تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     14-12-2013

ہم اپنے یوسفوں کو بھیڑیوں میں چھوڑ آئے

غدار اور محب وطن میں وہی فرق ہوتا ہے جو عبدالقادر ملا اور شیخ مجیب الرحمٰن میں تھا۔ ایک بابائے بنگلہ دیش ٹھہرا اور دوسرا پھانسی کے پھندے پر جھول گیا۔ اگرتلہ سازش ناکام ہوئی تو مجیب الرحمٰن غدار تھا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو پاکستان کے نام لیوا اور وفادار غدار ٹھہرے، جنگی جرائم کے مرتکب قرار پائے۔ پروفیسر غلام اعظم‘ مطیع الرحمٰن نظامی‘ دلاور حسین سعیدی‘ علی احسن مجاہد‘ قمرالزمان‘ اشرف الزمان‘ معین الدین چودھری‘ ابوالکلام آزاد‘ صلاح الدین قادرچودھری اور درجنوں دوسرے افراد ایسے ہی 'غدار‘ ہیں۔ 
بعض اوقات غدار اور محب وطن میں فرق صرف ناکامی اورکامیابی کا ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد جماعت اسلامی بھی ایسی ہی غدار ٹھہری۔ بانوے سالہ پروفیسر غلام اعظم کو نوے سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ جج نے سزا سناتے ہوئے یہ لکھا کہ اس طویل سزا کا بنیادی مقصد ''جنگ آزادی‘‘ کے دوران جنگی جرائم کی سزا دینا ہے؛ تاہم فیصلے میں یہ تحریر ہے کہ اس سزا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ''مجرم‘‘ جیل میں مرے۔ مجھے عبدالقادر ملا کی پھانسی پر‘ پروفیسرغلام اعظم کی نوے سالہ قید پر‘ پابند سلاسل جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر دلاور حسین سعیدی‘ سیکرٹری جنرل علی احسن مجاہد اور ڈپٹی سیکرٹری قمرالزمان کو موت کی سزا پر، اشرف الزمان‘ معین الدین چودھری اور ابوالکلام کو ان کی غیرموجودگی میں سزائے موت پر بحیثیت ایک پاکستانی افسوس اور ملال سے بھی کچھ بڑھ کر دکھ ہے مگر اس سے بھی زیادہ صدمہ پاکستان کے فارن آفس کے بیان پر ہے جس نے پاکستان کی محبت میں‘ پاک فوج کا ساتھ دینے اور دو قومی نظریے کی پاسداری کرنے کے جرم میں بنگلہ دیش کے نام نہاد جنگی جرائم کے ٹربیونل کے ہاتھوں پھانسی چڑھنے والے عبدالقادر ملا کی سزائے موت پر ایسا دل خراش اور بے حسی سے بھرپور بیان دیا ہے جو غیرت مند اور زندہ قومیں اپنے جاسوسوں کے بارے میں بھی نہیں دیتیں۔ فارن آفس نے اس سزائے موت کو بنگلہ دیش کا اندرونی مسئلہ قرار دیا ہے۔ 
افسوس تو اور چیزوں پر بھی ہے۔ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں پر‘ این جی اوز پر‘ روشن خیالوں پر اور سب سے بڑھ کر میڈیا پر۔ چیف جسٹس کی آخری تقریب کی کوریج نہ ملنے پر آسمان سر پر اٹھانے والوں پر‘ مختار مائی پر واویلا کرنے والوں پر‘ ملالہ پر قاتلانہ حملے کی ہیڈ لائن لگانے والوں پر اور کوڑوں کی جعلی ویڈیو پرکہرام مچانے والوں پر۔ اکثر اخبارات نے اس خبرکو اپنی چوتھی یا پانچویں ترجیح میں بھی نہیں رکھا لیکن اصل معاملہ یہی ہے کہ یہ لوگ جو بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سزائے موت کے حقدار ٹھہرے ہیں، پاکستان کی نظریاتی اساس کے علمبردار تھے۔ مجھے جماعت اسلامی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، لیکن یہ لوگ میرے متحدہ پاکستان کے نام لیوا تھے، دو قومی نظریے کے سپاہی تھے، پاکستان کو توڑنے کی عالمی اور بھارتی سازش کی راہ کی رکاوٹ تھے، پاکستان کی سالمیت اور بقا کی جنگ لڑنے والے تھے، مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے مخالف تھے اور اس وقت کے محب وطن تھے۔ سولہ دسمبر 1971ء کو رات میرے حوصلہ مند والد اور 
میری ہمیشہ سے صابرہ اور شاکرہ ماں بچوں کی طرح روئے تھے۔ ہمارا سارا گھر اتنا خاموش اور صدمے میں تھا کہ میں نے ایسی صورتحال اپنے گھر میں تب بھی نہیں دیکھی جب میری چوبیس سالہ بہن دو معصوم بچوں کو اور میرا چھتیس سالہ کڑیل جوان بھائی چھوٹے چھوٹے تین بچے چھوڑ کر اس جہان فانی سے چلے گئے تھے۔ ہمارے گھر میں ان جوان رخصتیوں پر بھی ایسا حال نہیں تھا جو سولہ دسمبر کی رات تھا۔ میں بارہ سال کا تھا، زیادہ سمجھدار نہیں تھا مگر مجھے اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ضرور ہوا ہے کہ والد صاحب جو ہمیشہ سے سختی اور حوصلے کی علامت تھے، ہمارے سامنے پہلی بار رو رہے تھے۔ 
آج نام نہاد لبرل‘ روشن خیال اور انسانی حقوق کے علمبردار مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کے مظالم کا ذکرکرتے ہیں، پنجابی بیوروکریسی پر تبرّا کرتے ہیں، مغربی پاکستان کی زیادتیوں پر شور مچاتے ہیں مگر بھارتی سازشوں اور لشکر کشی کا ذکر نہیں کرتے اور بہاریوں پر ہونے والے ظلم وستم پر ایک حرف نہیں کہتے، یہ سب لوگ آج خاموش ہیں۔ ہمہ وقت مولویوں اور مذہبی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر کہرام مچانے والے‘ روشن خیالی کو خیال میں بھی نقصان ہونے پر واویلا کرنے والے اور ہمہ وقت انسانی حقوق پر شور مچانے والے دانشور‘ روشن خیال اور لبرل فاشسٹ منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ لاطینی امریکہ کے کسی ملک میںکسی اخبار نویس کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر قلم کے تیر چلانے والے اخبار نویس، بنگلہ دیش کے روزنامے ''سنگرم‘‘ کے سابق ایڈیٹر اور نیشنل پریس ڈھاکہ کے دو بار منتخب ہونے والے نائب صدر، عبدالقادر ملا کی پھانسی پر خاموش ہیں۔ 
مجھے تو اپنی اور اپنے بچوں کی فکر ہے۔ کل کلاں خدانخواستہ پاکستان میں عالمی سازشیں کسی اور علیحدگی کا بندوبست کرتی ہیں تو میں یا میری اولاد کہاں کھڑی ہو گی؟ ہمیں دو قومی نظریے‘ پاکستان اور ملکی یکجہتی اور سالمیت کا ساتھ دینا ہو گا یا علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہو گا؟ اگر آج عبدالقادر غدار ہے تو ایسی صورتحال میں کل کلاں خدانخواستہ، خاکم بدہن میں بھی غداروں کے کٹہرے میں ہوں گا اور میرے بچے غدار کی اولاد کہلائیں گے۔ اس طرح تو کوئی اپنے جاسوسوں کو لاوارث نہیں چھوڑتا جس طرح ہم نے مشرقی پاکستان میں متحدہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کو چھوڑ دیا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کی راہ میں پاکستان کی محبت کا چراغ جلانے والوں میں صرف جماعت اسلامی ہی نہیں دو قومی نظریے کے سارے مسافر راہِ ابتلا میں ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (مسلم لیگ) کے صلاح الدین قادر چودھری‘ جو فضل القادر چودھری کے فرزند ہیں‘ اس سزائے موت کے حقدار ٹھہرے ہیں۔ 
فیصل آباد کے فخر اور برادر بزرگ ڈاکٹر ریاض مجید کی ایک غزل: 
 
 
نہتے بھائی گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے 
ہم اپنے یوسفوں کو بھیڑیوں میں چھوڑ آئے 
زمیں بچانا تھی ہم کو تو جان دے کر بھی 
بچا کے جان اسے دشمنوں میں چھوڑ آئے 
وہ بے نیاز تھے ماں تیرے سر پھرے بچے 
ابلتا دودھ تیری چھاتیوں میں چھوڑ آئے 
سنبھالتے کہاں تک اس شکستہ کشتی کو 
لگا کے آگ اسے پانیوں میں چھوڑ آئے 
وہاں سے لوٹ کے اپنی شباہتیں نہ ملیں 
ہم اپنا عکس بھی ان آئینوں میں چھوڑ آئے 
خبر نہ تھی کہ اندھیرے ہیں راہ ہجرت میں 
چراغ جلتے ہوئے کھڑکیوں میں چھوڑ آئے 
چلے تھے ہم بھی جہاں میں ریاض بکنے کو 
ہم اپنی آب مگر سیپیوں میں چھوڑ آئے 
 
 
کل کلاں اگر خدانخواستہ کوئی بدترین صورتحال پیش آتی ہے تو مجھے فیصلہ کرنا ہو گا کہ مجھے آج غدار بننا ہے یا کل غدار قرار پانا ہے، موج میلا کرنا ہے یا پھانسی چڑھنا ہے۔ اقتدار میں آنا ہے یا راہِ وفا کا شہید بننا ہے، فاٹا میں مملکت خداداد کا ساتھ دینا ہے یا ولایت پاکستان کے دعویداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈا لگانا ہے یا بی ایل اے کے پرچم کو تھامنا ہے۔ یہ فیصلہ میں نے کرنا ہے مگر یہ فیصلہ کرنے میں میری مدد ان لوگوں نے کرنی ہے جو آج کہہ رہے ہیں کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved