تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     05-11-2026

امتِ وسَط کی وحدت: شرعی مسلَّمات سے میثاقِ وحدت تک (1)

دنیا کے موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کو جن گونا گوں مسائل‘ فکری انتشار‘ سیاسی کشمکش اور باہمی اختلافات کا سامنا ہے‘ ان میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ امت کا افتراق و انتشار اور وحدت و اجتماعیت کا فقدان ہے۔ ایک طرف مسلم دنیا مختلف سیاسی‘ دفاعی‘ معاشی اور معاشرتی بحرانوں سے دوچار ہے تو دوسری طرف باہمی اختلافات‘ گروہی تعصبات اور باہمی عدمِ اعتماد نے امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں امت کے اہلِ علم‘ اربابِ فکر ودانش‘ دینی و سیاسی قائدین اور مختلف اسلامی اداروں کے ذمہ داران کا ایک جگہ جمع ہونا اور امت کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ مشاورت کرنا یقینا ایک اہم اور قابلِ قدر پیش رفت ہے۔اسی پس منظر میں عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین ''الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین‘‘ کے زیرِ اہتمام ترکیہ کے شہر استنبول میں 28 تا 30 اکتوبر 2026ء ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اسکا عنوان ''وحدۃ الامۃ الوسط من الثوابت الی میثاق الوحدۃ‘‘ تھا‘ یعنی ''امتِ وسط کی وحدت: ابدی‘ شرعی مسلّمات سے میثاقِ وحدت تک‘‘۔ اس کانفرنس میں ستر ممالک سے تقریباً تین سو سرکردہ علماء‘ مفکرین‘ سیاسی و مذہبی قائدین‘ مختلف اسلامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک علمی کانفرنس نہیں تھی‘ بلکہ اسکے پس منظر میں امت کے منتشر شیرازے کو سمیٹنے‘ باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ مقاصد پر جمع ہونے اور وحدتِ امت کے تصور کو عملی شکل دینے کی ایک سنجیدہ کوشش کارفرما تھی۔ اس اہتمام اور کامیاب اجتماع پر ''عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘‘ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی صاحب اور انکے جملہ رفقا اور معاونین تبریک اور تشکر کے مستحق ہیں۔
اس کانفرنس کے انعقاد کیلئے استنبول شہر سے دور‘ سمندر میں ایک جزیرے کو منتخب کیا گیا تھا تاکہ شرکا یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ علمی و فکری مباحث اور باہمی مشاورت میں حصہ لے سکیں۔ یہ جزیرہ یاشوادا (Yassiada) یعنی جزیرۂ جمہوریہ وحریّت کہلاتا ہے‘ اس جزیرے کی اپنی ایک تاریخی داستان ہے۔ ترکی کی سیاسی تاریخ میں 1960ء کی فوجی بغاوت ایک نہایت اہم اور المناک واقعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فوجی انقلاب کے بعد اس جزیرے پر سابق وزیراعظم عدنان میندریس‘ صدر جلال بایار اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ ان مقدمات کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عدنان میندریس‘ ان کے دو ساتھیوں وزیر خارجہ فطین رشدی زورلو اور حسن پولاتقان کو 17 ستمبر 1961ء کو پھانسی دی گئی تھی۔ یوں یہ جزیرہ ترکی کی سیاسی تاریخ میں جمہوریت کی جدوجہد‘ سیاسی آزمائشوں اور قربانیوں کی علامت بن گیا۔ بعد ازاں اس جزیرے کا نام تبدیل کرکے ''جزیرۂ حریت و جمہوریت‘‘ رکھا گیا اور 2020ء میں اسے ایک نئی صورت میں کھولا گیا۔ ایک ایسا مقام جہاں کبھی سیاسی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں انسانی تاریخ کا ایک المناک باب رقم ہوا تھا‘ وہاں آج امتِ مسلمہ کے اتحاد‘ باہمی مشاورت اور اجتماعی مستقبل کیلئے دنیا بھر کے علما اور قائدینِ امت کا جمع ہونا بھی ایک خاص معنویت کاحامل ہے۔کانفرنس کی صدارت ''عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘‘ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی صاحب فرما رہے تھے‘ انہوں نے اس عالمی اجتماع کے انعقاد اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کانفرنس کے بنیادی مقاصد میں امتِ مسلمہ کے مشترکہ دینی وفکری اصولوں کو واضح کرنا‘ شرعی مسلّمات اور اجتہادی متغیرات کے درمیان فرق کو سمجھنا‘ اختلافات کے باوجود باہمی تعاون کے امکانات تلاش کرنا اور وحدتِ امت کیلئے ایک قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرنا شامل تھا۔ اس اجتماع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں وحدتِ امت کو محض ایک جذباتی نعرے یا خطیبانہ موضوع کے طور پر پیش نہیں کیا گیا‘ بلکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ اتحاد کیلئے علمی بنیادیں‘ ادارہ جاتی تعاون‘ سیاسی ہم آہنگی اور عملی منصوبہ بندی ناگزیر ہیں۔
کانفرنس میں دو خصوصی ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا تھا‘ جن کا مقصد وحدتِ امت کے تصور کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا تھا۔ پہلی ورکشاپ سیاسی شخصیات اور قائدین کیلئے مختص تھی جس میںمختلف ممالک سے تشریف لانے والے مذہبی وسیاسی قائدین‘ علماء اور عمائدینِ امت نے عربی زبان میں 'منصوبۂ وحدت‘ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مختلف خطابات میں اُمتِ مسلمہ کی موجودہ صورتحال‘ باہمی اختلافات کے اسباب‘ مشترکہ دینی اقدار‘ فلسطین‘ یمن‘ روہنگیا‘ کشمیر سمیت مظلوم مسلمانوں کے مسائل‘ باہمی تعاون کے اصول‘ مشترکہ مفادات کے میدان‘ رابطے کے مستقل ذرائع اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل تجاویز پر گفتگو ہوئی۔ دوسری ورکشاپ اسلامی علمی و دینی اداروں کیلئے منعقد کی گئی جس میں علمی‘ تحقیقی‘ دعوتی اور فکری اداروں کے درمیان تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ علمی تحقیقات‘ انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری‘ تعلیمی و تربیتی پروگراموں‘ علمی نیٹ ورک کے قیام اور مختلف ممالک کے دینی اداروں کے درمیان مستقل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان ورکشاپس کی اہمیت اس اعتبار سے بھی نمایاں تھی کہ امت کے مسائل کا حل صرف انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں‘ بلکہ اس کیلئے اداروں‘ تنظیموں‘ علمی مراکز اور سیاسی قیادت کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔
اس موقع پر ہمیں بھی اپنا مقالہ پیش کرنے اور خطاب کی دعوت دی گئی۔ ہم نے کانفرنس کے مرکزی موضوع سے متعلق اپنے خطاب میں امتِ وسط کے تصور‘ وحدتِ امت کے شرعی و فکری تقاضوں‘ مسلّمات و متغیرات کے فرق اور اختلافِ رائے کے شرعی آداب پر گفتگو کی۔ اس بات کو نمایاں کیا کہ امت کی وحدت کا مطلب علمی و فقہی تنوع کو ختم کرنا نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ اصولوں اور بنیادی مقاصد پر جمع ہونا ہے‘ ہمارے خطاب کے چیدہ چیدہ نکات حسبِ ذیل ہیں: (1) اتحاد تمام انبیاء کے دین کی بنیاد ہے‘ قرآنِ کریم میں تعلیماتِ انبیاء کے حوالے سے ہے: ''اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جسکی وصیت ہم نے ابراہیم‘ موسیٰ اور عیسیٰ کو کی تھی کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘ مشرکین پر وہ چیز بہت بھاری ہے جس کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں‘‘ (الشوریٰ: 13)۔ اس مقام پر تمام انبیائے کرام کی تعلیمات کا محور و مرکز دو امور کو قرار دیا گیا ہے: (1) اقامتِ دین‘ (2) تفریق وتشتُّت سے اجتناب۔ پس اتحادِ اُمت کوئی ثانوی یا اختیاری معاملہ نہیں‘ بلکہ انبیائے کرام کی متفقہ دعوت اور دین کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے نبی کریمﷺ کی جانب سے برأت وبیزاری کا اعلان فرمایا جنہوں نے اپنے دین کو تفرقے سے دوچار کر دیا اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ارشاد فرمایا: ''بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو تفرقے سے دوچار کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے‘ آپکا ان سے کوئی تعلق نہیں‘ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے‘ پھر وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے‘‘ (الانعام: 159)۔ باہمی نزاع اور تفرقہ کو مسلمانوں کی قوت اور اجتماعی شوکت ودبدبے کے خاتمے کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: ''اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ ہمت ہار بیٹھو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ (الانفال: 46)۔ نبیﷺ نے بھی مسلمانوں کو باہم بغض وحسد‘ شخصی عداوت اور جماعتی تعصب سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسامرض ہے جو دینی اخوت اور اجتماعی وحدت کوکھوکھلا کر دیتا ہے اور مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ اور انتشار پیدا کر کے دین کو تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔ آپؐ نے اسے ''حالقہ‘‘ یعنی مونڈ دینے والی چیز سے تعبیر فرمایا اور واضح کیا کہ مسلمانوںمیں تشتُّت وافتراق اور تعصب سر کے بالوں کو مونڈنا نہیں‘ بلکہ دین کو جڑ سے اکھیڑ دینا ہے۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved