تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     20-12-2013

سرخیاں اُن کی متن ہمارے

ایجادات کے بعد صورتحال تبدیل‘ بڑی فوج
کے بغیر جنگ لڑی جا سکتی ہے... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''ایجادات کے بعد بڑی تبدیلی آئی ہے اور بڑی فوج کے بغیر بھی جنگ جیتی جا سکتی ہے‘‘ اس حوالے سے غورو خوض کا سارا کام بھی میرے ہی ذمے ہے‘ البتہ اب سوچ رہا ہوں کہ دوسروں کو بھی اس کی عادت ڈالی جائے؛ چنانچہ اپنے بزرگ ساتھیوں کو یہ فریضہ سونپنے پر غور کر رہا ہوں کیونکہ بدقسمتی سے وہ اور تو کسی کام کاج کے رہے نہیں‘ کم از کم اسی میں میرا ہاتھ بٹاتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ہمارے جوانوں نے ثابت کردیا کہ وہ کسی سے کم نہیں‘‘ اور یہ مرتبہ بھی انہوں نے میری ہی پیروی سے حاصل کیا ہے کیونکہ میں نے طالبان سے مذاکرات سمیت ہر معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے کہ اس سے بڑا کارساز اور کون ہو سکتا ہے اور وہ ایک دفعہ کُن کہہ دے تو سارا کام اسی وقت ہو جاتا ہے‘ بہرحال جو کچھ بھی ہو‘ تقدیر کے لکھے کے مطابق ہی ہوگا۔ ہیں جی؟ آپ اگلے روز کامرہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ 
امن کے لیے حکومت کے ہر فیصلے کی 
غیر مشروط حمایت کریں گے... وٹو 
پیپلز پارٹی پنجاب کے صوبائی صدر میاں منظور احمد خان وٹو نے کہا ہے کہ ''قیامِ امن کے لیے حکومت کے ہر فیصلے کی حمایت کریں گے‘‘ جبکہ اپنے دور میں ہم نے کوئی بھی کام غیر مشروط طور پر نہیں کیا تھا اور جملہ معززین ہر کام یہ دیکھ کر کرتے تھے کہ اس میں اپنا دال دلیا کس قدر ہوتا ہے اور جہاں یہ شرط پوری نہیں ہوتی تھی‘ وہاں نہایت انکساری کے ساتھ معذرت کردی جاتی تھی؛ چنانچہ اسی ڈسپلن کے تحت بہت سے غیر ملکی اور بڑے بڑے منصوبے قبول کرنے سے معذرت کردی تھی کہ ان میں ہمارے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ''دہشت گردی کے خلاف سخت فیصلے کرنا ہوں گے‘‘ البتہ ہمارے معاملات میں ہاتھ ذرا ہولا رکھنا ہوگا اور یہ نہ ہو کہ طارق ملک کی طرح آنکھیں ماتھے پر رکھ لی جائیں اور صاف انکار کردیا جائے جس کا نتیجہ وہ بھی نکل سکتا ہے جو موصوف کے سلسلے میں نکالا جا رہا ہے‘ خاص طور پر ہمارے وزرائے اعظم حکومت کی دلی توجہ کے مستحق ہیں جنہیں پریشان کر کے پوری قوم کے جذبات کو پامال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں معمول کا ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
بزرگانِ دین کی وجہ سے برصغیر میں
اسلام کا بول بالا ہوا... فضل الرحمن 
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''بزرگانِ دین کی وجہ سے برصغیر میں اسلام کا بول بالا ہوا‘‘ جبکہ موجودہ بزرگانِ دین کے ذمے دوہری ڈیوٹی ہے کہ وہ اسلام کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا بھی بول بالا کر رہے اور ماشاء اللہ اسی کے اعتراف میں خدا خدا کر کے پہلے خاکسار کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین اور پھر برادرم شیرانی صاحب کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے ورنہ ہم دونوں صرف اسلام کا بول بالا کرنے تک ہی محدود رہتے اور جمہوریت ہمارا منہ ہی دیکھتی رہ جاتی؛ چنانچہ اسے حکومت کا بھی ایک زبردست جمہوری کارنامہ قرار دینا چاہیے جبکہ خاص طور پر خاکسار کے شاندار ماضی سے حکومت کو صرفِ نظر کرنا پڑا‘ شاید اس لیے بھی کہ حکومت بھی ایسے ہی شاندار ماضی کی حامل ہے اور الحمدللہ کہ دونوں کا جمہوری قارورہ مکمل طور پر ملتا ہے اور کبوتر با کبوتر‘ باز با باز‘ کا مقولہ ایک بار پھر درست ثابت ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ان بزرگ ہستیوں نے جابر سلطانوں کے سامنے کلمۂ حق کہا‘‘ جبکہ ہم بھی یہ کام کرتے ہیں‘ لیکن ان سے پوچھ کر۔ آپ اگلے روز دورۂ بھارت کے دوران علماء سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
طالبان پولیو ٹیموں پر حملے 
بند کردیں... عمران خان 
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ''طالبان پولیو ٹیموں پر حملے بند کردیں‘‘ کیونکہ اس نیک کام کے لیے اگر باقی سارا ملک موجود ہے جسے وہ بغیر کسی روک ٹوک کے سرانجام دے رہے ہیں تو پولیو ٹیموں پر حملوں سے درگزر بھی کیا جا سکتا ہے لیکن میری بات پر عمل کرنے کی بجائے انہوں نے یہ کہا ہے کہ میں خود بھی پولیو ٹیموں سے دور رہوں‘ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مجھ پر بھی ہاتھ صاف کر سکتے ہیں حالانکہ انہیں میرے نیٹو سپلائی بند کرنے کا ہی کچھ خیال رکھنا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں چونکہ حکومت بھی میری طرح ان کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہے‘ اسی لیے وہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ''طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں‘‘ اگرچہ حکومت ان کا بندوبست کرنے کے لیے اندر خانے کچھ اور ہی انتظام کر رہی ہے‘ اللہ تعالیٰ توفیق ارزانی فرمائے‘ آمین! انہوں نے کہا کہ ''بلدیاتی الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں کرائے جائیں‘‘ تاکہ بعد میں دھاندلی دھاندلی کا شور نہ مچانا پڑے اور نہ دھرنے دینے پڑیں جس سے پہلے ہی تنگ آ چکے ہیں۔ آپ اگلے روز پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ 
آسمان ٹوٹے یا ملک کو کچھ ہو جائے عمران خان
کو وزیراعظم بننا ہے... سعد رفیق 
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''آسمان ٹوٹے یا ملک کو کچھ ہو جائے‘ عمران خان کو وزیراعظم بننا ہے‘‘ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ پوری قوم پورے خضوع و خشوع سے یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں سے ہی باری باری وزیراعظم لیے جائیں گے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے کارہائے نمایاں و خفیہ سے اچھی طرح واقف ہیں تاکہ دونوں اپنی اپنی باری پر دوسرے پر کوئی اعتراض نہ کر سکے اور سب کو کھایا پیا ہضم ہو جائے جبکہ عمران خان دونوں کا ہاضمہ خراب کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ایک طرف امریکہ کی مخالفت میں نیٹو سپلائی بند کروا رہے ہیں اور امریکہ کے خلاف تندو تیز بیان دے رہے ہیں اور دوسری طرف وہ وزیراعظم بھی بننا چاہتے ہیں حالانکہ بچے بچے کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ وزیراعظم تو کیا‘ چھوٹے بڑے افسر بھی یہاں امریکہ کی مرضی کے خلاف تعینات نہیں ہو سکتے۔ اس لیے عمران خان وزارتِ عظمیٰ کا خیال دل سے نکال دیں تو یہ ان کے لیے بھی بہتر ہوگا اور وہ خواہ مخواہ شریف آدمیوں کو پریشان نہ کریں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں عمران خان کے بیانات کا جواب دے رہے تھے۔ 
آج کا مطلع 
 
کرتا ہوں جمع خود کو بکھرنے کے نام پر 
جیتا ہوں اس نواح میں مرنے کے نام پر 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved