تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     06-11-2026

افراد کے ہاتھوں…

کچھ لوگوں کو آپ نے ضرور یہ کہتے سنا ہو گا کہ تقدیر پہلے سے لکھی جا چکی ہے۔ ہم نے کبھی ایسی باتوں پر توجہ نہیں دی‘ نہ ہی عملی طور پر کسی کو تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ ایسا کرنا تو شکست خوردگی کی علامت ہے۔ ہاں جب کچھ بنانے کی کاوش کے باوجود بے بس ہو جائیں تو کسی کو تسلی دینے کیلئے ''بس تقدیر ہی ایسی تھی‘‘ بطور محاورہ استعمال کر لیتے ہیں۔ ہمارا دل ہمیشہ اُن کے ساتھ دھڑکتا ہے جن کا یقین ہے کہ تقدیر ہاتھوں کی لکیروں میں پوشیدہ نہیں‘ جسے دقیانوسی دست شناسوں کی مدد سے تلاش کرکے اس کی جھلک وہ پہلے سے دیکھنا چاہتے ہیں‘ وہ تو آپ کے ہاتھوں کی طاقت میں ہے۔ ہم نے لوگوں کو اپنی زندگی میں تقدیریں اپنے ہاتھوں سے بدلتے دیکھا ہے۔ فکر بلند تھی‘ ہمت کے پَر لگائے اور جن منزلوں کی طرف وہ اڑنا چاہتے تھے‘ پرواز کر گئے۔ بلکہ ان کی نظروں میں آخری منزل کا کوئی امکان تک نہ تھا۔ تھا تو صرف اگلی منزل کا‘ اور پھر اس سے اگلی منزل تک حرکت میں رہے۔ اپنی ذات پر یقین ہو تو کون ہے جو کانگریس وومین الہان عمر اور نومنتخب سینیٹر عبدالرحمن محمد السید (عبدل السید) نہیں بن سکتا؟ سیاست کے میدان میں ایک شرط اور بھی ہے: جمہوریت‘ آئین کی بالادستی‘ قانون کی حکمرانی اور مساوی شہری حقوق۔ اگر یہ ان کے ملک صومالیہ میں ہوتے تو کوئی ان کا نام تک نہ سنتا‘ آواز تو دور کی بات ہے۔ السید کے والد مصر سے تعلیم کی غرض سے امریکہ آئے تھے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ مصر ہو‘ پاکستان‘ ایران یا ہماری تہذیبی روایات سے میل کھانے والا کوئی اور ملک‘ ریاست اور اجتماعی وسائل جن میں سیاست‘ معیشت‘ ادارے اور سماجی غلبہ شامل ہیں‘ مقتدر طبقات ہاتھوں میں اس مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کہ آپ صرف خاموشی سے زندگی گزاریں‘ یا پھر اپنی روح کا سودا کر کے گماشتوں میں شامل ہو کر موقع کی مناسبت سے کچھ نہ کچھ طاقت سمیٹ لیں۔ ہمارے ملکوں میں بنیادی انسانی قدریں تو دور کی بات ہے‘ عام بنیادی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل چکا ہے‘ تو یہاں سے اہل اور قابل سیاسی قیادت کیسے ابھر کر سامنے آئے؟
امریکہ کے وسط مدت کے انتخابات کے نتائج اب کھل کر دنیا کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سیاسی نظام جس میں نظم کے ساتھ طاقت فرد کے ہاتھ میں ہو‘ وہ ایک ہی ہے‘ جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں۔ اس کا مطلب بھی جمہور یا عوام کی طاقت ہے‘ کہ اس نظریے میں طاقت اور حکومتی اقتدار کی کنجی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بات ماننا پڑتی ہے کہ جمہوری سیاست پر اعتماد میں کمی مغربی ممالک میں دیکھنے میں آئی ہے‘ مگر یہ نظام ہی ایسا ہے کہ اگلے انتخابات میں اونچ نیچ اور عدم توازن کو ٹھیک کر کے لوگوں کا یقین بحال کر دیتا ہے۔ سیاسی رسہ کشی‘ جھگڑوں اور تقسیم اور تفریق کا حل جمہوریت میں‘ شفاف انتخابات میں رکھا گیا ہے۔ آپس میں اسمبلیوں میں اکٹھے رہنے‘ بنیادی مسائل کے حل کیلئے کوئی اتفاق پیدا کرنے میں ناکامی کی صورت اور اقتدار کی آئینی جائزیت کی گتھی سلجھانے کیلئے صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ انتخابات آزاد اور شفاف ہوں۔ امریکہ کی بات بعد میں کرتے ہیں۔ ہنگری‘ پولینڈ‘ سپین اور سربیا میں لوگوں نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے تو جمہوری روح کو برقرار رکھنے کیلئے ماضی قریب میں حکمرانوں نے نئے انتخابات کا فیصلہ کر کے اقتدار نومنتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا اور خود حزبِ اختلاف کی بینچوں پر بیٹھ گئے۔ نیپال اور بنگلہ دیش تو ہمارے خطے میں ہیں۔ سیاسی امن اور عوام کا حکومت پر اعتماد حاصل کرنے کیلئے آپ ہی بتائیں‘ اس کے علاوہ اور کیا سہل اور پُرامن طریقہ ہو سکتا ہے؟
امریکی جمہوریت اور سیاست پر پوری دنیا کی نظر رہتی ہے‘ کہ اس سے جمہوری تحریکیں پوری دنیا میں رنگ پکڑتی ہیں اور وہاں اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا کوئی آ جائے‘ تو پھر آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ گماشتے کیسے آمریت کی تاویلیں گھڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یورپ ہی جدید جمہوریت کی جائے پیدائش ہے‘ مگر اس کی پرورش‘ آبیاری اور اپنائیت ہر اس دور دراز کے ملک میں ہوئی ہے جہاں سیاسی قیادت اپنی ریاست اور قوم سازی کے عمل میں اس کی اقدار کے ساتھ جڑی رہی۔ آخر میں تو پوری قوم ہی نوازی گئی‘ کہ استحکام‘ ترقی اور خوشحالی باہمی افہام وتفہیم اور اقتدار کی شراکت ہی سے ممکن ہے‘ جو صرف جمہوری نظام پیدا کر سکتا ہے۔ دیگر میں تو صرف جمہوریت کی پیوندکاری کی جاتی ہے‘ مگر مزاج آمرانہ‘ روش جاگیردارانہ اور انتخابی ہیرا پھیریاں ہوں تو اہل‘ عقلمند اور حکمرانی کے اوصاف کے حامل مرد و خواتین مخصوص خاندانوں میں ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اصل میں لوگ انہیں مانتے تو نہیں‘ مگر وہ اپنے سماجی غلبے یا پھر اپنے سے بھی طاقتوروں کی سرپرستی سے ''منتخب‘‘ ہوتے رہنے کی سند حاصل کر لیتے ہیں۔ اس لیے لندن کے میئر صادق خان اور نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے لیے ہمارے ملکوں میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کی اپنی صلاحیتیں اور بلند پروازی کے خواب اپنی جگہ‘ مگر وہ ایک جمہوری نظام کی پیداوار ہیں جو اپنی قیادت نئی سے نئی‘ تازہ سے تازہ لا کر عوام کے ذہنوں میں اپنی افادیت اور طاقت قائم رکھتا ہے۔
حالیہ امریکی انتخابات میں اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا مگر ان کی سیاست‘ پالیسیاں اور حکومتی کارکردگی کیلئے یہ ریفرنڈم ضرور تھا۔ امریکی تاریخ میں عوام میں مقبول صدر اپنی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے اہم عنصر ہوتا ہے‘ اور اس طرح عدم مقبولیت ان کو لے ڈوبتی ہے۔ جہاں جہاں زور و شور سے صدر ٹرمپ نے کسی امیدوار کی حمایت میں جلسوں سے خطاب کیا ہے‘ وہ اتنی ہی زور سے عوام نے نیچے گرائے ہیں۔ الہان عمر اور عبدل السید کا نام انتخابات کی تاریخ اور امریکی سیاست میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دونوں نے کھل کر اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی مخالفت کی‘ زوردار بیانات دیے اور جلسوں میں شریک رہے۔ مخالفین اور دور دراز کی ریاستوں کی اسرائیلی حمایتی لابیوں نے ان کے خلاف مہم میں پیسہ پانی کی طرح بہایا‘ مگر کچھ بھی عوام کی منشا کے خلاف کام نہ آ سکا۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے برملا السید کو گیارہ ستمبر کے المیے اور انتہا پسندوں سے جوڑنے کے مضحکہ خیز بیانات دیے۔ انتخابات سے ایک دن پہلے ان کے حلقے سے ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما نے اپنی پارٹی سے بغاوت کرکے مخالف امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس پر تو ٹرمپ بھی بغلیں بجا رہے تھے۔ عوام کی طاقت جمہوریت میں جب مان لی جائے تو پہلی اور آخری طاقت وہی ہوتی ہے۔ پیسہ‘ پروپیگنڈا اور کیچڑ اچھالنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کوئی مانے یا نہ مانے‘ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ نے امریکہ کے انتخابات کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ بنیادی مسائل جن میں بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ معیارِ زندگی برقرار رکھنے کی استعداد میں قدرے کمی اور اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی شامل ہے‘ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پوری دنیا میں گرانی اور انرجی کے بحران کو ایران کے خلاف جنگ سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی تاریخی فتح نے امریکہ میں آدھی رجیم تو تبدیل کر دی ہے‘ باقی اگلے انتخابات میں ہو جائے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved