تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     27-12-2013

سرخیاں‘ متن اور ٹوٹا

ملک کو مسائل اور مشکلات سے
نکالیں گے... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''ملک کو مسائل اور مشکلات سے نکالیں گے‘‘ کیونکہ ملک کو ہم حکمرانوں نے ہی ان مسائل اور مشکلات کا شکار کر رکھا ہے تو اسے ان سے نکال بھی ہم ہی سکتے ہیں جبکہ مسائل و مشکلات کے اسرار و رموز بھی ہم ہی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں‘ علاوہ ازیں ملک کے جملہ مسائل اور بحرانوں کو ختم کرنے کے لیے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ صیغۂ مستقبل کا استعمال کیا جاتا ہے اور گا‘ گے‘ گی جیسے طلسماتی الفاظ سے کام لیا جاتا ہے اور ان الفاظ کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ملک و قوم کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ میری والدہ آمین کہہ رہی ہیں‘‘ ویسے بھی‘ ملک و قوم کے لیے اب دعا ہی کی جا سکتی ہے کیونکہ جب دوا کارگر نہ ہو تو دعا ہی سے کام لینا پڑتا ہے‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''وہ وقت جلد آئے گا جب عوام کو ریلیف حاصل ہوگا‘‘ جبکہ اس میں بھی لفظ ''گا‘‘ بطور خاص قابلِ ذکر ہے۔ آپ اگلے روز اپنی سالگرہ کے موقع پر حاضرین سے خطاب کر رہے تھے۔ 
لوگ سبزیاں خود اُگائیں‘ قیمتیں 
کم ہو جائیں گی... شجاعت حسین 
قائداعظم مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ''عوام سبزیاں خود اگائیں‘ قیمتیں کم ہو جائیں گی‘‘ جس کے
لیے صرف ایک وسیع و عریض گھر کی ضرورت ہے جس کے ساتھ کھلا لان بلکہ خالی زمین بھی ہو جس پر سبزیاں اگائی جا سکیں‘ چنانچہ عوام کو کوشش کر کے سب سے پہلے ایسا گھر حاصل کرنا چاہیے اور اس کے بعد اللہ کا نام لے کر اس میں سبزیوں کی کاشت شروع کردینی چاہیے۔ اور جو لوگ ایسا نہیں کر سکتے انہیں دوسروں کے گھروں میں یہ کارروائی شروع کر دینی چاہیے جس کی وجہ سے اگر جیل بھی جانا پڑا تو کوئی بات نہیں کیونکہ جیل میں سرکاری کھانا ملتا ہے اور آدمی دال سبزی وغیرہ سے خود ہی بے نیاز ہو جاتا ہے اور اس طرح اس منصوبے پر مٹی پائی جا سکتی ہے جبکہ اصل مسئلہ تو روٹی شوٹی کا ہے جو اللہ کا نام لے کر پانی کے ساتھ بھی کھائی جا سکتی ہے اور پینے کے پانی کے اندر جو طرح طرح کے جراثیم اور کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں وہ گوشت کا متبادل بھی ہو سکتے ہیں اور انہیں سبزیوں کی کاشت کی طرح پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ آپ اگلے روز مسلم لیگ ہائوس لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ 
حکومت کشمیر کے بارے میں اپنی 
پالیسی واضح کرے... فضل الرحمن 
جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''حکومت کشمیر کے بارے میں اپنی پالیسی واضح کرے‘‘ کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی مراعات کیا اور کس حد تک ہوں گی کیونکہ سنا ہے کہ حکومت مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر ان میں کمی کرنے کا سوچ رہی ہے اور اسی لیے خاکسار نے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لیے اب تک اپنی رضامندی کا اظہار نہیں کیا ہے کیونکہ بشمول اس ہیچمدان کے‘ اگر سابقہ چیئرمین حضرات اس عہدے پر دل کھول کر گلچھرے اڑاتے رہے ہیں جن میں بے حساب غیر ملکی دورے بھی شامل ہوا کرتے تھے جس دوران وہاں تھکن اتارنے کا بھی وافر انتظام ہوا کرتا تھا تو حکومت کو اب بھی مستقل مزاجی اور ہمت سے کام لیتے ہوئے جملہ سابقہ مراعات بحال کرنے کے بارے میں پوری سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ورنہ گناہِ بے لذت کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''کے پی کی حکومت عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے‘‘ جبکہ میرے جیسے خواص بھی اس سے سخت تنگ ہیں۔ آپ اگلے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں کارکنوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت 
قومی اتفاق رائے پیدا کرے... منظور وٹو 
پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد خان وٹو نے کہا ہے کہ ''دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت قومی اتفاق رائے پیدا کرے‘‘ جیسا کہ ہمارے دور میں جملہ وزرائے کرام اور اہم عہدیداروں کے درمیان زبردست اتفاق رائے موجود تھا اور سب لوگ حسبِ توفیق مکمل اتفاق رائے سے عوام کی خدمت کر رہے تھے اور سب کا ایک ہی نصب العین تھا جس پر سبھی متفق الرائے تھے اور اسی کی وجہ سے پھلتے پھولتے بھی رہے کیونکہ اتفاق میں ویسے بھی بڑی برکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پیپلز پارٹی ناقابل تلافی نقصان کے باوجود سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے‘‘ اور یہ دیوار عوام کے سامنے مستقل طور پر کھڑی کردی گئی ہے کہ اب یہ بھاگ کر کہاں جائیں گے اور دیوار کے لیے یہ سارے کا سارا سیسہ پارٹی کے جملہ معززین نے اپنی اپنی نیک کمائی میں سے خرچ کر کے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کردی ہے حالانکہ میری مثال ہی کافی تھی کیونکہ اتنا سیسہ تو میں اکیلا ہی خرید سکتا تھا بلکہ اس سے ایک دیوارِ چین بھی کھڑی کی جا سکتی تھی‘ آزمائش شرط ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے معمول کا ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
کھلا راز 
ہمارے کئی صحافی دوست اس بات پر پریشان ہیں اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ الیکشن کمیشن میں اہلِ سیاست کی طرف سے اثاثوں کی جو تفصیلات جمع کرائی گئی ہیں تو کروڑوں اور اربوں کے اثاثے‘ جائیدادیں اور بینک اکائونٹ ہونے کے باوجود اکثر زعماء نے اپنے کاروبار کا خانہ خالی رکھا ہوا ہے اور اگر یہ کوئی کاروبار نہیں کرتے تو یہ ہمالیاتی اثاثے کہاں سے آ گئے ہیں۔ شاید اس پرانے لطیفے سے ان پر صورت حال واضح ہو سکے۔ منقول ہے کہ دو لڑکے گلی میں کھیل رہے تھے تو ایک نے دوسرے سے پوچھا‘ 
''تم کتنے بہن بھائی ہو؟‘‘ 
''گیارہ‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔ 
''تمہارا باپ کیا کام کرتا ہے؟‘‘ پہلے نے پوچھا۔ 
''تمہیں بتایا تو ہے!‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔ 
سیدھی سی بات ہے کہ ان معززین کا کاروبار سیاست اور حکومت ہے جس کے ہوتے ہوئے انہیں کسی اور کاروبار کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ بہت سوں کا بہت سا پیسہ سٹاک ایکسچینج میں لگا ہوا ہے اور لطف یہ ہے کہ سٹاک ایکسچینج ٹیکس نیٹ ہی سے باہر ہے! چنانچہ اس کھلے راز کی گتھیاں کھولنے کے لیے کسی خصوصی ذہنی استعداد کی ضرورت نہیں ہے کہ ان حضرات کا کاروبار کیا ہے۔ 
آج کا مطلع 
یہ فردِ جرم ہے مجھؔ پر کہ اُس سے پیار کرتا ہوں 
میں اس الزام سے فی الحال تو انکار کرتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved