تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-12-2013

سرخیاں‘ متن اور ’’تیشۂ سخن‘‘

کسی نے کالاباغ ڈیم کا سوچا تو پاکستان
نہیں رہے گا... اسفند یار ولی 
 
عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ ''کسی نے کالاباغ ڈیم کا سوچا تو پاکستان نہیں رہے گا‘‘ جبکہ ہم نے تو پاکستان کے بننے کے خلاف بھی بہت واویلا مچایا اور ریفرنڈم میں اس کی جی بھر کے مخالفت کی تھی؛ حتیٰ کہ باچا خان نے اس ملک میں دفن ہونا بھی پسند نہیں کیا تھا اور اب وہ افغانستان کی سرزمین کو سرفراز کر رہے ہیں‘ لیکن سازشیوں کی سازش کامیاب ہو گئی اور یہ ہمارے سینوں پر مونگ دلتا ہوا بن کے رہا۔ اس لیے اس کے نہ رہنے یا ختم ہونے کے بارے میں دل کھول کر بات کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''کالاباغ ڈیم اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘ اگرچہ ڈیم تو بننے کے بعد چل سکتا ہے لیکن پاکستان کا چلنا سخت مشکوک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ''افغانستان میں تباہ کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا‘‘ جبکہ پاکستان میں بربادی کے لیے ابھی بہت کچھ موجود ہے کیونکہ اس سے زیادہ ڈھیٹ ملک آج تک پیدا ہی نہیں ہوا اور ہمارے لیے بھی کالاباغ ڈیم کے بہانے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔ آپ اگلے روز بشیر بلور شہید کی برسی کے موقع پر پشاور میں خطاب کر رہے تھے۔ 
 
مہنگائی کے خلاف تحریک انصاف کی
تحریک کی حمایت کرتا ہوں... بلاول 
 
پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''مہنگائی کے خلاف تحریک انصاف کی تحریک کی حمایت کرتا ہوں‘‘ البتہ کرپشن کے خلاف اس کے بیانات کی حمایت نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ اپنے ہی پیٹ پر سے کپڑا اتارنے والی بات ہے۔ اگرچہ کپڑا اٹھائے بغیر بھی جملہ معززین کے پھولے ہوئے پیٹ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ بسیار خوری کیسے کیسے اپنے رنگ دکھاتی ہے حالانکہ خورونوش کا بہت سا حصہ بیرون ملک بھی منتقل ہوتا رہا ہے کہ اللہ کی ذات ہی برکت ڈالنے والی ہے‘ ماشاء اللہ ! انہوں نے کہا کہ ''عوام کا جینا مہنگائی نے دوبھر کر رکھا ہے‘‘ جبکہ ہمارے گزشتہ دورِ حکومت میں جو دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں عوام ہر وقت انہی میں لوٹ پوٹ رہا کرتے تھے اگرچہ بعد میں پتا چلا کہ یہ عوام نہیں بلکہ ہمارے وزرائے کرام وغیرہ ہی تھے؛ تاہم اگلی بار انشاء اللہ عوام کی باری بھی آ جائے گی کیونکہ مذکورہ زعماء کی تسلی تو کافی ہو چکی ہے بشرطیکہ اس وقت تک وہ بھی مساکین میں شمار نہ ہونے لگ گئے۔ آپ اگلے روز لاہور میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری لطیف کھوسہ سے فون پر بات کر رہے تھے۔ 
 
حکومت مارچ سے آگے جاتی 
دکھائی نہیں دیتی... احمد رضا قصوری 
 
آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی نائب صدر صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری نے کہا ہے کہ ''حکومت مارچ سے آگے جاتی دکھائی نہیں دیتی‘‘ اگرچہ جنرل مشرف کے مقدمہ کی تیاری کر کر کے میری نظر کافی کمزور ہو چکی ہے اور میں نے دوربین لگا کر بھی دیکھا ہے لیکن یہ مجھے مارچ سے آگے جاتی دکھائی نہیں دیتی اور مارچ تک جانے کی بھی میں نے رعایت ہی کی ہے ورنہ دراصل تو یہ فروری تک ہی جا رہی تھی جبکہ دوربینیں بھی آج کل معیاری دستیاب نہیں ہیں‘ آخر اس ملک کا کیا بنے گا؟ آپ نے کہا کہ ''بھٹو کو بھٹو میں نے بنایا‘‘ تاکہ بعد میں اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکوا سکوں اور اگر میاں نوازشریف چاہتے تو میں انہیں بھی نوازشریف بنا سکتا تھا لیکن میںاپنے آپ کو احمد رضا قصوری بنانے میں بُری طرح مصروف ہو گیا تھا‘ اس لیے میں خود بھی ان کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دے سکا۔ انہوں نے کہا کہ ''ملک بچانا ہے تو اس کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا‘‘ جس کے لیے میری صف بطور خاص حاضر ہے‘ گر قبول افتد زہے عز و شرف ! آپ اگلے روز لاہور میں آل پاکستان مسلم لیگ اور مشرف لوّرز کے زیر اہتمام استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ 
تیشۂ سخن 
یہ فرخ محمود کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے جو حال ہی میں علی عون پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ آپ ملک یار محمد کھوکھر کے فرزند ہیں جو 1984ء میں ہمارے ہاں اوکاڑہ میں مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے عہدے پر فائز تھے اور اب مرحوم ہو چکے ہیں۔ فرخ محمود میرے دور کے رشتے دار بھی ہیں؛ تاہم زیر نظر کلام انہوں نے میرے ''جرائم‘‘ سے بچ بچا کر ہی تخلیق کیا ہے۔ شاعری کے علاوہ فرخ انگریزی میں دلچسپ اور خوبصورت کوٹیشنز لکھنے میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں اور کوٹیشنز کا مجموعہ الگ سے چھپوانے کا بھی عزم رکھتے ہیں۔ لاء کالج کے زمانے میں مال روڈ پر واقع ''اکادمی‘‘ کے سامنے سے گزرنے کا اتفاق اکثر ہوتا جسے ادیب لوگ ''ایک آدمی‘‘ کہا کرتے تھے اور وہاںسے مولانا صلاح الدین ''ادبی دنیا‘‘ نکالا کرتے تھے۔ ایک دن میں ہمت کر کے اوپر جا پہنچا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تعارف کرانے پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ پچھلے اتوار کو ''امروز‘‘ کے ادبی ایڈیشن میں آپ کی جو غزل چھپی تھی‘ کیا آپ وہ لکھ کر دے سکتے ہیں؟ یہ سن کر میں نے خوشی خوشی وہ غزل خوشخط لکھ کر ان کے سامنے پیش کردی‘ جسے دیکھ کر بولے‘ میاں‘ آپ کی شاعری چلے نہ چلے‘ کتابت ضرور چل جائے گی! 
اسی طرح میرے خیال میں فرخ محمود کی شاعری چلے نہ چلے‘ اس کی لکھی ہوئی کوٹیشنز ضرور چل جائیں گی۔ کتاب کا پیش لفظ شاعر نے خود اور دیباچہ ان کی اہلیہ نے لکھا ہے جو کتاب کے شائع ہونے سے پہلے انتقال کر گئی تھیں۔ یہ شاعری نک سُک سے درست ہے اور گزارے موافق بھی‘ کیونکہ ایسی شاعری پڑھنے اور پسند کرنے والے بھی کچھ کم نہیں ہیں اور عام فہم شاعری کے قارئین دوسری شاعری کی نسبت عموماً زیادہ ہوتے ہیں۔ میری طرح فرخ محمود کی بھی معلوم پُشتوں میں کسی شاعر یا ادیب کا کوئی سراغ نہیں ملتا؛ چنانچہ میری طرح ان کی ہمت بھی قابلِ داد ہے۔ 
کتاب کی قیمت 400 روپے رکھی گئی ہے۔ اس مجموعے میں سے ایک غزل کے کچھ اشعار پیش خدمت ہیں: 
 
جو اوجِ فصلِ دار ہے 
وہ اپنا روزگار ہے 
غبار کا جو بار ہے 
یہ بار‘ بار بار ہے 
اُسی کا انتظار تھا 
اُسی کا انتظار ہے 
یہ توڑتا نہیں کوئی 
یہ کیسا اک حصار ہے 
یہ سوچتا نہیں کوئی 
یہ زندگی غبار ہے 
کہیں رہی نہ روشنی 
یہ ہر طرف پکار ہے 
 
آج کا مقطع 
اک آغازِ سفر ہے اے ظفرؔ یہ پختہ کاری بھی 
ابھی تو میں نے اپنی پختگی کو خام کرنا ہے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved