تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     16-12-2013

خراب کرگئی شاہین بچے کو صحبتِ زاغ

کرتے کرتے عمران خان کو سیاست آ ہی گئی۔لیڈر بنتے بنتے وہ سیاست دان بن گئے۔لیڈر کون ہوتا ہے؟جس کا ایک وژن ہواورجو زندگی کو ماہ و سال نہیں، ماضی اور مستقبل کے پیمانے سے دیکھتا ہو۔سیاست دان کون ہے؟ جواپنے شب و روزمیں جیتا ہے۔ مخالفین کی کمزوریوں اورعوامی جذبات کا ستحصال کرتا ہے۔ ہم جیسوں کو عمران سے گلا تھا کہ اسے سیاست نہیں آتی۔اب اس نے بتادیا کہ وہ سیاست سیکھ گیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ سیاست ایک اور قسم کی ہے۔ ع
خراب کر گئی شاہین بچے کو صحبتِ زاغ 
ڈرون حملے اور مہنگائی۔۔۔۔۔عوامی جذبات سے کھیلنے کے لیے اس سے بہتر کوئی عنوان نہیں ہو سکتا۔جس ملک میں نوے فی صد سے زیادہ لوگ امریکا مخالف اور مہنگائی کے شکنجے میں پس رہے ہوں،وہاں تواللہ دے اور بندہ لے۔قدرت نے اس کا موقع فراہم کیا اور عمران نے اس سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں لگائی۔ڈرون حملہ تو پرسوںبھی ہوا۔ظاہر ہے کہ نیٹو سپلائی روکنے سے یہ حملے نہیں رکنے تھے۔اسی طرح مہنگائی بھی ختم نہیں ہو گی اور عمران خان کو معلوم ہے کہ نہیں ہو سکتی۔لیکن ایک سیاست دان کو مسائل کے حل سے نہیں،ان کے استحصال سے دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی سے سیاست چمکتی ہے اوروہ خوب چمک رہی ہے۔ ایک سیاست دان طلوع ہورہا ہے لیکن لیڈر۔۔۔۔۔اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر!
ڈرون حملے اور مہنگائی۔۔۔۔۔ہم جانتے ہیں کہ دونوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ جہاں امن نہ ہو،وہاں کوئی معاشی سرگرمی ممکن نہیں ہوتی۔سرمائے کی نفسیات انسانی نفسیات سے مختلف نہیں۔جہاں تحفظ نہ ہو، سرمایہ وہاں کا رخ نہیں کر تا۔امن پاکستان کی پہلی اورآخری ترجیح ہو نی چاہیے۔ایک اور بات،ہم چاہیں یا نہ چاہیں، معیشت عالمی ہے۔ یورپی یونین نے پاکستان کوجی ایس پی پلس کا سٹیٹس دیا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ محض ٹیکسٹائل کی صنعت کو ایک بلین ڈالر سالانہ منافع ہوگا،ایک لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تائید میسرہو تو معیشت کواستحکام مل سکتا ہے۔اس ساری بحث کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر پاکستان میں گیس اور بجلی مو جود نہیںاورصنعتیں بند ہیں تو ہم عالمی مارکیٹ میں کیا بیچنے جائیں گے؟ہم اس موقعے سے کیسے فائدہ اٹھائیں گے۔ایک سوال اور۔۔۔۔۔اگر تاجر دیانت دار نہیں تو پھر ہماری ساکھ کیسے بحال ہو گی؟یہ سب سوالات سماجی اور سیاسی ہیں۔یہ طے ہے کہ جس ملک میں ہر روز ہنگامے ہوتے ہوں، احتجاج ہو تا ہو، دھرنے ہوں،جلوس ہوں، وہاں سیاسی و سماجی استحکام نہیں آئے گا۔جہاں ہر رہنما ساری دنیا کو گالیاں دینے میں مصروف ہو،وہاںگیس ملے گی نہ بجلی پیدا ہو سکے گی۔ عمران خان کو یہ بات معلوم ہے،اگر وہ پاکستان کو مسلسل احتجاجی سیاست کے حوالے کیے رکھیں گے تو مہنگائی میں کمی کیاہونی ہے،مزید اضافہ ہوگا۔یہ ثابت ہو چکا کہ ڈرون حملوں کی بندش سے ڈرون نہیں رک سکتے۔ اسی طرح مہنگائی کے خلاف دھرنوں سے بھی مہنگائی کم نہیں ہوگی بلکہ اس سے عام آ دمی کی قوتِ خرید مزیدکم ہوگی۔اس کا مطلب مہنگائی میں اضافہ ہے۔اب اگرہم ساتھ ہی یورپی ممالک کو ناراض کریں تو اس کا نتیجہ بھی معیشت کے لیے خوش گوار نہیں ہوگا۔اس صورتِ حال میں ایک روایتی سیاست دان کیا کرتا ہے۔ان مسائل کا استحصال اورعام آدمی کے مسائل میں مزید اضافہ۔ عمران خان کے دھرنوں پرمبنی سیاست سے ایک عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگی، مایوسی بڑھے گی اورعام انتخابات قریب آ جائیں گے۔عوام اپنی نفسیات کے عین مطابق اس کا ذمہ دار حکومت کوقراردیں گے اوریوں دوسری جماعت کے لیے اقتدار تک پہنچنے کا امکان پیداہوجائے گا۔کیا عمران خان یہ سب کچھ اسی لیے کررہے ہیں؟ یہ ایک سیاست دان کے اوصاف ہیں یا ایک لیڈر کے؟
ایک جمہوری سماج میں حکومت اپنی کارکردگی کے حصار میں رہتی ہے۔آزاد میڈیا ،فعال عدلیہ اور متحرک پارلیمان کی مو جودگی میں کسی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ عوام سے حقائق چھپا سکے۔ 
موجودہ حکومت کی ساکھ کو میرے نزدیک اگرکسی بات نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تووہ چیئرمین نادرا کا مقد مہ ہے۔یہ نقصان کسی دھرنے کے باعث نہیں ہوا،اس کا سبب ایک آزاد میڈیا ہے۔جمہوری سماج میں اپوزیشن اس بات کو یقینی بنا تی ہے کہ میڈیا آزاد رہے،عدلیہ پرکوئی قدغن نہ ہواور پارلیمان میںجان دار بحث ہو تا کہ جمہوری عمل پرعوامی اعتماد میں اضافہ ہو۔اس سے حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے آتی رہتی ہے اوراس کے ساتھ عام آد می کے معمولات بھی خراب نہیں ہوتے۔ سماج بحیثیت مجموعی ارتقائی مراحل سے گزرتا رہتا ہے، معاشی عمل متاثر ہو تا ہے اور نہ سماجی زندگی۔ مثبت اپوزیشن یہی ہو تی ہے کہ سماج کے انحطاط کو بھی روکے۔ عمران خان کی سیاست میں اس پہلوکا کوئی گزر نہیں۔ سیاسی عمل کو مثبت طور پر آگے بڑھانا صرف حکومت کا کام نہیں ہوتا، دوسری سیاسی جماعتیں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
سیاسی اعتبار سے پاکستان کی سیاست میں چندمثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔مثال کے طور پرفوج نے بطور ادارہ طے کر لیاہے کہ و ہ عملی سیاست سے دور رہے گی۔اسی طرح عدلیہ سیاسی دباؤ سے نکل آئی ہے۔یہ کام کسی حکومت نے نہیں کیے۔یہ ایک ایسے سیاسی ارتقا کے نتیجے میں ہوا ہے جس میں حکومت،سیاسی جماعتیں، میڈیا، سول سوسائٹی سب شریک رہے ہیں۔یہ ماضی میںبھی ہوا۔جب مو لا نا مو دودی، ممتاز دولتانہ اورنواب زادہ نصراللہ خان جیسے لوگ مو جود تھے تو سیاست زیادہ شائستہ تھی۔آج ہماری ضرورت یہ ہے کہ سیاسی ارتقا کو یقینی بنایا جائے۔حکومت کی کارکردگی پر نظر رہے اور اگر وہ قابلِ اطمینان نہیں تو آئین کے تحت ملک میں کسی دوسری قوت کو انتقالِ اقتدار ہو جائے۔ دھرنوں اوراحتجاج سے ایک غیر سنجیدہ اورعوامی سطح پر ایک تکلیف دہ کلچروجود میں آتا ہے۔اس سے روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے اورعام آ دمی کی قوتِ برداشت مزید کم ہو تی ہے۔پاکستان کواس سیاست سے نجات کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔یہ کام کوئی غیرروایتی سیاست دان ہی کر سکتاہے۔
عمران خان کواگرسیاست دان ہی بننا ہے توہم ان سے یہ توقع توضرور رکھیں گے وہ روایتی سیاست دان نہ بنیں۔روایتی سیاست دان چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کے لیے اخلاقی معیارات پر مفاہمت کر لیتے ہیں۔عدالت ایک خاتون کو بد عنوان کہتی ہے لیکن وہ پارٹی سطح پرنہ صرف احتساب نہیں کرتے بلکہ محض ایک حلقہ انتخاب کے لیے ان کے وکیل بن جاتے ہیں۔ایک مشکوک شہرت کے حامل کو ایک صوبے کی قیادت سونپ دیتے ہیں۔احتجاجی سیاست سے سماجی سطح پرمسلسل غیر یقینی صورتِ حال پیدا کیے رکھتے ہیں۔عمران خان سے منسوب یہ سب باتیں مجھے اچھی نہیں لگتیں۔ کاش وہ لیڈر بن سکتے۔اس کا امکان اگر نہیں تو وہ ایک غیر روایتی سیاست دان تو بنیں۔افسوس کہ ایک شفاف آدمی عصری سیاست کا ایندھن بن رہا ہے۔اُسے روایتی سیاست دانوں کی مشاورت کھا گئی۔۔۔۔۔۔خراب کرگئی شاہین بچے کو صحبتِ زاغ! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved