تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     21-12-2013

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے

پورے ملک میں پنجاب جیسی
خوشحالی چاہتا ہوں... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''پورے ملک میں پنجاب جیسی خوشحالی چاہتا ہوں‘‘ اور یہ جو آئے دن لوگ خودکشیاں کر رہے اور اپنے بچے بیچنے کے لیے بازار میں لے آتے ہیں تو اس لیے کہ خودکشی ویسے بھی بہت سے مسائل سے بے نیاز کر دیتی ہے کیونکہ دنیا واقعی دکھوں کا گھر ہے اور لوگ مہاتما بدھ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر نروان حاصل کر رہے ہیں‘ لوگ اگر اپنا گردہ بیچ سکتے ہیں تو اپنا لخت جگر کیوں نہیں بیچ سکتے جبکہ جمہوریت کا زمانہ ہے اور کسی کو اس کے ذریعۂ روزگار سے نہیں روکا جا سکتا اور پورے ملک کو ایسا بنانے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ آبادی بم اس ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے جو خواہ مخواہ مجھ سے چلوا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''دہشت گردی کی بیماری ختم کریں گے‘‘ جس طرح ہم نے ڈینگی اور پولیو کا صفایا کردیا ہے لیکن غیر ملکی ادارے سراسر غلط بیانیاں کر رہے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ترک اور ا یرانی سفیروں سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
مشرف ٹرائل میں قانون اپنا 
راستہ خود بنائے گا... پرویز رشید 
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ''مشرف کیس میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا‘‘ کیونکہ
قانون وہی راستہ اختیار کرے گا جو شہادتوں اور پراسیکیوشن سے خود ہی بنتا چلا جائے گا اور یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر سب کو حیران کر دے گا جبکہ دیگر مقدمات بھی‘ خواہ وہ پیپلز پارٹی والوں کے خلاف ہوں یا حکومتی معززین کے‘ ان میں بھی قانون اپنا ویسا ہی راستہ اختیار کر لے گا تاکہ ملک میں امن و ا مان رہے اور کسی قسم کی افراتفری نہ پھیلے جبکہ اب بالآخر بزرگوارم اصغر خان کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے اور یہاں بھی قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے کی پوری پوری سہولت مہیا کی جائے گی تاکہ حکومت کے لیے کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہ ہو جائے کیونکہ ناگواری کا یہ سلسلہ اگر ایک بار شروع ہو گیا تو پھر رُکنے کا نام ہی نہیں لے گا۔ اس کے علاوہ ہم نے جنرل مشرف کے ضامنوں کو بھی جواب دینا ہے جن کی ضرورت گاہے بگاہے ہمیں بھی پڑتی رہتی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کل کو پھر کسی کی میزبانی کا لطف اٹھانا پڑ جائے کیونکہ یہ ملک ہی ایسا ہے کہ اس میں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ 
قوم کو مجبوراً چند ہفتے مزید لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑے گی... خواجہ آصف 
وفاقی وزیر دفاع و پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ''قوم کو مجبوراً چند ہفتے لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑے گی‘‘ کیونکہ پہلے وہ اسے ہنسی خوشی برداشت کر رہی تھی اور خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی اور حکومت پر شکرانے اور مبارکباد کے ڈونگرے برسا رہی تھی‘ اس لیے کوئی ہرج نہیں اگر وہ چند ہفتوں کے لیے یہ ذرا سی تکلیف برداشت کر لے جبکہ سردیوں میں نہ پنکھا چلانے کی ضرورت پڑتی ہے نہ ایئرکنڈیشنر کی جبکہ روشنی کے لیے ملک میں لالٹینیں کثرت سے دستیاب ہیں اور مٹی کا تیل بھی افراط سے میسر ہے اور آئے دن بلب بھی نہیں خریدنے پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ ''اس کے لیے عوام سے معذرت خواہ ہوں‘‘ کیونکہ عوام جہاں دیگر تمام مصیبتوں کا صبر سے سامنا کر رہے ہیں وہاں ایک بجلی نہ ہونے پر بھی وہ اپنی روایتی استقامت کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ آدمی کا دل روشن ہونا چاہیے جس کے مقابلے میں باہر کی روشنی کوئی اہمیت نہیں رکھتی جیسا کہ ہم لوگوں کی اندرونی دنیا روشنی سے جگمگ جگمگ کر رہی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
بلاول بھٹو زرداری قوم کی آواز
بن کر اُبھر رہے ہیں... منظور وٹو 
پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد خان وٹو نے کہا ہے کہ ''بلاول بھٹو زرداری قوم کی آواز بن کر اُبھر رہے ہیں‘‘ اگرچہ وہ اتنا تو نہیں اُبھر سکتے جتنا ان کے والد گرامی اور ان کی قیادت میں ہم لوگ اُبھرے تھے‘ تاہم امید ہے کہ وہ بہت جلد ہمارے قائم کیے ہوئے ریکارڈز بھی توڑ دیں گے‘ صرف اقتدار میں آنے کی دیر ہے جبکہ ہماری صحبت میں رہ کر وہ ان معاملات میں ہم سے بھی زیادہ طاق ہو جائیں گے اور جمہوریت و عوام کی خدمت کا پورا پورا حق ادا کردیں گے‘ اگرچہ ہم لوگوں نے اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور مزید خدمت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہ گئی تھی لیکن عوام کو بھی اس خدمت کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ نہ اُن کا پیٹ بھرتا ہے نہ ہمارا‘ جبکہ ان کا پیٹ تو بول بچن سے بھی بھر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پیپلز پارٹی ان کی قیادت میں تیر کے نشان پر بلدیاتی الیکشن کا میدان مارے گی‘‘ اگرچہ عام انتخابات میں ایسا نہیں ہو سکا تھا کیونکہ اس وقت ہمارا ہاسا نکل گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''پنجاب میں حکومتی پروردہ پریزائیڈنگ افسر لگائے جا رہے ہیں‘‘ جبکہ ہمیں ان حضرات کی پرورش کا موقع ہی نہیں ملا تھا کیونکہ ہم اپنی پرورش میں ذرا زیادہ ہی مصروف تھے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
ڈٹ کر مقابلہ کروں گا‘ 
بھاگنے والا نہیں ہوں... مشرف 
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ''ڈٹ کر مقابلہ کروں گا‘ بھاگنے والا نہیں ہوں‘‘ البتہ اگر کوئی ہیلی کاپٹر وغیرہ بھیج کر خود ہی مجھے بھگا لے جائے تو میں کیا کر سکتا ہوں کہ ہیلی کاپٹر کی سواری کیے ویسے بھی ایک زمانہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اس کی معافی چاہتا ہوں‘‘ اگرچہ یہ بھی میں تکلف ہی کر رہا ہوں کیونکہ مقدمے کا انجام مجھے معلوم ہے جبکہ میرے خلاف مقدمہ چلانا حکومت کی مجبوری بھی ہے کہ اگر وہ اور کچھ نہیں کر سکی تو کم از کم مجھے کٹہرے میں تو لے آئے گی‘ اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''میں ملک کو زمین سے آسمان پر لے گیا‘‘ لیکن آسمان پر پہنچے تو یہ کہا گیا کہ تم وقت سے پہلے ہی اسے یہاں لے آئے ہو‘ ابھی کچھ عرصہ مزید اسے مزہ چکھائو‘ پھر لے آنا۔ انہوں نے کہا کہ ''جمہوریت آمریت سے بہتر ہے‘‘ یہ میں اس وقت بھی جانتا تھا لیکن سارا کام میرے مشیروں اور مہربانوں نے کروایا ہے اور میرے بھولپن سے فائدہ اٹھایا۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ 
آج کا مطلع 
جس سے چاہا تھا بکھرنے سے بچا لے مجھ کو 
کر گیا تُند ہوائوں کے حوالے مجھ کو 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved