تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     07-11-2026

امتِ وسَط کی وحدت:شرعی مسلَّمات سے میثاقِ وحدت تک(2)

(2) نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو مستقبل میں پیش آنے اختلافات اور فتنوں سے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا تاکہ اُمت بیدار اور محتاط رہے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔ حضرت عرباضؓ بن ساریہ کی حدیث میں ہے: نبیﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا‘‘ (ترمذی: 2676)۔ نیز آپﷺنے فرمایا: ''یہود اکہتر یا بہتّر فرقوں میں بٹ گئے‘ نصاریٰ اکہتر یا بہتّر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی‘‘ (ترمذی: 2640)۔ یہاں فرقوں کی تعداد متعیّن کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ تشتُّت وافتراق سے باخبر کرنا ہے‘ خواہ تعداد کچھ بھی ہو۔ ایک روایت میں ہے: ''سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک جماعت کے‘‘ (ترمذی:2641)۔ الغرض ان روایات کا بنیادی مقصد محض فرقوں کی تعداد بتانا نہیں بلکہ اُمت کو افتراق وانتشار کے خطرے سے آگاہ کرنا اور کتاب وسنت پر قائم رہنے کی تلقین کرنا ہے۔ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں‘ اس نے دو عطا کیں اور ایک سے منع کر دیا‘ میں نے دعا مانگی کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کیا جائے‘ تو یہ دعا قبول کر لی گئی‘ میں نے دعا کی : میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے‘ یہ دعا بھی قبول کر لی گئی‘ پھر میں نے دعاکی کہ میری اُمت کو باہم جدال وقتال سے محفوظ رکھا جائے‘ تو مجھے اس سے منع کر دیاگیا‘‘ (مسلم: 2890)۔ پس تقدیرِ خداوندی کے مطابق اُمت میں اسی طرح باہمی نزاع وافتراق ہوتے رہے جیسے نبی کریمﷺ نے خبر دی‘ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔ (3) اس سلسلے میں ایک اہم اور بنیادی بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن وسنت کی نصوص میں جس اختلاف کی مذمت آئی ہے‘ اس سے وہ اجتہادی‘ علمی اور فقہی اختلاف مراد نہیں‘ جو صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین کے درمیان واقع ہوا ہے‘ بلکہ اس سے مراد وہ اختلاف ہے جوضد‘ تعصب‘ خواہشِ نفس‘ بغض اور گروہی عصبیت کے نتیجے میں پیدا ہو اور مسلمانوں کو باہم دست وگریباں کر دے۔ چنانچہ عہدِ نبوت میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح دلیل ہے۔ مہاجرین اور انصار دو عظیم مقدس جماعتیں تھیں‘ جن کے ایمان و وفا کی اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے اور انہیں جنت کی بشارتیں سنائی ہیں: ''غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر ایک انصاری اور ایک مہاجر کے درمیان پانی کے معاملے میں تنازع ہوا۔ انصاری نے انصار کو اور مہاجر نے مہاجرین کو اپنی اپنی مدد کیلئے پکارا‘ نبیﷺ نے یہ سنا تو جلدی سے تشریف لائے اور فرمایا: یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے‘ جب آپؐ کو واقعہ بتایا گیا تو فرمایا: اسے چھوڑ دو‘ یہ بدبودار چیز ہے‘‘ (بخاری: 4907)۔ پس یہ غورو فکرکامقام ہے کہ مہاجرین و انصار جیسی مقدس اور قابلِ احترام نسبتیں بھی جب غلط فہمی کی بنا پر گروہی عصبیت کا ذریعہ بنیں تو نبی کریمﷺ نے اسے جاہلیت کی پکار قرار دیا اور بدبودار فرمایا۔
امام شاطبیؒ نے مشروع اور مذموم اختلاف کے مابین فرق کے حوالے سے ضابطہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ''جس مسئلے کی بابت اہلِ اسلام میں اختلاف پیدا ہو جائے اور وہ اختلاف باہمی دشمنی‘ بغض اور قطع تعلقی کا سبب نہ بنے‘ تو وہ اسلام کے مسائل میں سے ہے لیکن جو اختلاف مسلمانوں کے درمیان عداوت‘ نفرت اور ترکِ تعلق کاباعث بنے تو اُس مسئلے کا اسلام اور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ الغرض اختلافِ رائے اور افتراقِ امت دو الگ حقیقتیں ہیں۔ اسلام اختلافِ اجتہاد کو برداشت کرتا ہے‘ لیکن اختلاف کو دشمنی اور انتشار میں بدلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ (4) اُمت میں افتراق وانتشار کے بنیادی اور اہم ترین اسباب میں سے خواہشِ نفس کی پیروی‘ تکبر‘ حق کو قبول کرنے سے انکار اور باطل پر اصرار ہے۔ جب انسان کا مقصد حق کی تلاش اور اس کی پیروی کے بجائے اپنی رائے‘ شخصیت یا جماعت کی برتری ثابت کرنا بن جائے تو دلیل کی اہمیت وقوت کم اور تعصب وخود پسندی غالب آ جاتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس طرزِ عمل کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ''کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا‘‘ (الجاثیہ:23)‘‘۔ (5) حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ''مجھے امت کے بارے میں دو چیزوں کا سب سے زیادہ خوف ہے: لمبی امیدیں اور خواہشِ نفس کی پیروی۔ لمبی امیدیں آخرت سے غفلت پیدا کرتی ہیں‘ جبکہ خواہش کی پیروی انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتی ہے‘‘ (شعب الایمان: 10129)۔ یہی نفسانی کیفیت جب علمی اور دینی اختلافات میں سرایت کر جاتی ہے تو اختلافِ رائے‘ حق کی تلاش کے بجائے ذاتی عِناد اور گروہی کشمکش کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ افتراق کا دوسرا اہم ترین سبب نصوصِ شرعیہ کی فاسد تاویل بھی ہے۔ ہر دور میں اہلِ بدعت وَانحراف نے اپنے خود ساختہ نظریات اور اپنی خواہشات کو ثابت کرنے کیلئے قرآن وسنت کی فاسد تاویل کا راستہ اختیار کیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی نصوص کو خواہشات اور پہلے سے قائم شدہ نظریات کے تابع بنانے کے بجائے معتبر علمی اصولوں‘ صحیح احادیث اور فہمِ سلَف کی روشنی میں سمجھا جائے تاکہ دین کی صحیح تعبیر برقرار رہے اور اختلاف وانتشار کے دروازے بند ہوں۔(6) نبی کریمﷺ نے اُمت کو افتراق و انتشار کے خطرات سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ اُمت کو اس سے محفوظ رہنے اور وحدت واجتماعیت کو برقرار رکھنے کے بنیادی اُصول اور ذرائع بھی واضح فرمائے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم قرآن وسنت کی طرف رجوع اور اُنہیں مضبوطی سے تھامنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو‘‘ (آل عمران: 103)۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرّمﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا‘ لیکن ہر عہد کے اہلِ اقتدار کی اطاعت کو غیر مشروط طور پر لازم قرار نہیں دیا‘ بلکہ فرمایا: ''پھر اگر کسی چیز میں تمہارا (اہلِ اقتدار سے) اختلاف ہو جائے تو (حق کے تعین کیلئے) اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو‘‘ (النسآء: 59)۔ اس سے مراد بالترتیب قرآن وسنّت کی طرف رجوع کرنا ہے؛ چنانچہ نبیﷺ نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں‘ جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت‘‘ (دارقطنی: 4606)۔ اسی طرح اُمت میں اختلاف وانتشار کی پیش گوئی کے موقع پر آپﷺ نے نجات واستقامت کا راستہ بتاتے ہوئے فرمایا: ''تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کا اتباع لازم ہے‘ اسے داڑھوں سے مضبوط پکڑ لو‘‘ (ابن ماجہ: 42)۔ نیز نجات پانے والے گروہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: ''جو میرے اور میرے صحابہ کے جادۂ مستقیم پر کاربند ہو‘‘ (ترمذی: 2641)۔ تاہم اس سلسلے میں ایک بنیادی اور ضروری نکتہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن وسنت کے وہی مفاہیم اور تعبیرات معتبر ہیں جو رسول اللہﷺ کی تشریحات اور صحابہ کرام کے فہم سے ہم آہنگ ہوں؛ پس صحابہ کا فہم اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے‘ کیونکہ وہ رسول اللہﷺ سے براہِ راست فیض یافتہ تھے۔ اُنہوں نے قرآن کریم کے معانی‘ اس کی تشریحات وتفسیرات اور دین کے عملی احکام و مفاہیم براہِ راست نبی کریمﷺسے سیکھے تھے۔ لہٰذا قرآن وسنت کے فہم وتشریح میں ان کا مقام بنیادی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس جب قرآن وسنت کی ایسی من مانی اور انفرادی تعبیرات اختیار کی جائیں جنہیں علمی اُصولوں اور صحابہ کرام وسلَف کے منہج سے کوئی تائید حاصل نہ ہو تو وہ اتحاد واتفاق کا ذریعہ بننے کے بجائے تفرقہ اور اختلاف وانتشار کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور اسی طرزِ فکر سے بدعات و خرافات جنم لیتی ہیں۔ حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز نے ایک گمراہ فرقے قدریہ کے جواب میں اسی اصول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ''صحابہ کرام نے بھی قرآن کریم کی وہی آیات پڑھی ہیں جو تم پڑھتے ہو‘ لیکن اس کی تفسیر وتشریح میں اُنہوں نے وہ کچھ سمجھا اور جانا ہے جس سے تم بے خبر ہو‘‘۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved