تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     31-12-2013

یہ موسم نہیں بدل سکتا

جنرل(ر) مشرف نے صاف کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے فوج اس پرسخت مضطرب ہے اور مکمل طور پر میرے ساتھ۔ فوج کی طرف سے اس کی کوئی تردید نہیں آئی ہے بلکہ اس نے اس پر براہ راست تبصرہ کرنے سے بھی اجتناب کیا ہے۔ موصوف پر جمہوریت کے خلاف شب خون مارنے کا الزام ہے لیکن کون سی جمہوریت ؟ یہ فیملی جمہوریت جس نے ملک اور قوم کو مفلوک الحالی کی اس نوبت تک پہنچا دیا ہے کہ نہ پینے کو پانی دستیاب ہے ،نہ کھانے کو روٹی ، گیس ہے نہ بجلی ؟ پھر یہ کہ جو کچھ مشرف نے کیا کیا وہ یہاں پہلی بار ہوا ہے؟ مشرف اور زرداری نے ایک دوسرے کو سارا دودھ پی جانے والا بلا کہا ہے حالانکہ اصل بلا اسٹیبلشمنٹ ہے جبکہ ہمارے اہلِ سیاست اس کی منکوحہ بلیاں ہیں جنہوں نے ملک کا سارا دودھ باہر جمع کررکھا ہے۔ عام انتخابات سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے دعوے گلا پھاڑ پھاڑ کر کیے گئے،اب یہ نعرہ باز برف میں لگے ہوئے ہیں کہ اگر بات پر قائم رہے تو انہیں اپنا مال بھی واپس لانا پڑے گا۔ اس قوم کے ساتھ ہمیشہ جھوٹ بولا گیا۔ مشرف کے خلاف موجودہ کارروائی ایک اور جھوٹ ہے جس کا پول جلد یابدیر کھلنے والا ہے۔
مشرف نے جو کچھ بھی کیا ، ایک روٹین کی کارروائی تھی جو وقفے وقفے سے اس بدنصیب ملک کے اندر روا رکھی گئی اور جسے کبھی پارلیمنٹ نے جائز قرار دیا تو کبھی عدلیہ نے حتیٰ کہ ہر آنے والے ڈکٹیٹر کو انہی سیاستدانوں نے ہار پہنائے اور بھٹو جیسوں کو پھانسی لگنے پر مٹھائیاں تقسیم کیں اور بھنگڑے ڈالے۔ مشرف نے یہاں لوٹ مار کی،نہ پیسہ ملک سے باہر لے گیا۔ اس کا مقدمات کے سامنے یوں ڈٹ جانا بجائے خود حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے اور وہ وقت دور نہیں جب حکومت اس کے بری ہونے پر ملک سے باہر چلے جانے کی تادیلیں پیش کررہی ہوگی۔
جن حضرات کے اربوں ڈالر کے اثاثے ملک سے باہر ہوں وہ ملک و قوم کے ساتھ مخلص کیسے ہوسکتے ہیں؟ موجودہ مہنگائی ریلیاں نکالنے سے ختم نہیں ہوگی۔یہ اگر ہوئی تو لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لانے سے ہوگی جو صرف طالبان واپس لاسکتے ہیں کیونکہ چور چوروں کے ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔کُتا باہر نکالنے تک کنوئیں کا پانی صاف نہیں ہوگا۔ یہ ملک خدانخواستہ رفتہ رفتہ بیچ دیاجائے گا یا ٹھیکے پر چڑھا دیاجائے گا اور بھوکے ننگے عوام کتے کی موت مرتے رہیں گے اور موجودہ مسیحا سر درد کا علاج کرنے کے بہانے انہیں سرطان میں مبتلا کرکے بھاگ جائیں گے۔
ایک تازہ ترین درفنطنی یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ایک ابھرتا ہوا ستارہ قرار دیا جارہا ہے حالانکہ حقیقت حال صرف اتنی ہے کہ ع
اگر پدر نتواند پسر تمام کند
وہ اگر بے نظیر کا بیٹا ہے تو زرداری کا بھی ہے۔ علاوہ ازیں منظر پر موجود بے نظیر نہیں بلکہ خود زرداری ہیں جن کے پہلو میں یوسف رضا گیلانی، امین فہیم ، راجہ پرویز اشرف ، منظور وٹو اور رحمن ملک جیسوں کی پوری کہکشاں جگمگا رہی ہے یعنی ؎
 
گر ہمیں مکتب است و ایں ملّا
کارِ طفلاں تمام خواہد شد
 
اب طاہرالقادری کو کنٹینر بابا کہا جارہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو زرداری کو چالیس چوروں کا علی بابا کہا کرتے تھے لیکن اب اپنے دیے گئے سارے القابات انہوں نے فراموش کردیے ہیں اور یہ وہی جادوگر ہیں جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کشکول توڑ دیا ہے۔یہ بھی ایک سفید جھوٹ تھا کیونکہ ان کا منتخب کردہ صدر ہی کہہ رہا ہے کہ کشکول نہیں توڑ سکتے۔لوڈشیڈنگ کے بارے میں اب یہ کہا جارہا ہے کہ دس سال میں ختم کردیں گے یعنی شرط یہ ہے کہ انہیں دس سال تک حکومت کرنے دی جائے ، پھر دیکھا جائے گا۔
ہم آزمائے ہوئوں کو نہ صرف دو دو تین تین بار آزماتے چلے جارہے ہیں بلکہ یہ عزمِ صمیم آئندہ بھی رکھتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ انہیں دیکھ کر اب طاہرالقادری بھی اچھا لگنے لگا ہے۔ عمران خان اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود دوبارہ زور پکڑنے لگا ہے۔ الطاف حسین کی یہ تازہ ترین بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ 2014ء میک یا بریک کا سال ہوسکتا ہے۔ان تینوں پر لوٹ مارکا الزام نہیں ہے اور بہت سی مشترک اقدار کے حامل بھی ہیں۔ طاہرالقادری اور عمران خان ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ الطاف حسین کی متحدہ ،پیپلزپارٹی سے تو ٹوٹ چکی ہے لیکن نواز لیگ کے قریب آرہی ہے جو اس کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ہوگا کیونکہ پھر اسے بھی اپنے اس نعرے پر نظرثانی کرنا پڑے گی کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے!
تاہم اگر ان تینوں کاقارورہ مل بھی جائے تو اسٹیبلشمنٹ ان کے راستے کی سب سے بڑی دیوار ہوگی کیونکہ حکومتوں کو بنانا اور بگاڑنا اس کے اختیار میں ہے۔ نیز اس کا ایک اپنا فلسفہ ہے جس کے پیش نظر دونوں بڑی جماعتوں کی باریاں مقرر ہیں اور کسی تیسرے کے لیے کوئی گنجائش پیدا نہیں ہونے دی جاتی حالانکہ ان تینوں کا ایک پلس پوائنٹ یہ تو موجود ہے کہ یہ آزمائے ہوئے نہیں ہیں اور شاید اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کو راس بھی نہیں ہیں کیونکہ دونوں بڑی پارٹیاں اس کی آزمودہ بھی ہیں اور انہی پر وہ اعتماد بھی کرسکتی ہے۔
اس سے زیادہ احمقانہ سوچ اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سوچ پر نظرثانی کرلی ہے اور اس نے سول انتظامیہ کی ماتحتی دل و جان سے قبول کرلی ہے۔ ایک نااہل ، مفاد پرست اور کرپٹ سول انتظامیہ کی ماتحتی صرف اسی صورت قبول کی جاسکتی ہے اگر اسٹیبلشمنٹ اس سے بھی زیادہ نااہل ہو۔ جو کہ ایسا نہیں ہے جبکہ اس کی ایک کاریگری یہ بھی ہے کہ تمام تر اختیارات کے باوجود یہ سول انتظامیہ کی کرپشن کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے تاکہ اپنے کرتوتوں کے باعث اس کی بالادستی قبول کیے رکھے ۔ سو خاطر جمع نہ رکھیں ۔ راوی اس ملک کے لیے چین ہرگز نہیں لکھتا۔
مذکورہ تینوں قوتیں یکجا ہوکر اس نیم مردہ قوم کو متحرک کرسکتی ہیں اور جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا ہے مہنگائی کے خلاف ریلیاں زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوسکتیں۔ ریلیاں اگر نکالنی ہیں تو لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے نکالی جائیں جو اس ملک اور قوم کے دکھوں کا مداوا بھی ہے اور جس سے قرض کی دلدل میں پھنسی ہوئی یہ قوم تمام تر بیرونی قرضہ بھی ادا کرسکتی ہے جس کا بال بال اس میں دبا ہوا ہے جبکہ بیرون ملک اثاثے سیاستدانوں کے ہیں،بیورو کریٹس اور جرنیلوں کے بھی ہیں۔ یہی ایک نسخہ کیمیا ہے جس کے ذریعے اس بدقسمت ملک کی جملہ بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے۔ ع
گر یہ نہیں تو بابا باقی کہانیاں ہیں
آج کا مطلع
 
وہ جاگے ہوں کہ سوتے، کھا رہے ہیں 
ادھر ہم صرف غوطے کھا رہے ہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved