تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     16-12-2013

ذرا وکھری ٹائپ کی شاعری

ہمارے پسندیدہ شاعر رستم نامیؔ نے شنکیاری‘ مانسہرہ سے ہماری فرمائش پر اپنا تازہ کلام بھجوایا ہے‘ ذرا ان کے تیور ملاحظہ کریں: 
بالکل فضول ہے یہ ہمارا پروگرام 
چلتا ہے کائنات میں اُس کا پروگرام 
محفل سے پہلے ہم کو نکالا‘ پھر اُس کے بعد 
وہ ہم سے پوچھنے لگا‘ ہے کیا پروگرام 
موقع نہیں دیا ہمیں تقدیر نے کبھی 
ورنہ بنائے بیٹھے ہیں کیا کیا پروگرام 
وہ آ گیا تو یاد بھی دل سے چلی گئی 
اُس نے خراب کر دیا سارا پروگرام 
اعلیٰ پروگرام میں ہو گا شمار وہ 
ہو گا جو ایک دن تہہ و بالا پروگرام 
اپنا پروگرام پسِ پُشت ڈال کر 
سب لوگ دیکھتے ہیں تمہارا پروگرام 
سارے پروگرام خراب اُس کے بعد ہیں 
وہ خُلد میں چلا تھا جو پہلا پروگرام 
مجبوریوں نے پائوں میں زنجیر ڈال دی 
جب بھی کسی کے ساتھ بنایا پروگرام 
نامیؔ ہمیں یہ رنج رہے گا تمام عمر 
تیرے بغیر ہم نے چلایا پروگرام 
...............
مجھے ملنے کی گنجائش نکالو 
مرے دل سے مری خواہش نکالو 
تو پھر آسان ہوگی زندگی بھی 
گھروں سے اپنے آسائش نکالو 
سنوارو بھی یہ بے ترتیب زلفیں 
ذرا سامانِ آرائش نکالو 
ذرا برسائو اس جلتی زمیں پر 
ذرا اے بادلو بارش نکالو 
مجھے رہنا ہے زندہ اور کتنا 
مری تاریخِ پیدائش نکالو 
مجھے تم قید کر لو اپنے اندر 
مرے پیروں سے یہ گردش نکالو 
نکلتا ہی نہیں وہ گھر سے نامیؔ 
کرو بارِ دگر کوشش‘ نکالو 
...............
مکیں ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
نہیں‘ ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
نہ ہو جب اہتمامِ سجدۂ شوق 
جبیں ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
سند عُشّاق سے ملتی نہ ہو جب 
حسیں ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
نہیں ہوتا ہے جب تک سابقہ‘ ہم 
نشیں ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
نہیں لگتی ہے جب تک ساتھ داری 
زمیں ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
نہیں لگتا ہے جب کم ساتھ نامیؔ 
تریں ہونے سے کچھ ہوتا نہیں ہے 
...............
یہ کیسے نشے میں ہوں 
نشے کے نشے میں ہوں 
میں تو کون و مکاں سے بھی 
آگے کے نشے میں ہوں 
یار تجھے دیکھا ہے آج 
آج بڑے نشے میں ہوں 
بونے لگتے ہیں سارے 
میں اونچے نشے میں ہوں 
دِکھتی ہے آدھی ہر شے 
میں پورے نشے میں ہوں 
لوگ تو پیتے ہیں نامیؔ 
میں ویسے نشے میں ہوں 
...............
عجب اس طور استعمالتا ہوں 
میں لفظوں کا بدن کھنگالتا ہوں 
میں کچھ بھی کر نہیں سکتا ہوں‘ لیکن 
تجھے تو مخمصے میں ڈالتا ہوں 
مرا ہوتا ہے تجھ سے رابطہ روز 
میں خود کو روز خط ارسالتا ہوں 
میں ہوتا ہوں گئے گزرے دنوں میں 
کہ ماضی کو ہی اکثر حالتا ہوں 
میں اس دنیا سے جب ہوتا ہوں نالاں 
تو اک دنیا نئی اِشکالتا ہوں 
نکلتا ہوں جو غم کی بارشوں میں 
تمہاری یاد کو ترپالتا ہوں 
معانی کا جہاں کھلتا ہے نامیؔ 
غزل کو جب ظفر اقبالتا ہوں 
آج کا مقطع 
ظفرؔ، ضُعفِ دماغ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا 
کہ جاتا ہوں وہاں اور واپس آنا بھول جاتا ہوں 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved