تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     14-01-2014

’’ ایک اور دنیا‘‘ اقتدار جاوید کی نظموں کا نیا مجموعہ

میں صرف اور صرف غزل گو ہونے کے باوجود نئی نظم کا نہ صرف حامی بلکہ قاری بھی ہوں لیکن میرے خیال میں نظم کو ابھی بہت کچھ کر کے دکھانا ہے۔ ظاہر ہے کہ نظم سے میری مراد آزاد اور نثری نظم ہے کیونکہ پابند نظم قصہ ماضی ہو کر رہ گئی ہے اور اگر کہیں اکا دکا نظر آتی بھی ہے تو اسے نظر انداز ہی کرنا پڑتا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ وہ اپنی میعاد پوری کر چکی ہے اور دوسری یعنی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ آزاد اور نثری نظم نے قاری کے منہ کا ذائقہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جس کی کوئی خاص وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ 
نظم کا میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بالعموم قاری کو اپنے ساتھ لے کر نہیں چلتی اور اسے ایک بیگار سمجھ کر پڑھنا پڑتا ہے اور یہ اکثر بے کیف، بے تاثیر اور ڈل ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ مغربی زبانوں میں جو نظمیں تخلیق کی جا رہی ہیں ،زیادہ تر کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہوتا اور یہ واقعتاً لطف سخن سے عاری ہوتی ہیں اور شاید یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ نظم کو زیادہ سے زیادہ قابل مطالعہ ہونا چاہیے اور قاری کی اس میں دلچسپی ایک ثانوی چیز ہے لیکن ظاہر ہے کہ قاری نظم محض وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں پڑھتا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ نظم سے بھی غزل کی طرح لطف اندوز ہونا چاہیے جیسا کہ ممکن ہی نہیں ہے لیکن کم از کم اتنا تو ہو کہ نظم کو آپ پڑھنا شروع کردیں تو اسے جاری بھی رکھنا چاہیں، نہ کہ بیزار ہونا شروع کردیں۔ نظم ہو یا غزل ،قاری اس سے متاثر ہونے کی شرط کے ساتھ نہیں پڑھتا بلکہ شاعری خود آپ کو متاثر کرے اور ایسا محسوس نہ ہو کہ آپ ایک بے آب و گیاہ بیابان میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس لیے اوپر عرض کیا گیا ہے کہ ہمارا قاری اصلاً غزل اورینٹڈ ہے ،نظم کو اسے متاثر کرنے اور اس کے رگ و پے میں در آنے کے لیے ابھی کچھ وقت درکار ہو گا۔ بہر حال یہ میری ذاتی رائے ہے کہ میں ایسا ہی محسوس کرتا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ اصل صورت حال یہ نہ ہو اور مجھے اس کی بھی ہر گز توقع نہیں ہے کہ نظم گو شعراء اس کے ساتھ اتفاق بھی کریں گے۔
میں نظم کا مخالف ہوتا تو مجھے عذرا عباس، افضال احمد سید ، ابرار احمد ، اختر عثمان اور اقتدار جاوید وغیرہ کی نظمیں اتنی پسند نہ ہوتیں۔ میں نے ایک بار ابرار احمد سے کہا تھا کہ آپ اتنی عمدہ نظم کہہ لیتے ہیں تو آپ کو غزل لکھنے کی کیا ضرورت ہے ، جس پر انہوں نے بُرا منایا تھا۔ یہی بات میں اقتدار جاوید سے بھی کہنا چاہتا ہوں کیونکہ اس تازہ ترین مجموعہ نظم '' ایک اور دنیا‘‘ میں مجھے واقعی ایک اور دنیا کی سیر کرنے کا موقع ملا ہے۔
اقتدار جاوید کی شاید اصل چالاکی یہ بھی ہے کہ وہ آزاد نظم میں بھی قافیہ آرائی کا اہتمام کرتا ہے اور اس طرح اس میں ایک ایسی نغمگی بھر دیتا ہے کہ اسے غزل سے بہت قریب کردیتا ہے ۔اس شاعر کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس کی نظم شروع کر کے آپ اسے ختم کیے بغیر کچھ اور کر یا سوچ نہیں سکتے جبکہ یہ آپ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لیے رکھتا ہے، پنجابی میں جسے جپھا مارنا بھی کہتے ہیں، بلکہ جٹ جپھا اس کے لیے زیادہ مناسب ترکیب ہے۔ اس کی نظم صحیح معنوں میں آپ کو ان دیکھی دنیائوں کی سیر کراتی ہے۔ ہمارے دوست عامر سہیل کی طرح اقتدار جاوید بھی نظموں سے لبالب بھرا ہوا شاعر ہے ،گویا نظم تو ان کی جیب میں ہوتی ہے ۔یہ دونوں بس اسے باہر نکالنے کا کام کرتے ہیں! جبکہ ان کی نظموں میں اتنی پُر گوئی کے باوجود تکرار کا احساس بھی کہیں نہیں ہوتا اور یہ نظمیں اپنی تازگی کے ساتھ قاری کو بھی تازہ دم رکھتی ہیں۔
اس مجموعے کا نہایت خوبصورت دیباچہ بھی روایتی کم اور قابل مطالعہ زیادہ ہے ،حالانکہ دیباچہ بالعموم ایک رسمی کار گزاری سی ہی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں اس کی نظموں پر بھی بات کر چکا ہوں اور ابرار احمد کی طرح اس کی شاعری اور تنقید دونوں کی تازگی متاثر بھی کرتی ہے اور حیران بھی۔ یہ خوبصورت مجموعہ کلاسیک لاہور نے چھاپا ہے اور اس کی قیمت 500 روپے رکھی گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کے چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر کتابیں زیرِ اشاعت ہیں۔ اب اس کی دو نظمیں دیکھیے۔
جومرا خواب ہے
جو مرا خواب ہے...ایک چشمے سے لایا ہوا...کاسہ آب ہے ...جو مرا خواب ہے...کتنا نایاب ہے...دن کو بیکار پھرتا ہوں...میں خود میں گرتا ہوں...جب رات آتی ہے ...شمعیں جلاتی ہے ...دھاگے اٹھاتا ہوں...گولے بناتا ہوں ...تکلے کا خم ٹھیک کرتا ہوں...چرخہ گھماتا ہوں...ماں میری روتی ہے...اور خواب بنتی ہے ...میرے لیے پھول چننا...مری ماں کا آنکھیں بھگوتا ہوا...اولیں خواب ہے...جو مرا خواب ہے...اک کناروں سے باہر اچھلتا ہوا...گہرا تالاب ہے...گہرے تالاب میں ...اک گھنا پیڑ ہے...جس کا گہرا گھنا سایہ...راتوں کو کچھ اور تاریک کرتا ہے...تصدیق کرتا ہے...پردے اٹھاتا ہے...مجھ کو بتاتا ہے...پتوں کے نیچے ...دمکتا ہوا ایک مہتاب ہے...جو مرا خواب ہے ...جو مرا خواب ہے...شہر احباب ہے ...جس کی مصروف سڑکوں کے پیچھے...چمکدار گلیاں ہیں...نورنگ پانی میں ڈوبی ہوئی گویا کلیاں ہیں...گلیوں میں کلیوں سے...احباب بستے ہیں...خوابوں میں ہنستے ہیں...اودھم مچاتے ہیں...اودھم مچاتے ہوئے جان جاتے ہیں...یہ شہر احباب ہے...باطن میں بے تاب ہے...جو مرا خواب ہے...راج گیروں کی ٹولی ہے...جو صبح کے وقت ...گھر سے نکلتی ہے...نیلے فلک پر پری کوئی چلتی ہے...کیسے سے نقشے نکلتے ہیں...رنگین مکانوں میں ڈھلتے ہیں...دیواریں اٹھتی ہیں...دیواروں کے بیچ کھڑکی نکلتی ہے...کھڑکی میں بالوں کو جھٹکاتی لڑکی ہے ...سینے کے اندر کوئی چیز اڑتی ہے...تپتی دوپہریں ہیں...تپتی دوپہروں میں...یہ آگ بھڑکی ہے...گرجا گھروں کے ...خموشی میں ڈوبے احاطے ہیں...ڈوبے احاطوں میں آگے...فلک بوس مینار ہیں...قہقہوں کی صدائیں ہیں...بھاری تغارے اٹھاتے ہوئے...نوجوانوں کی ٹولی ہے...باتیں ہیں...باتوں میں خوش رنگ محراب ہے ...جو مرا خواب ہے...ایک دریا ہے روشن ستاروں بھرا...کشتیوں والا دریا...ابد زار کی سمت بڑھتا ...کناروں سے باہرابلتا...علاقوں کو لقموں کی صورت نگلتا...اٹھا تاہوا ایک طوفان...قلعے کے نزدیک...صدیوں سے بہتا ہوا ایک دریا...اسی بہتے دریا کو گھیرے میں لیتا ہوا...ایک گرداب ہے ...جو مرا خواب ہے...جو مرا خواب ہے ...ان کتابوں میں مذکور ہے...جن کے کاتب زمانہ میں ناپید ہیں...جن کا مفہوم دنیا پہ روشن نہیں...وہ کتابیں جو اب چھاپہ خانوں میں چھپتی نہیں...جن کی فرہنگیں نابود ہیں...ان کتابوں کی وقعت بڑھا تاہوا آخری باب ہے...جو مرا خواب ہے۔
تم وہی صبح ہو
تم وہ رنگوں بھری صبح ہو ...آخر کار جس نے...رو پہلے افق سے نمودار ہونا ہے...یوں روشنی پھیلنی ہے...کہیںراستہ ملنا دشوار ہونا ہے...تازہ کئی رنگ ہونے ہیں...رنگوں کا انبار ہونا ہے ...اٹھتی ہے اندر کوئی آگ ...سانسوں سے بیزار ہونا ہے ...پانچوں حسوں نے ہے اڑنا ...چھٹی نے نہ بیدار ہونا ہے...ہونے ہیں دُونے نمکیات...مغلائی کھانا مزیدار ہونا ہے...ہوتی نہیں بات کوئی...زمانہ پراسرار ہونا ہے ...گھرنا ہے منجدھار کے بیچ ...دریا کہاں پار ہونا ہے ...آنکھوں نے جنبش نہیں کرنی...آنکھوں نے تکنے سے لاچار ہونا ہے...آخر نکلنا ہے پہلی طلسماتی دنیا سے...اور آخر ی میں گرفتار ہونا ہے...رنگوں کی رنگت ہے اڑ جانی...رنگوں نے بیکار ہونا ہے...کھلا ہی نہیں ہے کسی پر...کہ رد کس کو کرنا ہے...کس سے سروکار ہونا ہے۔
آج کا مقطع
آسماں پھیلے ہوئے دام کی صورت ہے ظفر
عکس اڑتے ہیں، پگھلتی ہوئی پہنائی میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved