تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     05-01-2014

ہماری فائلیں بند ہیں

اگر لوگ آپ کو زندہ سمجھنے سے انکار کر دیں‘ تو آپ خود کو زندہ منوانے کے لئے کیا کریں گے؟یہ سوال کسی مفروضے پر مبنی نہیں۔ حقیقی زندگی میں ایسا ہو رہا ہے۔ 5سال پہلے کاشی نامی ایک مجرم کو پولیس نے ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا تھا۔ وہ آج بھی جیل میں بند ہے۔ اسے کوئی زندہ ماننے کو تیار نہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ‘طارق افتخار احمد نے سات ماہ قبل جیل کا دورہ کیا‘ تو کاشف نے ان کا راستہ روک کر دہائی دی کہ ''خدا را‘ سرکاری ملازمین کو یہ حکم دیں کہ مجھے زندہ تسلیم کر لیا جائے۔‘‘ یہ شخص مسلسل جدوجہد کر رہا ہے کہ اسے زندہ مان لیا جائے۔ وہ خود کو زندہ منوانے کے لئے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کر چکا ہے ‘ جو خارج ہو گئیں۔ جیل ذرائع کے مطابق کاشف کو تھانہ سوہدرہ کے علاقے میں ڈکیتی اور قتل کے جرم میں خصوصی عدالت نے 25 اپریل 2004ء کو 25 سال قید کی سزا دی تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق وہ مقابلے میں مارا جا چکا ہے اور اس کی فائل بند ہو چکی ہے۔ اسی وقت سے وہ ہر بااختیار شخص سے التجا کر رہا ہے کہ اسے زندہ تسلیم کر لیا جائے۔ کسی نیک دل انسان نے اسے زندگی دینے کے لئے کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ریکارڈ کے مطابق وہ پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے اور اس کی فائل بند ہے۔ وہ فائل ابھی تک نہیں کھلی۔ اس نے آخری درخواست سپرنٹنڈنٹ جیل مدثر خان کے حضور پیش کی تھی۔ سیشن جج نے خدا ترسی کرتے ہوئے کاشف کے کوائف لے کر‘ ہائی کورٹ کو ایک مراسلہ بھجوایا۔ ہائی کورٹ نے اسے زندہ ثابت کرنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ 
مجھے نہیں معلوم کہ کاشف نے میڈیا کی مدد کیوں نہیں مانگی؟ روزنامہ ''دنیا‘‘ کے نامہ نگار نے ساری تحقیقاتی ایجنسیوں ‘ تفتیشی افسروں اور عدلیہ میں دی گئی درخواستوںکے نتیجے میں ‘ ناکامی کے بعد کاشف کو زندہ ثابت کرنے کی جدوجہد میں‘ ہمیں خبر بھیجی‘ جو لاہور ایڈیشن میں بھی نمایاں طور سے شائع کی گئی ہے۔ تاحال کاشف اسی انتظار میں ہے کہ اسے زندہ مان لیا جائے۔ مقابلہ بڑا سخت ہے۔ ایک ایسا بدنصیب شخص جو پولیس ریکارڈ میں ہلاک ہو گیا ہے‘ اسے زندہ کیونکر مان لیا جائے؟ وہ زندہ ثابت ہو گیا‘ تو ایک نئی پولیس انکوائری شروع ہو جائے گی۔ انکوائری شروع ہوئی‘ تو ان پولیس افسروں کی تفتیش کرنا پڑے گی‘ جنہوں نے اپنے دور کے نامور ڈاکو کاشف کو سخت پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا اور یہ کارنامہ انجام دینے پر‘ یقینا انہیں شاباش ملی ہو گی۔ تعریفی اسناد بھی عطا کی گئی ہوں گی۔ تمغے بھی لگے ہوں گے۔ نقد انعامات بھی دیئے گئے ہوں ۔ اب اگر اسے زندہ مان لیا تو پولیس مصیبت میں پڑ جائے گی۔ پورے کا پورا کیس دوبارہ کھلے گا۔ محکمے کے بڑے بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور حقیقت سامنے آنے پر پتہ چلے گا کہ کاشف تو زندہ تھا۔ حقائق کا سراغ لگانے کے بعد‘ ریکارڈ درج کرنے والے ذمہ داروں کو ڈھونڈا جائے گا۔ ساری تفتیش کے بعد حقیقت سامنے آ جائے گی کہ کاشف زندہ ہے۔ ظاہر ہے پولیس کے ان سارے اہلکاروں کے خلاف مقدمے قائم ہوں گے۔ ثابت ہو جائے گا کہ کاشف کے ساتھ غلط پولیس مقابلہ ڈالا گیا۔ کاشف کی جعلی ہلاکت کے ثبوت میں‘ اس کی لاش پولیس کی تحویل میں آنے کی کہانی یقینا بنائی گئی ہو گی۔ کاشف کی مسخ شدہ لاش‘ اس کے خاندان کے حوالے نہیں کی گئی ہو گی۔ اسے لاپتہ قرار دے کر دفنا دیا ہو گا اور اگر قبر مل گئی‘ تو اس کے جسم کے بچ رہنے والے حصے برآمد ہوں گے اور جب یہ پتہ چلا کہ مرنے والا شخص کاشف نہیں کوئی اور تھا‘ تو پھر اس کے قتل کا سراغ لگایا جائے گا۔ جرم کرنے والے پولیس ملازمین پر قتل کا مقدمہ قائم ہو گا اور ذمہ دار 
پولیس افسروں کو‘ قتل کے الزام میں سزائیں ملیں گی۔ ظاہر ہے پولیس والے آسانی سے قتل کے الزام میں سزائیں نہیں کاٹیں گے اور اپنے بچائو کے لئے جدوجہد کریں گے۔ اس میں کاشف پھر سے قتل ہو سکتا ہے۔ پولیس والوں نے اپنی جانیں بچانے کے لئے‘ جیل والوں سے مل کر کاشف کو ہلاک کر دیا‘ تو اس کے ورثاء ایک اور مقدمے کی پیروی پر مجبور ہو جائیں گے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس بار قتل ہونے والا شخص‘ کاشف ہی ہے۔ پولیس کو بتانا ہو گا کہ پرانے مقدمے میں ہلاک شدگان کی جو فہرست دی تھی‘ اس میں کاشف کا نام شامل تھا اور جو شخص ایک بار ہلاک ہو چکا ہے‘ اسے 9 سال بعد دوبارہ کیسے ہلاک کیا جا سکتا ہے؟ جب کاشف کو ہلاک قرار دے کر فائل بند کی گئی‘ اس وقت حقیقت میں وہ زندہ تھا اور جیل کے اندر جس حال میں بھی رہا ہو‘ زندگی کی نعمت سے محروم نہیں ہوا اور جب وہ اصل میں قتل ہوا‘ تو ریکارڈ کے مطابق مرنے والا کوئی دوسرا تھا۔کیونکہ کاشف تو 2004ء کے پولیس مقابلے میں مارا جا چکا تھا۔ جب وہ حقیقت میں زندہ تھا‘ تو فائلوں میں ہلاک شدہ تھا اور جب وہ ہلاک ہوا‘ تو موت کا شکار ہونے والا کوئی دوسرا تھا۔ عجیب گورکھ دھندا ہے۔ پولیس نے اپنے ریکارڈ میں کاشف کو مردہ قرار دیا تھا‘ تو اس وقت وہ زندہ تھا اور جب اصل کاشف کو مارا گیا‘ تو اصل میں کوئی دوسرا بدقسمت ہلاک ہوا تھا۔ 
پاکستان میں ایسے انگنت واقعات ہوتے ہوں گے‘ جن کا ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ کسے معلوم ہے کہ میرے نام کا کوئی بندہ ایک نامعلوم شخص کے طور پر قبر میں پڑا ہو اور ایک دن اچانک پولیس مجھے پکڑ 
کے جیل میں ڈال دے؟ اور ساتھ ہی مقدمہ بھی بنائے کہ میں تو اصل میں 3سال پہلے مر کے ''نامعلوم‘‘ کی حیثیت میں دفن ہو چکا ہوںاور مجھے ہی مجبورکیا جائے کہ میں اپنا اصل نام و نشان بتائوں؟ پولیس چھتر مارتے ہوئے منوائے کہ نذیرناجی تو کئی سال پہلے فلاں قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا‘ تم کون ہو؟ میں اور کاشف تو اپنے زندہ سلامت ہونے کی وجہ سے‘ دنیا کو یہ منوانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ''ہم زندہ ہیں۔‘‘ مگر ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے؟ جو مر چکے ہیںاور اپنے آپ کو زندہ ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے جتن کر رہے ہیں۔ کوئی بلٹ پروف کار مانگ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ وہ زندہ ہے۔ کوئی یہ اخباری بیان دے کرظاہر کرتا ہے کہ اسے زندہ سمجھا جائے۔ ہر شخص اپنی اپنی حیثیت کے مطابق خود کو زندہ ثابت کرنے میں لگا ہے۔ کوئی سفارش کے ذریعے ٹاک شو میں نمودار ہو کر زندگی کا ثبوت دیتا ہے۔ کوئی کسی بڑے لیڈر کے ساتھ تصویر بنوا کر ‘اسے اخبار میں چھپواتا ہے تاکہ لوگ اسے زندہ سمجھیں۔میرا ایک دوست اقبال ساجد اپنی روح کے ٹکڑے فروخت کر کے‘ بہت سے لوگوں کو اس قابل بناتا رہا کہ وہ اس کے شعر اپنے نام سے سنا کر‘ اپنے آپ کو زندہ ثابت کریں۔ کچھ بانکے اور بانکیاں‘کسی ہیرو یا ہیروئن کی قبر پہ تصویر کھنچوانے کے بعد اسے اخبار میں چھپواتے ہیں تاکہ لوگ انہیں زندہ سمجھیں اور ان بیچاروں کی حالت تو قابلِ رحم ہوتی ہے‘ جو بے روح مشاعرے میں شعر سنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں زندہ سمجھا جائے اور بعض بزرگ تو ستر اسی کے پیٹے میں شادی کر ڈالتے ہیں کہ انہیں زندہ سمجھا جائے۔ جنہیں خود کو زندہ منوانے کے لئے کچھ نہیں سوجھتا‘ وہ خود کو دوسروں کی عیب جوئی پر مامور کر دیتے ہیں۔اس میں خرابی یہ ہے کہ اذیت رسانی کی علت ‘ انہیںزندگی کے لطف سے محروم کر دیتی ہے۔ بعض منچلے پوسٹروں پر چھپے خوبصورت چہرے دیکھ کر‘ ان پر سیاہی پھینکتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے زندگی کا ثبوت دے دیا۔ مگر طرح طرح کے جتن کر کے‘ خود کو زندہ ثابت کرنے والے‘ اسی چیز سے محروم رہتے ہیں‘ جسے حاصل کرنے کی خاطر وہ زندگی کی مسرتوں سے محروم رہتے ہیں۔کاشف ان لوگوں میں ہے‘ جو حقیقت میں زندہ ہیں اور لوگ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس مصیبت میں کاشف اکیلا نہیں‘ کروڑوں پاکستانی عوام ہیں۔ جو چیخ چیخ کر حکمرانوں کو اپنے زندہ ہونے کا یقین دلانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ مگر کوئی لیڈر‘ کوئی افسر‘ کوئی جاگیردار‘ انہیں زندہ سمجھنے کو تیار نہیں۔کروڑوں عوام زندہ ہیں۔ مگر ان پر حکمرانی کرنے والے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے۔زندہ سلامت کاشف کی فائل جیتے جی بند کی جا چکی ہے۔ ہم سب کا حال‘ کاشف سے ملتا جاتا ہے۔ زندہ ہم بھی ہیں مگر ارباب بست و کشاد کے دفتر میں ہماری فائلیں بند کی جا چکی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved