تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-12-2013

سرخیاں اُن کی‘متن ہمارے

ماڈل بازاروں کا دائرہ کار
بڑھایاجائے گا...شہبازشریف
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ '' عوام کو ریلیف دینے کے لیے ماڈل بازاروں کا دائرہ کار بڑھایاجائے گا‘‘ کیونکہ گلے سڑے ٹماٹروں اور سبزیوں کا نکاس بہت ضروری ہے تاکہ تنگ آئے ہوئے عوام ان کو سیاستدانوں پر نہ پھینک سکیں اور اگر ان میں ہر چیز بازار سے مہنگی ملتی ہے تو اس کے ذمہ دار دکاندار ہیں جنہیں پریشان کرنا مناسب نہیں کیونکہ بلدیاتی الیکشن سرپر ہے اور ہم اپنی دکانداری خراب نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ '' پاکستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے‘‘ اور ان چیلنجز میں ماشاء اللہ ہم خود بھی شامل ہیں جن سے عہدہ برآں ہونا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے اور نہ ہی ہم پسپا ہونے والے ہیں کیونکہ جس کاریگری سے الیکشن جیتا گیا ہے اس میں پسپا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نشان ہائے انگوٹھا کی تصدیق جمہوریت کی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے جس سے سپیکر قومی اسمبلی ،خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق کو گھر جانا پڑے گا جبکہ خدا خدا کرکے انہوں نے گھر سے جان چھڑوائی ہے اور اب پھر وہی گھر انہیں منہ پھاڑے کھڑا نظر آرہا ہے۔آپ اگلے روز لاہور میں آسٹریلوی گروپ کے چیئرمین سے گفتگو کررہے تھے۔
پنڈورا باکس کھل رہا ہے، بڑے بڑے
بے نقاب ہوں گے...اسلم بیگ
سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ ''پنڈورا باکس کھل رہا ہے ،بڑے بڑے بے نقاب ہوں گے‘‘ اور جہاں تک خاکسار کا تعلق ہے تو میں نے سب کچھ تسلیم کرکے یہ نقاب اپنے آپ ہی اتار دی تھی اس لیے امید ہے کہ بے نقاب ہونے والوں میں، میں شامل نہیں ہوں گا کیونکہ شرافت کا تقاضایہی تھا کہ سب کچھ سچ سچ بتادیاجائے ۔ اس لیے امید ہے کہ عدالت کی طرف سے سچ بولنے کے نمبر ضرور ملیں گے ویسے بھی کسی آرمی چیف کو سزا دینا کوئی مذاق نہیں ہے کیونکہ ہم لوگ سارا کام پوری سنجیدگی سے کرتے ہیں ،کوئی مذاق کرتے ہیں اور نہ ہی کسی طرح کا مذاق برداشت کرتے ہیں اور امید ہے کہ جنرل مشرف صاحب سے بھی ایسا کوئی مخول وغیرہ نہیں کیاجائے گا اوراول تو برادرم یونس حبیب جس طرح شریف برادران کو پیسے دینے سے مکر گئے ہیں اسی طرح وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری ادائیگی ہی سے مکر سکتے ہیں کیونکہ ملکی مفاد بھی اسی میں ہے جبکہ سابقہ فوجی ڈکٹیٹروں کی طرح ہر محب وطن پاکستانی کو ملکی مفاد کو اولیت دینی چاہیے۔ آپ اگلے روز دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔
عدلیہ کا سیاستدان چلاگیا، 
اب فیصلے بولیں گے...گیلانی
سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ '' عدلیہ کا سیاستدان چلا گیا اب فیصلے بولیں گے‘‘لیکن ایسا نہ ہوکہ میرے خلاف ہی بولنا شروع کردیں کیونکہ میرے ساتھ بھی مقدمات وغیرہ کا مذاق روا رکھا جانے والا ہے حالانکہ میں نے اپنے عہد میں کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی اور اپنے کام سے ہی کام رکھا اور وہ کام پوری تفصیلات کے ساتھ دنیا بھر کو معلوم ہے کیونکہ تعیناتیوں وغیرہ کے متعلق میرے فیصلے بھی بول ہے تھے اور سب کو سنائی بھی دے رہے تھے لیکن اس حاسد معاشرے میں کسی کو کسی کی خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور ہماری قومی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہ ہے اور میں تو اسی فکر میں مزید فربہ ہوگیا ہوں کہ آخر اس ملک کا بنے گا کیا۔ انہوں نے کہا کہ '' مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ نہیں کرتے ‘‘ کیونکہ وہی رائے دہندگان ہیں اور وہی ہم ، اس لیے اس کے نتائج بھی عام انتخابات سے مختلف نہیں ہوں گے جبکہ خلاف معمول اب عوام کا حافظہ بہت تیز ہوگیا ہے اور وہ ہر بات یاد رکھنے لگے ہیں حالانکہ چھوٹی موٹی باتوں سے صرفِ نظر ہی کرنا چاہیے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔
ملک میں درمیانی مدت کے انتخابات
کا مطالبہ غیر آئینی نہیں...شیخ رشید
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ '' ملک میں درمیانی مدت کے انتخابات کا مطالبہ غیر آئینی نہیں ‘‘ کیونکہ ماشاء اللہ یہاں کوئی کام بھی غیر آئینی نہیں ہورہا تو درمیانی مدت کے انتخابات غیرآئینی کیسے ہوسکتے ہیں اگرچہ ان کا نتیجہ عام انتخابات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں نکلے گا لیکن آخر مطالبہ کرنے میں کیا ہرج ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' عمران خان 16سالہ دوشیزہ نہیں جو میرے ورغلانے میں آجائے گی‘‘ بلکہ میرے ورغلانے میں تو آج تک کسی عمر کی دوشیزہ تو کیا کوئی بیوہ بھی نہیں آئی ورنہ اب تک اپنا جنازہ ہی جائزکروا چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ''مشرف واپس چلے جائیں گے‘‘ تاہم ،حیرت اس پر ہے کہ اب تک واپس کیوں نہیں گئے کیونکہ میں تو یہ پیشین گوئی عرصہ دراز سے کررہا ہوں ،،اس لیے لگتا ہے کہ جنرل صاحب کی طرح میرے ستارے بھی کافی گردش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم تحریک انصاف کی ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے ‘‘کیونکہ میں آج تک ہر کام بھرپور طریقے سے ہی کرتا آیا ہوں اور میاں صاحب سے صلح کی کوشش بھی بھرپور طریقے سے ہی کی تھی لیکن ان کا انکار بھی بدقسمتی سے بھرپور ہی تھا۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
انجینئرز کے اتفاق رائے سے 
کالاباغ ڈیم بن سکتا ہے...احسن اقبال
وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''انجینئرز کے اتفاق رائے سے کالاباغ ڈیم بن سکتا ہے‘‘ اور میں بھی یہ بات ڈرتے ڈرتے اور دل پشوری کے لیے ہی کہہ رہا ہوں اور شاید بعد میں اس کی تردید بھی کردوں کیونکہ اب تو ہمارے قائدین بھی اس ڈیم کا نام لینے سے گھبراتے ہیں ، تاہم پنجاب کے لوگوں کے تفنن طبع کے لیے گاہے بگاہے یہ بات کرنا ہی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سیاسی طور پر ڈیم کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا‘‘ کیونکہ اتفاق سے ہمارے قائدین اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس پر سیاسی طور پر غور کرنے سے معذور ہیں ویسے بھی اس کے لیے جس فہم و فراست کی ضرورت ہے اسے خواہ مخواہ خرچ کرنے کی بجائے دیگر اہم مسائل کے لیے بچا کررکھا ہوا ہے کیونکہ ایسی نایاب چیز کو ویسے بھی سنبھال سنبھال کر ہی خرچ کرنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بالکل ہی مفقود ہوجائے اور کہیں باہر سے منگوانی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ '' عمران خان مظاہرے کرکے معاشی بحالی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ‘‘ جو عوام کے اللے تللوں سے صاف ظاہر ہے اور سب کو نظر بھی آرہی ہے۔آپ اگلے روز لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
آج کا مطلع
اور یہ جو سر پہ سب کے چمکتا ہے آسماں
شیشے کی طرح ٹوٹ بھی سکتا ہے آسماں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved