوڑی سے عشق تھا اور وہ کسی قیمت پر اسے جدا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ تختِ لاہور کے سردار رنجیت سنگھ تک لیلیٰ کی خوبصورتی اور خصوصیات کی تفصیلات پہنچیں تو اعلیٰ گھوڑوں کا یہ شائق بے قرار ہو گیا۔ وہ ہر قیمت پر یہ گھوڑی حاصل کرنا چاہتا تھا‘ چاہے اس کیلئے کتنی ہی مائوں کے جوان بیٹے اور کتنی ہی عورتوں کے سہاگ قربان ہو جائیں۔ سکھا شاہی کا دبدبہ پشاور کے حکمران کو لرزاتا تھا لیکن اس نے رنجیت سنگھ کا ہر مطالبہ ٹھکرا دیا۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ کسی حکمران کی طرف سے مطالبے پر گھوڑے کا دیا جانا ایک طرح سے سر اطاعت خم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ سکھ فوجیں پشاور پہنچنے لگیں تو وہ لیلیٰ کو لے کر پہاڑوں کی طرف فرار ہو گیا۔ ایک بار نہیں‘ بار بار کی جنگوں اور سفارتوں کی جزئیات قلعہ بالا حصار کے سینے میں دفن ہیں۔ لیلیٰ کو تو بالآخر بہت سی جنگوں کے بعد رنجیت سنگھ نے حاصل کر لیا لیکن ٹرائے کے ٹروجن ہارس کے بعد یہ پہلی گھوڑی تھی‘ جس کے سبب پشاور کی وادیاں بار بار لالہ رنگ ہوئیں۔
قلعہ بالا حصار 2026ء میں بھی اپنی بلند فصیلوں کے ساتھ جرنیلی سڑک پر کھڑا ہے۔ اب ان خونیں معرکوں کو 200 سال بیت چکے ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے‘ قلعے کے اطراف نعروں اور للکاروں سے گونجتے تھے۔ لگتا تھا حکومت گرائی جائے گی تو اس بار زیادہ خون بہے گا۔ لیکن قلعے کو حیرت ہے کہ اس بار معرکے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا ۔ نہ توپیں گرجیں اور نہ کوئی سپاہی فصیل پر کمند ڈال کر چڑھا۔ سب کچھ اس طرح خاموشی سے بدل گیا جیسے دن رات میں اور رات دن میں بدلتے ہیں۔ بالا حصار ان نعرے بازوں اور للکارنے والوں کو تلاش کرتا ہے جو کچھ دن پہلے یہیں تھے اور اب کہیں نظر نہیں آتے۔ قلعے کو یاد ہے کہ 200 سال پہلے کے حکمران کو بھی سمجھایا گیا تھا کہ ایک گھوڑی کیلئے ہزاروں نوجوانوں کو مروا دینا کوئی دانشمندی نہیں لیکن اس نے ایک نہیں سنی۔ وہ اپنی جذباتیت‘ اپنے گھمنڈ اور اپنے عشق میں وہ سب کچھ پڑھنے سے قاصر تھا جو قلعے کی دیواروں پر لکھا نظر آ رہا تھا۔ 200 سال بعد 2026ء کے معزول حکمران کو بھی دانشمندوں اور خیر خواہوں نے بہت سمجھایا کہ یہ آخری قلعہ اپنی جذباتیت اور غیر دانشمندی کی نذر نہ کریں۔ معاملات تدبر اور حکمت سے سلجھانے چاہئیں۔ اپنے اسیروں کو رہا کرانے اور قلعے کو محفوظ رکھنے کا یہی راستہ ہے۔ یہ دیواروں پر لکھا ہوا سب کو نظر آ رہا تھا لیکن جذباتیت اور گرم خون ہر بار عقل کا راستہ روک لیتے ہیں۔
بالا حصار کو حیرانی ہے کہ زمین کے طول و عرض میں لوگ حکومت کی تبدیلی پر احتجاج کیلئے نہیں نکلے۔ یہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ یہ گھرانہ تو لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لایا کرتا تھا‘ اس کی عوامی طاقت تھی۔ وہ سب کہاں گئے! جو ہو چکا اس سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا! لیکن سکوت نہیں ٹوٹا۔ کہیں اگر بحث ہو رہی ہے تو پشاوری حکومت کی معزولی پر نہیں بلکہ ایک الگ معاملے پر۔ سکوت اگر کہیں ٹوٹا تو صرف دارالحکومت کے ایوانوں میں جہاں کرسیوں پر بیٹھے وزیروں‘ ایک سابقہ اور ممکنہ طور پر نئے خواہشمند حکمران کے درمیان زبانی جھڑپیں ہوئیں۔ یہ زبانی تلواریں پشاوری حکومت کی معزولی سے متعلق اتنی نہیں تھیں جتنی باتیں ایک دوسرے کے کردار سے متعلق کی گئیں۔ معتوب‘ معزول گروہ کا ان زبانی جھڑپوں میں حصہ بس اتنا تھا کہ انہوںنے وزیروں کی مذمت کی اور ان کے مخالف کا ساتھ دیا۔ یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر۔
بالا حصار میں اگر قوتِ گویائی ہوتی تو وہ چند دن پہلے کے تخت نشین اور اب اسیر حاکم کو سمجھاتا کہ حکومتیں صرف طاقت سے نہیں چلا کرتیں۔ توپیں اور بندوقیں حفاظت کیلئے ہمیشہ ناکافی ہوتی ہیں۔ بڑی توپوں اور زیادہ بندوقوں والے فصیلیں مسمار کرکے محل سرا میں داخل ہو جایا کرتے ہیں۔ ہر طاقتور سے اوپر کوئی طاقتور ہوا کرتا ہے۔ قلعہ اپنے حاکم کو بتاتاکہ حکومت صرف جذبات کو کرسی پر بٹھا دینے کا نام نہیں۔ یہ صرف للکارنے اور نعرے بلند کرنے کا نام نہیں۔ حکومت اور حکمت ایک ساتھ مسند نشین ہونی ضروری ہیں۔ حکومتیں تدبر‘ لچک اور استقامت کے بہترین امتزاج سے باقی رہتی ہیں۔ ہر دلعزیزی بھی ایک حد تک ہی کام دیتی ہے۔ اس کے ساتھ کارکردگی نہ ہو‘ رعایا کی فلاح کے کام نہ ہوں‘ وزارتیں معطل پڑی رہیں‘ وزیروں کو جلسوں ہی سے فرصت نہ ہو‘ محکمے کام ٹھپ کر کے بیٹھ جائیں کہ تمام عملے کو جلسوں اور جلوسوں میں شامل کرنے کے احکام ہوں‘ پوری سلطنت میں ہر روز کبھی سرحدوں پر‘ کبھی شہروں میں خون بہہ رہا ہو تو محض ہر دلعزیزی سے کب تک کام چلایا جا سکتا ہے؟
بالاحصار کو 2013ء یاد آنے لگا۔ جب پہلی بار ایک مقبول اور ہر دلعزیز گھرانہ اس کے محلات میں صوبیداروں کے طور پر داخل ہوا۔ کیسی خوشی کی لہر پورے ملک میں دوڑی ہوئی تھی۔ صرف اس صوبے میں نہیں‘ ملحقہ صوبوں میں بھی اس کی طاقت سب پر عیاں تھی۔ سب سے بڑی بات کہ دارالحکومت میں بھی اس کی طاقت جانی مانی تھی۔ کیسی کیسی توقعات‘ کیسی کیسی امیدیں اس گھرانے سے لگائی جا رہی تھیں۔ صوبیداروں اور گھرانے کے سربراہ کے تحریری‘ تصویری وعدے موجود تھے کہ ہم 90 دن کے اندر کایا پلٹ کر دیں گے۔ امن وامان اور انصاف ہر ایک کا مقدر ہوگا۔ گروہی لڑائیاں اور اقتدار کی چھینا جھپٹی اپنے اختتام تک پہنچے گی۔ لیکن جب پشاور کے صوبیدار کا اعلان ہوا۔ خٹک سردار صوبیدار بنا اور یکے بعد دیگرے صوبیدار آتے اور جاتے گئے تو اندازہ ہونے لگا کہ طریقِ کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی۔ وہی محلاتی جوڑ توڑ‘ وہی غلام گردشوں میں سجے سجائے غلام اور وہی لوگوں کی بے لباسی۔ صوبیداروں کو اتنی فرصت ہی نہ تھی کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں۔ وہ لوگوں سے صرف جلسوں اور جلوسوں میں ملتے تھے۔ صرف دارالحکومت پر چڑھائی کیلئے انہیں بلاتے تھے۔ لوگ صرف زخمی ہونے‘ قید ہونے یا مرنے کیلئے تھے۔ اس سے زیادہ ان کا نئے انتظام میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ 156 مہینے 13 سالوں میں تبدیل ہو گئے لیکن بدلا کچھ نہیں۔ تبدیلی آئی بھی نہیں اور تبدیلی آ بھی نہیں رہی تھی۔
جرنیلی سڑک نے قلعہ بالا حصار کی طرف دیکھا۔ دونوں قدیم ساتھی ایک دوسرے کے دکھ پہچانتے تھے۔ سڑک نے قلعے سے کہا: تمہیں پتا ہے ہمارے المیے کیا ہیں؟ ہم ان صوبیداروں سے زیادہ تاریخ جانتے ہیں‘ ان حکمرانوں سے زیادہ دانشمند ہیں‘ ان عُمال سے زیادہ عوام کا مزاج جانتے ہیں۔ یہی ہمارا پہلا المیہ اور پہلا دکھ ہے۔ پھر یہ کہ ہماری بات کوئی سنتا نہیں‘ سنتا ہے تو سمجھتا نہیں۔ یہ دوسرا بڑا المیہ‘ دوسرا دکھ ہے۔ بالا حصار خاموشی سے کھڑا رہا۔ آج اس میں جرنیلی سڑک سے بات کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved