تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     10-12-2013

سرخیان اُن کی، متن ہمارے

دہشت گرد اپنے منطقی انجام
کو پہنچیں گے...ممنون حسین
صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ '' دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے‘‘ کیونکہ اگر ہماری کارگزاری یہی رہی تو بہت جلد ہمیں ہی نکال باہر کریں گے اور ہمیں ہمارے منطقی انجام تک پہنچا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ '' سب کو مل کر معاملات کو درست کرنا ہے‘‘ جس میں ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کا اپنا کردار ہوگا کیونکہ حکومت تو کئی بار کہہ چکی ہے کہ وہ اکیلے کچھ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ'' مخالف قوتیں سازش کے تحت فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہیں‘‘ حالانکہ اس کے لیے سازش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور مختلف فرقے پہلے ہی نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ '' ملک کو درپیش حالات کے پیش نظر معاشرے میں امن ،حسن سلوک اور مذہبی روا داری کی تعلیم کو عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ‘‘ کیونکہ باقی ساری ضرورتیں حکومت نے بطریق احسن پوری کردی ہیں، اب باقی کام عوام کا ہے جنہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی نہایت بری عادت پڑی ہوئی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر ان سست الوجود عوام کا بنے گا کیا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں نظریہ پاکستان کونسل (ٹرسٹ) سے خطاب کررہے تھے۔
انتشار پھیلانے والوں کو
معاف نہیں کریں گے...رانا ثناء
صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ '' انتشار پھیلانے والوں کو معا ف نہیں کریں گے‘‘ اگرچہ ان سب نے معافی کی درخواستیں دے رکھی ہیں جن پر نہایت سنجیدگی سے غور وخوض ہورہا ہے کیونکہ یہ بھی پاکستان کے شہری ہیں اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ بھی بے حد ضروری ہے لیکن عام خیال یہی ہے کہ یہ درخواستیں مسترد کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ '' عمران خان کو سیاست نہیں آتی ‘‘ جنہیں ٹیوشن پڑھانے کے لیے میں تیار ہوں بشرطیکہ وہ معقول ٹیوشن فیس ادا کرسکیں جبکہ یہ میری سیاست ہی کا کرشمہ تھا کہ ضمنی انتخاب میں میرے ضلع میں ن لیگ کا امیدوار منہ کے بل جاگرا۔ انہوں نے کہا کہ '' عمران خان کو استاد کی ضرورت ہے ‘‘ اور میں نے اپنا پلازہ جس استادی سے بچایا ہے اس سے میری کاریگری کا اندازہ بخوبی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ '' پنجاب میں بلدیاتی انتخابات شفاف ہوں گے ‘‘ اگرچہ عام انتخابات کی طرح تو شفاف شاید نہ ہوسکیں کیونکہ اب سب کو کان ہوگئے ہیں اور سابقہ شفافیت شاید برقرار نہ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ '' جلد بازی میں کوئی کام نہیں کریں گے ‘‘ کیونکہ جلد بازی میں کرنے والے کام اس قدر کاریگری سے کیے جارہے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی،ماشاء اللہ! آپ اگلے روز لاہور میں ایک قومی روزنامہ سے گفتگو کررہے تھے۔
پنجاب میں بلدیاتی الیکشن شفاف 
ہوئے تو پی پی جیتے گی...گیلانی
سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ '' پنجاب میں بلدیاتی الیکشن شفاف ہوئے تو پی پی جیتے گی‘‘ جبکہ عام انتخابات ہارنے میں ہماری پانچ سالہ کارگزاریوں کا کوئی دخل نہیں تھا کیونکہ ہم کام میں اس قدر مصروف تھے کہ الیکشن جیتنے کا خیال ہی نہ رہا۔ ویسے بھی اتنی جمع پونجی اکٹھی ہوچکی تھی کہ الیکشن کو کوئی اہمیت ہی نہ دی جاسکی کیونکہ جس مقصد کے لیے الیکشن لڑا جاتا ہے وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی پورا ہوچکا تھا اس لیے زیادہ لالچ نہیں کیا کہ آخر قناعت پسندی بھی کوئی چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' وزیراعظم کی یوتھ بزنس لون سکیم مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے‘‘ کیونکہ ہم جیسے سیرچشم قلندروں کے آگے چند ارب روپے کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''پنجاب حکومت نے دھاندلی کا آغاز کردیا ہے ‘‘ اور اسے انجام تک بھی پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے جس طرح ہم نے اپنے دور میں دھندے کو اس کے انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ '' اس قدر تھوڑی رقم سے یوتھ پروگرام نہیں چلایا جاسکتا‘‘ جبکہ حکومت جتنی رقم چاہتی خاکسار سے ادھار بھی لے سکتی تھی۔ آپ اگلے روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔
انقلاب کے لیے آخری جدوجہد کا 
فیصلہ کرلیا ہے...طاہر القادری
شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ '' انقلاب کے لیے آخری فیصلہ کرلیا ہے ‘‘ اور انقلاب کے لیے بھی یہ آخری موقع ہے کہ اگر آنا ہے تو آجائے ورنہ خاکسار جیسا انقلابی پھر کبھی دستیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ''سرکاری ملازمین وردیاں اتارپھینکیں‘‘ اور سن باتھ کا مزہ لیں کیونکہ سردی کا موسم ہے اور جسم کو گرمی پہنچانا بے حد ضروری ہے، بعد میں بیشک کپڑے بھی پہن لیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ '' انقلاب کا آغاز اگلے ہفتے ہوگا‘‘ اور انشاء اللہ اسی ہفتے ہی حاصل کرلیا جائے کیونکہ وہ خود آنے کے لیے بہت بے تاب ہے اور مصر ہے کہ خاکسار کے ہاتھوں ہی آئے گا۔ اللہ معاف کرے۔ انہوں نے کہا کہ '' اقتدار عوام کو منتقل کیے بغیر واپسی نہیں ہوگی ‘‘ حالانکہ اس کی اپنی خواہش تو یہی ہوگی کہ ہمارے پاس ہی رہے لیکن طوعاً و کرہاً ایسا کرنا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے 5ماہ میں '' غیر ملکی دورے کیے‘‘ تاہم مجھے اگر موقع ملا تو میں دس دوروں سے زیادہ نہیں کروں گا کیونکہ آخر کفایت شعاری بھی کوئی چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' ایک کروڑ غازیوں کو جمع کرکے انقلاب کا کام شروع کردیاجائے گا‘‘ اس لیے انہیں اکٹھا کرنے کے لیے کسی صحرا کا انتظام کیاجارہا ہے۔آپ اگلے روز لاہور میں ایک انٹرویو دے رہے تھے۔
آج کا مقطع
مجھ سا بزدل جائے گا بزمِ عدو میں کیا ظفر
میں تو مدت ہوگئی اپنے بھی گھر جاتا نہیں 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved