تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     08-11-2026

مڈ ٹرم شکست کے بعد

جو کچھ ہوا وہ غیر متوقع نہیں۔ گزشتہ دو برسوں سے اور ذرا وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پچھلی ایک دہائی کے دوران امریکہ کے اندر اور عالمی سطح پر جو کچھ ہو رہا تھا‘ بلکہ یہ کہنا بہتر رہے گا کہ جو کچھ کیا جا رہا تھا اس کے دور رس اثرات و نتائج کے بارے میں تمام ذی شعور طبقے اتنے ہی عرصے سے خبردار بھی کرتے چلے آ رہے تھے۔ امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج ان اثرات میں سے ایک ہیں‘ یا شاید یہ کہنا بہتر ہو کہ یہ ان اثرات کے سامنے آنے کا آغاز ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی‘ جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے مڈ ٹرم انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی شکست محض ایک انتخابی ناکامی نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی کیلئے ایک اہم موڑ بھی ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس نئی صورتحال میں ٹرمپ کیلئے اپنی پالیسیوں کو سابق رفتار سے جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے‘ خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے میں۔ امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج واشنگٹن کی اندرونی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ ریپبلکن پارٹی کی ہار سے صدر ٹرمپ کو اپنی صدارت کے باقی دور میں قانون سازی اور پالیسی نفاذ کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ معیشت کو لے کر عوامی سطح پر پایا جانے والا گہرا عدم اطمینان ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ووٹر اب محض سیاسی نعروں کے بجائے اپنی جیب اور روزگار کو ترجیح دے رہا ہے اور اسی عنصر نے الیکشن کے نتائج کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس‘ دونوں نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس شکست کی وجہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ ہے۔ یہ بھی بالکل سامنے کی بات ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس ہار کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کے شدید ترین دباؤ میں ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہنگامی میٹنگیں ہو رہی ہیں اور صلاح مشورے کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ اس وجہ سے بھی دباؤ میں ہیں کہ اب ڈیموکریٹک پارٹی والے ان کا مواخذہ کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کے احتساب کا اعلان بھی کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس شکست سے سبق سیکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں اپنی سٹرٹیجی تبدیل کریں گے؟ اس کا فی الحال کوئی واضح اور ٹھوس جواب نہیں دیا جا سکتا لیکن آئندہ چند روز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جن پالیسیوں یا اقدامات کا علان کیا جائے گا ان سے واضح ہو جائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
شکست کے باوجود اور دوٹوک فیصلوں کا اختیار کھو دینے کے باوجود ٹرمپ کے سامنے کئی راستے موجود ہیں۔ آئندہ کیا ہوتا ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ٹرمپ کیا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ وہ انتخابی شکست کے باوجود ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھیں۔ وہ ایران کی جوہری تنصیبات‘ فوجی مراکز یا دیگر اہم اہداف پر مزید حملوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں اور وہ اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ انتخابی شکست کے بعد اپنی طاقت اور عسکری برتری کا تاثر برقرار رکھنا چاہیں گے‘ لیکن یہ سٹرٹیجی اپنانے کے خطرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ ایران امریکی مفادات‘ اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کا ایران نے اعلان بھی کیا ہے۔ اس سے ایک محدود جنگ وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایک بڑی عالمی جنگ کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایٹمی حملے کرنے کی کوشش کی تو ٹرمپ کی رہی سہی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔
دوسرا راستہ سفارت کاری ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا‘ انتخابی شکست نے ٹرمپ پر داخلی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ امریکی عوام میں جنگ‘ مہنگے ایندھن اور معاشی اخراجات کے حوالے سے بے چینی سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب یورپ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے احتجاجی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں‘ اور سب جانتے ہیں کہ یہ سب ایران امریکہ جنگ کے شاخسانے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بے سوچے سمجھے شروع کی۔ یہ دبائو ٹرمپ کو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کی کوشش کر سکتے ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد ہوں‘ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو‘ دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہوں اور امریکی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے امکانات پیدا ہوں۔ ایسا معاہدہ ٹرمپ کو تو جنگ سے نکلنے کا سیاسی راستہ دے سکتا ہے لیکن ایران اپنی شرائط پر سمجھوتے کیلئے تیار ہونے کا پابند نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ زمینی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بڑھتی ہوئی معاشی کمزوری ایران کو امریکہ کیساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کا راستہ فراہم کر دے۔
اس شکست کے بعد ٹرمپ کا گرین لینڈ اور کینیڈا کو فتح کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے سے رہ جائے گا۔ صدر ٹرمپ مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ ایران کے معاملے کو حل کرنے کے بعد کیوبا کا حساب چکایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکی مفادات کیلئے فوجی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ اب ضروری نہیں کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کو اپنے یہ منصوبے مکمل کرنے دیں۔
یہ تو ہیں جنگ کے معاملات‘ اب یہ دیکھتے ہیں کہ مڈ ٹرم شکست اور کیا کیا نتائج لا سکتی ہے۔ ڈیموکریٹس اب کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتے ہیں۔ جنوری 2027ء میں نئی کانگریس کے فعال ہونے کے بعد ڈیموکریٹس ٹرمپ کی ایران پالیسی کی سخت نگرانی کر سکتے ہیں۔ وہ دفاعی بجٹ اور جنگی اخراجات محدود کرنے‘ جنگ کے قانونی جواز پر تحقیقات کرنے اور انتظامیہ سے جواب طلب کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ وزرا اور اہم سرکاری عہدیداروں کی نامزدگیوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یوں ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ کے اندر بھی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اگلے سال جنوری میں صدر ٹرمپ کے اختیارات پر کچھ قدغن لگ جائیں گے‘ اس کے باوجود وہ امیگریشن‘ تجارت‘ خارجہ پالیسی اور دفاعی معاملات میں انتظامی احکامات کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنا کرنا ٹرمپ کے ساکھ بحال کرنے کا سبب بن جائے گا؟
ٹرمپ کی انتخابی شکست کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تہران اس صورتحال کو امریکی پالیسی پر داخلی دباؤ کی علامت سمجھ سکتا ہے اور نئی شرائط پیش کر سکتا ہے۔ امریکی کانگریس میں اسرائیل کیلئے فوجی امداد اور جنگی حکمت عملی پر زیادہ سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ چین اور روس‘ دونوں امریکہ کے داخلی اختلافات اور مشرقِ وسطی کی صورتحال سے سفارتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب‘ قطر‘ عمان‘متحدہ عرب امارات اور دوسرے با اثر عرب ممالک خطے میں جنگ بندی اور استحکام کیلئے سفارتی کوششیں بڑھا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی ہار ابراہام اکارڈ کو طاق پر رکھنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مڈ ٹرم کی شکست کے بعد دنیا ایک نئے فیز‘ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس نئے مرحلے میں دنیا کی قسمت میں کیا لکھا ہے اس کے ابتدائی خدوخال جاننے کیلئے بس چند روز اور انتظار۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved