چند ماہ قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سارے پاکستانی بیورو کریٹس دہری شہریت رکھتے ہیں۔ اس وقت کئی لوگوں کا خیال تھا کہ وزیر دفاع کا یہ بیان سیاسی نوعیت کا ہے۔ شاید کسی افسر سے ناراضی کے سبب وہ دل کی بھڑاس نکال رہے ہوں لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ وزیر دفاع نے بے پرکی نہیں اڑائی تھی۔ ان کے بیان میں کچھ صداقت ضرور تھی۔
سرکاری افسران کی دہری شہریت کا مسئلہ اگلے روز سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی میں پوری شد و مد سے زیر بحث آیا۔ سینیٹر محترمہ سعدیہ عباسی اس میں پیش پیش تھیں۔ پتا چلا کہ تمام بیورو کریٹس سے ان کی شہریت سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ہیں‘ اب تک گیارہ سو کا جواب آیا ہے اور ان میں سے 95 دہری شہریت کے حامل ہیں۔ مطلب ان گیارہ سو میں سے نو فیصد دو کشتیوں کے سوار ہیں اور ان کی وفاداریاں منقسم ہیں۔میرا تجسس بڑھا اور میں نے کچھ تحقیق کی تو پتا چلا کہ دہری شہریت کے باب میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے محکمے کے افسران پیش پیش ہے۔ 16 سینئر افسران دہری شہریت کے حامل ہیںجبکہ محکمے کے ڈیڑھ سو سے زائد افسران کے جواب کا انتظار ہے۔ ایک وقت تھا کہ کہا جاتا تھا کہ زیادہ تر فارن سروس کے لوگ ہی بیرونِ ملک سکونت اختیار کرتے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ فارن سروس والے پیچھے رہ گئے ہیں۔ میں خود فارن سروس کا حصہ رہا ہوں‘ مجھے ان سفارتکاروں کا علم ہے جو ریٹائر ہو کر بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دوسرے محکمے اب آگے نکل چکے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق سول سرونٹس کیلئے دہری شہریت حاصل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرنے کے عمومی طور پر دو طریقے ہیں۔ اول تو یہ کہ کوئی عزیز آپ کو سپانسر کرے اور آپ مجوزہ مدت اس ملک میں قیام کریں۔ شمالی امریکہ میں اس پراسیس کو پورا کرنے کیلئے پانچ سال کے عرصہ میں تین سال وہاں رہنا لازمی ہے۔ ظاہر ہے کہ سول سرونٹس کیلئے اتنا لمبا عرصہ ملک سے باہر رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک مقررہ رقم اس ملک میں انویسٹ کی جائے۔ پرتگال کا پاسپورٹ لینے کیلئے تقریباً پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی شرط ہے جبکہ ترکیہ کی شہریت کیلئے چار لاکھ ڈالر انویسٹ کرنا پڑتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پرتگال کی شہریت کیلئے چودہ کروڑ روپے چاہئیں۔ اس طرح کی ثروت عمومی طور پر ان محکموں میں ہی میسر ہو سکتی ہے جہاں کرپشن کے موقع وافر ہوں۔ ایک سینئر ریٹائرڈ افسر کا ایک کلپ ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جس میں انہوں نے متعلقہ محکمے کے افسران کی ہوشربا ثروت کا کھل کر ذکر کیا ہے۔ موصوف سٹیٹ بینک کے گورنر بھی رہے ہیں‘ لہٰذا ان کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس محکمے میں یقینا ایماندار افسر بھی ہوں گے لیکن وہ سولہ افسران‘ جو دولت کے بل بوتے پر دہری شہریت لے چکے ہیں‘ ان ایماندار افسران کو ضرور احمق سمجھتے ہوں گے۔ اگر محصولات جمع کرنے والے افسر سو فیصد ایماندار ہوں تو ہمارے قومی کشکول کا سائز کچھ تو کم ہو ہی سکتا ہے! مگر ہمارا احتساب کا نظام بہت کمزور ہے‘ یا اسے جان بوجھ کر کمزور کر دیا گیا ہے۔ مثلاً پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن نیب کیلئے قابلِ دست اندازی جرم نہیں۔
انڈیا میں دہری شہریت رکھنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ جونہی کوئی انڈین کسی اور ملک کی شہریت لیتا ہے‘ وہ انڈین شہریت کھو دیتا ہے اور ساتھ ہی وہ انڈیا میں ووٹ دینے کا حق بھی کھو بیٹھتا ہے۔ چین میں بھی دہری شہریت کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ البتہ چند سال پہلے چین میں دلچسپ صورتحال پیش آئی۔ کئی چینی سرکاری افسران کے بیوی بچے تعلیم کی غرض سے مستقل طور پر ملک سے باہر مقیم تھے۔ حکومت نے محسوس کیا کہ ایسے افسران میں کرپشن کا رجحان زیادہ ہے۔ جن افسروں پر یہ الزام ثابت ہو گیا انہیں قرار واقعی سزائیں دی گئیں۔ پاکستان میں 2014ء میں ایک بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا کہ دہری شہریت رکھنے والے افسروں کو گریڈ 19 سے آگے پروموشن نہ دی جائے لیکن یہ قانون آج تک نہیں بن سکا‘ اور یہ امر باعثِ حیرت ہے۔ میں نے اپنے ایک باخبر دوست سے استفسار کیا تو کہنے لگے کہ سیاستدان بیورو کریسی سے بنا کر رکھتے ہیں اور کئی سیاستدانوں کی جائیداد باہر ہے‘ کچھ کے تو بیوی بچے بھی ملک سے باہر ہیں۔ اس پر مجھے سینیٹر سعدیہ عباسی کی بات یاد آ گئی کہ ایم این اے اور ایم پی اے پر تو دہری شہریت کا قانون لاگو ہوتا ہے مگر حکومتی مشیروں پر نہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک دوسرے کے عیب چھپاتے رہتے ہیں مگر یہ ملی بھگت ریاست کو نقصان پہنچاتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ 2014ء میں ہمارے آڈیٹرجنرل دہری شہریت رکھتے تھے۔ چند روز میڈیا نے چائے کی پیالی میں طوفان ضرور اٹھایا مگر پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ اس سے پہلے یہ راز افشا ہوا تھا کہ قصرِ صدارت کی سرکاری ترجمان (محترمہ فرح ناز اصفہانی) امریکی نیشنیلٹی رکھتی ہیں اور یہ بات خود امریکی وزارتِ خارجہ نے بتائی تھی۔ اس وقت وہ قومی اسمبلی کی ممبر بھی تھیں اور اس راز کے افشا ہونے کے بعد انہیں اسمبلی سے مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے پاس تمام اخراجات کی تفصیلات ہوتی ہیں‘ اور ان میں چند اخراجات ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ تمام انفارمیشن اس افسر کی دسترس میں تھی‘ جس نے شمالی امریکہ کے ایک ملک کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا تھا اور پاکستان میں ایک اہم آئینی عہدے پر بھی براجمان تھا۔
ایک اور دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں فارن سروس کے ایک افسر کو کینیڈا کیلئے سفیر نامزد کیا گیا۔ موصوف لیٹرل انٹری کے طفیل فارن سروس میں آئے تھے۔ سفارتی پوسٹ پر جانے سے قبل میزبان حکومت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ سفیر موصوف کے کاغذات جب کافی دیر حکومت کینیڈا کی منظوری کے منتظر رہے تو اسلام آباد کی طرف سے تاخیر کے بارے میں استفسار کیا گیا۔ جواب دلچسپ تھا۔ اوٹاوا کی طرف سے اطلاع ملی کہ جس شخص کو آپ نے ہائی کمشنر کیلئے نامزد کیا ہے اس نے کینیڈین شہریت کیلئے اپلائی کیا ہوا ہے۔ یہ بڑی عجیب وغریب صورتحال تھی۔ بالآخر کینیڈین حکومت نے اس شرط پر منظوری دی کہ جب تک موصوف کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہیں گے ان کی درخواست زیر التوا رہے گی۔ حکومت میں کچھ حمیت ہوتی تو پہلے اس افسر سے استفسار کرتی کہ تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا کہ کینیڈا کی شہریت کیلئے اپلائی کیا ہوا ہے‘ ہم تمہیں کسی اور ملک کیلئے نامزد کر دیتے اور اس سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لیکن افسر موصوف نے بھی ڈھٹائی دکھائی اور حکومت کی غیرت نے بھی جوش نہیں مارا۔
حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
میری دانست میں دہری شہریت والے شخص کی ملک سے وفاداری کم ہو جاتی ہے۔ دوسرا‘ اس کے ذہن میں یہ زعم بھی آ جاتا ہے کہ اگر کوئی غلط کام کرکے اس پر کوئی کیس بنا تو وہ آرام سے دوسرے ملک منتقل ہو سکتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2002ء میں جکارتہ میں حکومت پاکستان کی قیمتی پراپرٹی اور تقریباً بیس کنال زمین سفیر موصوف نے فارن آفس کی اجازت اور اشتہاری کارروائی کے بغیر بیچ دی تھی۔ ان سفیر صاحب کی پیدائش برطانیہ کی تھی اور اس وجہ سے وہ وہاں کی نیشنیلٹی حاصل کرنے کے مجاز تھے۔ اس ڈیل کی وجہ سے حکومتِ پاکستان کو بھاری نقصان ہوا۔ موصوف کا مؤقف تھا کہ انہوں نے بیچنے کی اجازت پرویز مشرف سے لی تھی۔ جن افسران نے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرکے نیشنیلٹی لی ہے‘ وہ اربوں روپے کا سرمایہ باہر منتقل کر چکے ہیں اور پاکستان میں سروس بھی کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری افسران کیلئے دہری شہریت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کیا جائے۔وزیراعظم صاحب! یہ کام آپ کر گزریں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved