تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     10-01-2014

سرخیاں‘ متن‘ اشتہار اور فیصل ہاشمی کی مزید نظمیں

ملک کو قائدِ اعظم کا پاکستان بنا 
کر دم لیں گے...حمزہ شہباز
نواز لیگ کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''ہم ملک کو قائد اعظم کا پاکستان بنا کر دم لیں گے‘‘اور ‘اس وقت تک دم سادھے رکھیں گے جس کی پریکٹس ابھی سے شروع کر دی ہے اور جس طرح ہم نے قارون بن کر ہی دم لیا ہے کیونکہ ہمارا خزانہ بھی اِس سے کچھ کم نہیں ہے حالانکہ سُنا ہے کہ قارون نے بھی وہ خزانہ دم لے لے کر بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''سبز باغ دکھانے کی بجائے وعدے پورے کریں گے‘‘ اور اگر باغ ہی دکھانا ہوئے تو نیلے‘کالے‘پیلے اور سُرخ دکھالیں گے کیونکہ ہم نے انشاء اللہ اپنی علیحدہ پہچان بنا لی ہے اور ملک بھر کے عوام و خواص سے صاف پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''جنوبی پنجاب کے عوام نے نواز شریف کا ساتھ دیا‘‘ اگرچہ انہوں نے اس علاقے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا تھا تاکہ عوام خود اپنے پائوں پر کھڑے ہوں اور حکومتوں کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں کیونکہ حکومتوں نے اپنی طرف ہی دیکھنا ہوتا ہے ۔ آپ اگلے روز اوچ شریف کے متاثرین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
مشرف کے مسئلہ کا درمیانی 
حل نکالا جا رہا ہے...شیخ رشید
عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''مشرف کے مسئلہ کا درمیانی حل نکالا جا رہا ہے‘‘کیونکہ حکومت خود اس کے درمیان میں پھنسی ہوئی ہے‘ البتہ میرے مسئلہ کا ابھی تک کوئی درمیانی یا کسی بھی طرف کا کوئی حل نہیں نکالا جا سکا حالانکہ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں تھا کیونکہ میں بھی خاصی حد تک کشمیری ہوں اور اب تک کشمیر پر کئی بیان بھی دے چکا ہوں بلکہ پنڈی کے اکثر حضرات بڑے شوق سے مجھے شیخ رشید کی بجائے خواجہ رشید کہا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''نواز شریف نے ذاتی طور پر مشرف کو معاف کر دیا ہے‘‘باقی جہاں تک ملک اور قوم کا سوال ہے تو ہم سیاسی خدمت گاروں کے مقابلے میں ان کی کیا اہمیت ہے کیونکہ ملک اور قوم کی حیثیت بھی ہمارے حوالے ہی سے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''وزیر اعظم نے حالات کا جائزہ لے لیا ہے‘‘جو اُن کے لیے بہت خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اور‘امید ہے کہ وہ بہت جلد میرے حالات کا جائزہ بھی لے کر مشکور فرمائیں گے۔ آپ اگلے روز حسب معمول ایک ٹی وی چینل پر اظہار خیال کر رہے تھے۔
مشرف کا ٹرائل کر کے تاریخ 
رقم کریں گے...پرویز رشید
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ''مشرف کا ٹرائل کر کے تاریخ رقم کریں گے‘‘اور تاریخ نویسی کا یہ کام ابھی سے شروع کر دیا گیا ہے بشرطیکہ اس دوران کسی اور نے تاریخ رقم کرنا شروع نہ کر دی حالانکہ اگر کوئی ایک کام شروع کر دے تو اُسے مکمل کرنے کی بھی مُہلت ملنی چاہیے۔ تاہم ‘یہ مقدمہ شروع کر کے ہم نے ایک طرح سے آدھی تاریخ رقم کر ہی دی ہے کیونکہ انگریزی محاورے کے مطابق ایک اچھا آغاز آدھا کام ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ زیادہ امکان اور خدشہ یہی ہے کہ کہیں یہ اچھا آغاز ہی ہمارے گلے نہ پڑ جائے کیونکہ یہ ملک ہی ایسا ہے کہ اس میں کسی کام کا نتیجہ کوئی بھی نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پرویز مشرف کے خلاف آئین کے تحت کارروائی ہو رہی ہے‘‘جیسا کہ ملک میں باقی سارے کام آئین کے تحت ہی ہو رہے ہیں جن میں حالیہ انتخابات کی روشن مثال سب کے سامنے ہے اور اس کے خلاف دھرنے آئین کے سراسر خلاف دیے جا رہے ہیں حالانکہ یہ لوگ اگلے انتخابات میں بھی قسمت آزمائی کر سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک تھے۔
دعوتِ عام
ہرگاہ بذریعہ اشتہار ہذا پنجاب کے جُملہ پسماندہ علاقوں کے رہنے والوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ جب بھی چاہیں لاہور آ کر صُوبے کی ترقی کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر سکتے ہیں جس میں رنگ روڈ‘انڈر پاس ‘اوور ہیڈ ‘ اور میٹرو بس وغیرہ بطور خاص شامل ہیں اور وہ انڈر پاسز وغیرہ کے نیچے سے گزر بھی سکتے ہیں‘ اور ‘اگر کچھ عرصہ کے لیے یہاں رہائش اختیار کرنا چاہیں تو اس کے لیے بعض دینی مدرسے دستیاب ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی بھی حاصل 
ہے اور اضافی طور پر جہاں جہاد کی تربیت بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس طرح اپنی عاقبت بھی سنواری جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں زعما ئے حکومت نے جہاں جہاں سے گزرنا ہوتا ہے وہاں چمکدار اور کُھلی سڑکوں کی زیارت کر کے بھی آنکھیں روشن اور ایمان تازہ کیا جا سکتا ہے جبکہ رائیونڈ محلات کا بھی دور سے مفت نظارہ کر سکتے ہیں‘ اور جس پر ابھی تک کوئی ٹکٹ نہیں لگایا گیا‘اور ‘چونکہ تقریباً ساری پولیس ان اکابرین کی سکیورٹی پر مامور ہوتی ہے‘ اس لیے اپنے جان و مال کی حفاظت بھی خود کرنے کرنے موقع ملتا ہے چنانچہ ع
جو آئے‘ آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں 
المشتہر:حکومت پنجاب عفی عنہ
گرمیوں کی دوپہر تھی
گرمیوں کی دوپہر تھی...جب فلک سے...ابر کا تُرشا ہوا ٹکڑا کوئی...نیند کی آسودگی کو چیر کر... ریڑھ کی ہڈی میں آ کر دھنس گیا...حادثے کے درد سے ...بیدار کچھ ایسا ہوا... ان گنت صدیوں سے میں سویا نہیں... اب تھکے اعصاب کی تکلیف کا شہکار ہوں...نیند کی آسودگی کا آرزو بردار ہوں!!
گاہے گاہے
جُدا جُدا ناموں میں بٹی ہیں...وہ دُنیائیں... جن کی حقیقت... ایک حساب سے گھٹتی بڑھتی زندگی کا محور تھی...جانے کس پل...سارے سورج...راتوں کی سیاّل کشش میں ڈوب گئے تھے...گردش کرتی اس دوری کے مرکز میں جو پھیلا بھنور تھا...وہیں کہیں چکرا کے گرے تھے سارے زمانے...جن کے کچھ ایاّم ابھی تک تیر رہے ہیں پانی میں...پانی‘جس کی رواں موجوں کی ٹھنڈک ہے سب چہروں پر... پانی‘ جس میں تیرا میرا سب کا روپ نہاں ہے... پانی‘ جس کی فیض رساں تقسیم ابد کی منزل ہے... پانی‘جس کی معطر چھایا پہناوا اس دُنیا کا ہے...کیسی کیسی باتوں سے... اور کتنے ہی بے جسم حوالوں کے حربوں سے... تمہیں بتانا چاہا میں نے... کتنے خزانے چھپے ہوئے ہیں...اس پانی کی گہرائی میں!...تھکی ہوئی اس رعنائی میں...کتنی صحبتیں‘ کتنی شامیں سوئی پڑی ہیں‘ پھیل رہی ہیں...گاہے گاہے اِن بھیدوں کے پچھواڑے میں...زنجیروں میں جکڑے ہوئے اجسام رہائی پا جاتے ہیں... گاہے گاہے ...اپنے آپ کو بُھولنے والے...سارے زمانے یکجا ہو کر...گردش کرتی اس دُوری میں...ہم سے ملنے آ جاتے ہیں!!
آج کا مطلع
یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر بھی خوش نہیں
دادِ ستم نہ دے کہ ستمگر بھی خوش نہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved