امریکی انتخابات تو ہمیشہ سے ہی دنیا بھر کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل رہے ہیں مگر اسرائیلی انتخابات کو عموماً خبروں کی حد تک ہی دیکھا جاتا تھا‘ لیکن اس بار اسرائیلی انتخابات پر بھی پوری دنیا کی نظریں بڑی شدت کے ساتھ مرکوز تھیں۔ عالمی سطح پر اس غیر معمولی توجہ کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو دنیا بھر میں انتہائی تنقیدی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی معاشروں میں بھی نیتن یاہو کی پُرتشدد پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی گئی۔ اگرچہ اسرائیل میں یہودیوں کی اکثریت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ وہاں جو بھی نیا حکمران آئے گا وہ بہرحال یہودیوں ہی کا نمائندہ ہو گا‘ اس کے باوجود عام لوگ اور باشعور طبقہ اب نیتن یاہو کو آئندہ کے لیے ملک کے وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی انتخابات کے فوراً بعد وہاں کی عرب جماعتوں کی جانب سے گاڈی آئزن کوٹ کی بطور وزیراعظم حمایت کا اعلان محض اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ اسی جانب اٹھایا گیا قدم تھا تاکہ بنجمن نیتن یاہو کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے ہر ممکن طریقے سے روکا جا سکے۔
امریکہ میں ہونے والے حالیہ مڈٹرم انتخابات کو بھی اسی تناظر میں خاص اہمیت حاصل ہے کہ دنیا مشرقِ وسطیٰ جنگ اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے تباہ کن معاشی اثرات سے تنگ آ چکی ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ مڈٹرم الیکشن کے نتیجے میں ڈیموکریٹس کو کانگریس میں برتری حاصل ہوئی ہے اور ریپبلکنز نے دونوں ایوانوں میں اپنی برتری کھو دی ہے‘ آئینی مدت کے مطابق 20جنوری 2029ء تک ڈونلڈ ٹرمپ ہی امریکہ کے صدر رہیں گے۔ اس کے باوجود ریپبلکن پارٹی کی شکست پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ کرۂ ارض کے باسی امن کے خواہاں ہیں۔ اگرچہ ابھی یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتی ہے تاہم مڈٹرم الیکشن کے فوری بعد جو پیغام پوری دنیا میں گیا ہے وہ یہ ہے کہ امریکی عوام نے بالآخر ان سیاسی چہروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ دنیا کو تباہی کے دہانے میں دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ پاکستان کا اصولی مؤقف بھی ہے‘ چین کا دیرینہ مؤقف ہے اور دنیا کے ہر امن پسند و ذمہ دار ملک کا مؤقف یہی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے چین سے ایران جنگ ختم کرانے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ سے دنیا کے اکثر ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس طویل جنگ کے عالمی معیشت پر جو شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ اس سے شاید ہی دنیا کا کوئی خطہ یا ملک محفوظ رہ سکا ہو۔ امریکہ اور اسرائیل کے ان انتخابات میں اس سیاسی و عسکری اتحاد کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے خطے میں اس تباہ کن جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اگر یہ اتحاد حالیہ انتخابات میں کامیاب ہو جاتا تو ایک بڑی اور تباہ کن عالمی جنگ کے خطرات بے حد بڑھ جاتے۔ لہٰذا اس خطرناک تسلسل کا راستہ روکنے کے لیے دنیا بھر میں اس اتحاد کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ چونکہ اس کا حتمی اختیار صرف اسرائیل اور امریکی عوام کے ہاتھوں میں ہی تھا لہٰذا دونوں ممالک میں عوامی سطح پر سیاسی شعور دیکھنے میں آیا۔ عوام نے جارحانہ مزاج کے حامل حکمرانوں کو یہ پیغام دیا کہ وقت آنے پر ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا بھرپور اور درست استعمال کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ یہی دراصل جمہوریت کی روح ہے جس کا اصل اور بنیادی مرکز عوام کی طاقت ہوتی ہے‘ مگر اس سیاسی طاقت کے بہترین اور درست استعمال کا اصل وقت صرف اور صرف پولنگ کا دن ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں جمہوریت ہماری نسبت کافی مضبوط ہے۔ امریکی عوام اور اسرائیل کے اندر موجود عرب ووٹرز نے اس موقع پر انتہائی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت سے ایسی زبردست ضرب لگائی جس سے نہ صرف ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ تبدیل ہوا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
امریکہ اور اسرائیل میں یہ انتخابی مرحلہ طے ہو چکا مگر اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد دنیا دوبارہ اپنی معمول کی ڈگر پر لوٹ سکے گی؟ کیا دنیا 28فروری 2026ء سے پہلے والے پُرامن حالات کی طرف واپس جانے کے قابل ہو سکے گی؟ امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے فوری بعد جو سب سے خوش آئند تبدیلی دیکھنے کو ملی وہ یہ ہے کہ امریکی صدر کے خلاف مواخذے کا عوامی مطالبہ اب زور پکڑ رہا ہے جبکہ ٹرمپ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہے تاہم عوامی سطح پر ایسے علامتی مطالبات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو آگے چل کر شدت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کر جیل میں ڈالے جانے کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ ان تمام حقائق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام نے مجموعی طور پر تشدد اور جنگوں پر مبنی سیاست کو مسترد کیا ہے۔ دنیا کو مسلسل جنگوں اور سنگین معاشی مسائل میں دھکیلنے والے ان رہنماؤں کا عروج تو ختم ہو ہی چکا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی کیریئر بھی اپنے انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ انتخابی شکست کی وجہ ایران جنگ‘ مہنگائی اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ محض ایک انتخابی عمل یا کشمکش کی وجہ سے امریکہ کو معاشی طور پر تین ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ حالانکہ یہ خسارہ الیکشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے دورِ اقتدار کی معاشی ترجیحات اور پالیسیوں کا نتیجہ تھا جسے عوام نے مسترد کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ عالمی معیشت پر امریکی مڈٹرم الیکشن کے مثبت اور خوش آئند اثرات مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ معاشی بہتری کے یہ آثار اب ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی تباہ حال معیشت کو مکمل طور پر ٹھیک ہونے میں کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اصل معاملہ اب بھی پائیدار امن کا قیام اور اس جاری جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔
مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی نے اگرچہ کانگریس میں اپنی اکثریت کھو دی ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ بدستور ملک کے صدارتی منصب پر فائز ہیں اور امریکی آئین کے تحت صدر کو انتہائی وسیع انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی طرح امریکی نظام حکومت میں خارجہ اور داخلی پالیسیاں ایک خاص تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ اگرچہ مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے لیکن ماضی میں ڈیموکریٹس کی اپنی عسکری پالیسیوں بالخصوص مسلم دنیا کے حوالے سے جارحانہ رویے سے کون واقف نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ مڈٹرم انتخابات میں سخت عوامی مؤقف سامنے آنے کے باوجود جنگ کے خاتمے کے حوالے سے فوری تبدیلیوں کے امکانات واضح نہیں۔ اگر امریکی صدر اپنی سابقہ جارحانہ پالیسیوں پر کاربند رہتے ہیں تو خطے میں بڑی جنگ کے خطرناک سائے بدستور منڈلاتے رہیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کو اس تباہ کن جنگ سے نکالنا ہی اس پوری جدوجہد کی اصل اور حقیقی کامیابی کہلائے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved