پی ٹی آئی کے حامی بنیادی طور پر سیاسی طور پر ناپختہ بالغ کارکن ہیں اور ان میں کثیر تعداد سیاست کی سمجھ بوجھ سے نابلد ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ صرف عمران خان کے عقیدت مند اور پیروکار ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے لیڈر کا کہا ہوا ہر لفظ حتمی اور سچا ہے۔ لہٰذا پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کی اس کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سیاست کو کارکردگی کے بجائے جھوٹ‘ من گھڑت بیانیوں اور فرضی دعوؤں کی بنیاد پر استوار کیا۔ پارٹی کی الزامات کی سیاست‘ حقائق کو چھپانے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی اس روش کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 11اکتوبر کو کے پی کے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد‘ جبکہ صوبہ بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے‘ افواجِ پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی ہے۔ اس گھناؤنی مہم کے ذریعے ہماری جری و بہادر افواج پر صوبے کے معدنی وسائل پر قبضے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر اٹھنے والے سنگین سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاک فوج کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی ہو۔ قبل ازیں بھی کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا ملک دشمن بیانیہ یہی تھا کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی ڈالرز کے حصول کے لیے لڑی۔ اس طرح دہشت گردی کی جنگ میں افواجِ پاکستان‘ عوام کی عظیم قربانیوں کو نقصان پہنچانے کی مذموم کو شش کی گئی۔ حقائق تو یہی ہیں کہ پی ٹی آئی کے سابق دور میں اس کے ٹی ٹی پی‘ تحریک طالبان افغانستان کے ساتھ روابط اور کرپشن نے ایک نیا باب رقم کیا۔ سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاقی حکومت اور فوج کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہ فراہم کرنے پر برطرف کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی صوبے کی صورتحال پر وفاقی حکومت اور فوج پر تنقید کرتے ہوئے اسی نوعیت کا مؤقف اپنایا۔ ان کے اس طرزِ عمل نے گورنر راج‘ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاک فوج پر عائد الزامات کے حوالے سے جاری تنازعے کو ایک نیا سیاسی رخ دے دیا ہے۔ جبکہ ان کے اپنے ماضی میں بھی کئی ایسے معاملات موجود ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کب سیاسی رہنما اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کے امن و استحکام کو ترجیح دیں گے؟
پی ٹی آئی کی سابق حکومت کو بدعنوانیوں سمیت صوبے کے معدنی وسائل کے انتظام و بگڑتے امن و امان کے حوالے سے سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ صوبے کے معدنی ذخائر وہاں کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کی الاٹمنٹ‘ ریونیو کا مکمل حساب شفاف انداز میں عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی حکومت کو اپنی ذمہ داری سے فرار کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ درحقیقت یہاں اصل مسئلہ احتساب ہے‘ پروپیگنڈا نہیں۔ فوج کے خلاف الزامات کیلئے بھی ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔ یوں قومی سلامتی اور عساکرِ پاک کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کے گزشتہ بارہ‘ تیرہ سالہ دورِ حکومت کا بھی اسی سختی اور غیر جانبداری سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ سیاسی نعرے‘ الزامات‘ حقائق‘ شفافیت اور ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ خیبر پختونخوا کے قیمتی معدنی وسائل پی ٹی آئی کے سہولت کاروں‘ سر پرستوں‘ قریبی ساتھیوں اور عزیز و اقارب میں ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے جیسے یہ کوئی ان کی ذاتی جاگیر ہو۔ اس کرپشن اور بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے سارا الزام فوج پر ڈالا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر معدنی وسائل کی تقسیم شفاف تھی تو پی ٹی آئی اس کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے سے گریزاں کیوں ہے؟ کیا یہ صوبے کی قیمتی معدنی دولت کی لوٹ مار سے توجہ ہٹانے کی کوشش تو نہیں ہے؟ لیکن اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے۔ 2010ء میں خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس تھے۔ پی ٹی آئی حکومت میں یہ تعداد بڑھ کر 4917 تک پہنچ گئی۔ بتایا جائے کہ لائسنسوں کی تعداد میں اتنا اضافہ کیوں ہوا؟ اور علیمہ خان کے بیٹوں کو لائسنس کیوں جاری کیے گئے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر عمران خان کے رشتہ داروں اور مراد سعید کی جیبوں تک کیسے پہنچی جبکہ یہ رقم صوبائی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی۔ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ہونے والے اس مالی لین دین کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ عدالت بھی ان معلومات کو منظرِ عام پر لانے کے احکامات جاری کر چکی ہے لیکن شفافیت کے علمبردار متعلقہ تفصیلات جاری کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔ اور جب بھی فوج کی جانب سے احتساب کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف الزامات کی ایک نئی پروپیگنڈا مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے بارے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پارٹی کا مقصد فوج کو موردِ الزام ٹھہرا کر دہرا فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانا اوردہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا۔ تاہم جب ٹھیکوں سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام سامنے آتے ہیں تو اقربا پروری کے حوالے سے سوالات اٹھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ علیمہ خان اور مراد سعید پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے پسندیدہ افراد‘ قریبی ساتھیوں اور سرپرستوں میں 300سے زائد لائسنس تقسیم کیے جن کے عوض بھاری کمیشن وصولی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ چترال مائنز اینڈ منرلز کے بڑے ٹھیکوں کے حوالے سے بھی علیمہ خان کے بیٹوں‘ شیر شاہ خان اور شہروز خان کے نام سامنے آتے ہیں۔ ان قیمتی معدنی ذخائر کے اجازت نامے شہروز خان اور ان کی اہلیہ کے نام پر جاری ہوئے اور اس آمدنی کا ایک بڑا حصہ علیمہ خان کے خاندان کو پہنچایا جاتا رہا۔ یہ معاملہ محض ٹھیکوں کی الاٹمنٹ تک محدود نہیں بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عوامی وسائل کی تقسیم شفاف طریقے سے ہوئی؟ صوبے کے معدنی وسائل کسی کی نجی ملکیت نہیں کہ انہیں ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کیا جائے اور عوام کی پوچھ گچھ کو سیاسی مخالفت قرار دے کر انہیں خاموش کرا دیا جائے۔ مزید برآں صوبے کے شعبۂ صحت میں بھی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت امریکہ میں مقیم عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی کو صوبے کی وزارتِ صحت میں اعلیٰ عہدہ سونپنا تھا۔ وہ پالیسی ساز باڈیز کا حصہ بھی رہے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین بھی رہے۔ صحت کارڈ پروگرام اور دیگر اہم پالیسی فیصلوں میں ان کے کردار سے متعلق سوالات بھی حکومتی کارکردگی و کرپشن کے وسیع تر اختلافات کا حصہ بن چکے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی خود باقاعدہ پلاننگ کے تحت اپنے کارکنوں کو نعروں‘ شاہراہوں پر احتجاج اور سوشل میڈیا کی لڑائیوں میں مصروف رکھتی ہے تاکہ ان کی توجہ کرپشن و عوامی وسائل کے غلط استعمال سے ہٹائی جا سکے۔ مراد سعید عوامی وسائل کی لوٹ مار سے بھاری مالی فوائد سے مستفید ہوتے رہے ہیں جو اس وقت پکتیکا میں حافظ گل بہادر گروپ کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی سیاسی چالیں اور خیبر پختونخوا کے بگڑتے حالات اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔
اگر تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں لائسنس اور ٹھیکے شفاف طریقے سے تقسیم کیے گئے تھے تو ان کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں؟ اگر قریبی رشتہ داروں کو ٹھیکے دینے کے الزامات غلط ہیں تو متعلقہ ریکارڈ پیش کرکے واضح جواب کیوں نہیں دیا جاتا؟ تشویش کا پہلو تو یہ ہے کہ صوبے کے معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن واقعی صوبائی خزانے میں جمع ہوئی یا اسے نجی ہاتھوں میں منتقل کر دیا گیا؟ وقت آ گیا ہے کہ عوام سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا اور سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لیں اور یہ سوال اٹھائیں کہ اس کا اصل ذمہ دار کون ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved