تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     09-02-2014

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

برسوں تک کبھی امید اور کبھی ناامیدی سے دوچار رہنے کے بعد پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ آخر کار اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے‘ یعنی اسے ملتوی کرنے کیلئے پاکستان نے ایران سے باضابطہ درخواست کردی ہے۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ 2,775 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کے جس حصے کی تعمیر پاکستان کی ذمہ داری تھی وہ اس کو تعمیر نہیں کرسکتا کیونکہ خزانہ خالی ہے۔ ابتدا میں چین اور روس نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اس کیلئے پاکستان کی مالی معاونت پر آمادگی کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں دونوں نے اپنی پیشکش واپس لے لی۔ وجہ اس کی امریکہ کی طرف سے مخالفت اور اقوام متحدہ کی عائد شدہ اقتصادی پابندیاں بتائی جاتی ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایران نے اپنے علاقے سے گزرنے والی پائپ لائن کی تعمیر مکمل کرلی ہے اور وہ اس منصوبے پر دو ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ ایران نے پاکستان کو بھی اس کے حصے کی پائپ لائن کی تعمیر کیلئے 500 ملین ڈالر امداد کی پیشکش کی تھی لیکن پاکستان کی خواہش تھی کہ اس کی مالی دشواریوں کے پیش نظر ایران پاکستانی حصے کی پائپ لائن کی تعمیر کے تمام اخراجات ادا کرے جس پر ایران نے معذرت کرتے ہوئے 500 ملین ڈالر کی پیشکش بھی واپس لے لی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو اپنے حصہ کی پائپ لائن تعمیر کرنے کیلئے دو سے تین ارب ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے۔
اگرچہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو موخر کرنے کیلئے پاکستان نے فنڈز کی عدم دستیابی اور مغربی ملکوں کی طرف سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کی دلیل پیش کی ہے لیکن حکومت پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے باضابطہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب پاکستان اور ایک عرب ملک کے درمیان حالیہ دنوں میں قریبی رابطے قائم ہوئے ہیں۔ ان رابطوں میں اسی عرب ملک کے وزیر خارجہ اور ان کے بعد نائب وزیردفاع کا دورہ پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکہ کی طرح یہ ملک بھی پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا مخالف ہے اور اس کی وجہ اس ملک کا یہ خدشہ ہے کہ اس کے ذریعے مغربی ایشیائی خطے میں ایران کو اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں مدد ملے گی۔ عراق، شام اور لبنان کے علاقے میںایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر اس ملک کو پہلے ہی خاصی تشویش ہے اور اس کی روک تھام کیلئے وہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی امداد کر رہا ہے‘ حالانکہ صدربشار الاسد کے خلاف لڑنے والی باغی فوجیں دن بدن القاعدہ کے زیراثر جا رہی ہیں۔ پاکستان نے اسلامی ملکوں خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے درمیان لڑائی یا جھگڑوں میں کبھی ایک کے ساتھ مل کر دوسرے کی مخالفت نہیں کی۔ لیکن 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کی طرف سے ایران مخالف پالیسیوں اور اقدامات سے پاکستان ایران تعلقات یقینا متاثر ہوئے ہیں۔ کیونکہ اسی دوران جنرل ضیاء الحق کے طویل دور میں اور اس کے بعد بھی پاکستان کے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہت قریبی رہے ہیں۔
چین اور ایران پاکستان کے دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کے بارے میں بلاخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت برسراقتدار آئے‘ ان دونوں ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات متاثر نہیں ہوسکتے‘ اس لئے کہ جہاںچین اور پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں وہاں ایران اور پاکستان کے باہمی ثقافتی اور تاریخی تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ کوئی اندرونی اور بیرونی طاقت ان دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی اور ہمدردی کے جذبات پر مبنی تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس کے باوجود بعض عناصر ان تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں جنرل ضیاء الحق کی حکومت رہی‘ جس کی یک طرفہ اور کوتاہ بینی پر مبنی افغان پالیسی نے پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے سے دور کردیا تھا۔ اگرچہ اب پاکستان میں ایک منتخب جمہوری اور عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہے لیکن پالیسی سازی کے سلسلے میں اب بھی ایسے عناصر چھائے محسوس ہوتے ہیں جو ایران کے ساتھ تعلقات کو طویل المیعاد قومی مفاد کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اور علاقائی مسابقت کے فریم ورک میں دیکھتے ہیں۔ اس قسم کی پالیسی سے حکومت کو چند فوری مالی فوائد یا رعایات تو حاصل ہوسکتی ہیں لیکن اس سے وسیع تر قومی مفادات مجروح ہوں گے۔ 
حکومت کی طرف سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مؤخر کرنے کے حق میں جو جواز پیش کیا گیا ہے‘ پاکستانی معیشت کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت اور امریکہ کی طرف سے اس منصوبے کی برابر مخالفت کے پیش نظر‘ وہ قابل فہم ہے لیکن حکومت کی آنکھ سے یہ حقیقت بھی اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ کے بعد ایران اور مغربی ممالک بشمول امریکہ کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ متعدد یورپی کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارتی اور کاروباری تعلقات کو بحال کرنے کے لیے پرتول رہی ہیں اور ان میں سے کئی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز تہران کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ اس منصوبے کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت بھارت کی طرف سے دوبارہ اس منصوبے میں شمولیت کا اعلان بھی ہے۔ آج سے چند برس پہلے جب اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا تو اس میں بھارت بھی شامل تھا لیکن بعد میں پاک بھارت کشیدگی اور بھارت کی طرف سے سکیورٹی خدشات کی بنا پر بھارت نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی تھی لیکن اصل وجہ امریکی دبائو ہی تھا۔ بھارت 2006ء کی سول نیوکلیئر ڈیل کی خاطر یہ دبائو قبول نہ کر سکا۔ اب جبکہ بھارت کی طرف سے دوبارہ شمولیت کا عندیہ دیا گیا ہے تو پاکستان کو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے تھا کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف منصوبے کی مالی افادیت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ پاکستان کے لیے زیادہ منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کی گیس جب بھارت کے لیے پاکستان کی سرزمین 
سے گزرے گی تو یہ پاکستان کے لیے بطور ٹرانزٹ فیس ایک خطیر رقم کے حصول کا ذریعہ بنے گی۔ اس منصوبے کے آغاز پر پاکستان کے لیے جن فوائد کا ذکر کیا جاتا تھا ان میں گیس کی فراہمی کے علاوہ ٹرانزٹ فیس کا حصول بھی شامل تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس گیس پائپ لائن منصوبے سے سینکڑوں ملین ڈالر سالانہ بطور ٹرانزٹ فیس پاکستان کے حصے میں آ سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ رقم پاکستان ''ٹاپی‘‘ (TAPI) یعنی ترکمانستان‘ افغانستان اور پاکستان انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے پر رائیلٹی سے حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان صرف جنوبی ایشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ چین وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لیے بھی توانائی اور تجارت کی غرض سے راہداری کی سہولیات فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے عوض اسے ہر سال فارن ایکسچینج (Foreign Exchange) میں ایک خطیر رقم حاصل ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جن کی معیشت تیل اور گیس کی پائپ لائنوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر چل رہی ہے۔ خود ہمارے خطے میں جب بھارت نے بنگلہ دیش سے شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ٹرانزٹ سہولتوں کی درخواست کی تھی تو بنگلہ دیش کے اقتصادی ماہرین نے اس کی بھرپور حمایت کی۔ ان کا موقف یہ تھا کہ اگر بنگلہ دیش ترقی کی 8 سے 9 فیصد سالانہ شرح حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ ٹرانزٹ سہولتیں دینا پڑیں گی۔ 
اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاک ایران گیس پائپ لائن پاکستان کے لیے ہر لحاظ سے ایک سُودمند منصوبہ ہے‘ جسے ترک نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس کے صرف معاشی پہلو نہیں بلکہ یہ منصوبہ جیسا کہ ایران کے ایک سابق صدر نے کہا تھا‘ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved