تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     20-02-2014

سرخیاں‘ متن اور ماہنامہ ’’ارژنگ‘‘

مضرِ صحت گوشت فروخت کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں... شہباز شریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''مضر صحت گوشت فروخت کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں‘‘ اس لیے پہلے ان کی رعایتیں ختم کی جائیں گی کیونکہ سزا دینے کے لیے تو قانون بنانا پڑے گا جس کا موجودہ حالات میں امکان نہ ہونے کے برابر ہے اور جس انداز میں دہشت گردوں نے حکومت کا پوچھل اٹھوا رکھا ہے‘ حکومت قانون سازی پر کیا توجہ دے سکتی ہے‘ اس لیے جہاں لوگوں کو چاہیے کہ مچھلی اور چکن پرگزارا کریں وہاں قصاب حضرات گوشت میں جو پانی ملا کر فروخت کرتے ہیں‘ اسی کو کافی سمجھیں حالانکہ اس سے پانی کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے‘ اور اس پانی میں چونکہ گٹر کا پانی بھی شامل ہوتا ہے‘ اس لیے خراب گوشت کے ساتھ مل کر یہ مزید غیر مفید ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''حرام جانوروں کا گوشت بیچنے والوں کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے جائیں گے‘‘ اگرچہ بعد میں ان کی ضمانت بھی ہو جاتی ہے لیکن ایک دفعہ تو انہیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہو ہی جاتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ 
طالبان سے مذاکرات کا اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا... بلاول بھٹو زرداری 
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''طالبان سے مذاکرات کا اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا‘‘ کیونکہ مجھے جو تازہ بیان لکھ کر دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت بہانے بازی سے بھی کام لے رہی ہے حالانکہ ہم نے اپنے گزشتہ عہد میں کسی کام میں لیت و لعل سے کام نہیں لیا اور عوام کی خدمت ڈنکے کی چوٹ پر کرتے رہے‘ اگرچہ یہ چوٹ اس قدر زور دار تھی کہ بیچارہ ڈنکا ہی پھٹ کر رہ گیا تھا‘ لیکن جملہ بزرگوں نے پھر بھی اپنا کام جاری رکھا اور کسی تنقید وغیرہ کو خاطر میں نہیں لائے کیونکہ ایسا موقع زندگی میں بار بار نہیں ملتا اور اگلی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے جو پورے پانچ سال کے بعد آتی ہے اور تب تک پچھلی جمع پونجی ختم ہو چکی ہوتی ہے‘ اسی لیے اس مختصر عرصے میں زیادہ سے زیادہ خدمت بروئے کار لانا پڑتی ہے کیونکہ یہ ملک بنا ہی ایسی خدمت گزاری کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''مٹھی بھر دہشت گرد پاکستان کو دہشت گردوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں‘‘ اور ہمارے لیے کچھ بھی چھوڑنا نہیں چاہتے جس سے ان کے لالچ کا صاف اندازہ ہو جاتا ہے۔ آپ اگلے روز حسبِ عادت ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کر رہے تھے۔ 
سندھ حکومت زرداری خاندان 
چلا رہا ہے... ممتاز بھٹو 
تاحال مسلم لیگ (ن) کے رہنما ممتاز علی بھٹو نے کہا ہے کہ ''سندھ حکومت زرداری خاندان چلا رہا ہے‘‘ حالانکہ کئی جدی پشتی خاندان اور بھی موجود اور اپنی باری کے منتظر ہیں کیونکہ اگر ملک کو خاندانوں نے ہی چلانا ہے تو باری باری سب کو موقع ملنا چاہیے جبکہ میری خدمات کو سراسر نظرانداز کیا جا رہا ہے حالانکہ عشرت العباد تو گورنری کا ریکارڈ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں اور انہیں دوسروں کا بھی کچھ خیال کرنا چاہیے کیونکہ وہ یہاں تربوز بیچنے کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے اور اب تو تربوز بیچ بیچ کر ویسے ہی ان کی حالت غیر ہو چکی ہے اور پڑے پڑے (ن) لیگ کو بددعائیں دے رہے ہیں جسے وعدہ خلافی کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں آتا اور صرف ایک کام آتا ہے جسے وہ برسوں سے کرتے چلے جا رہے ہیں حالانکہ یہی کام سابقہ حکومت نے بھی کیا تھا اور وہ کچھ اتنی کاریگری نہیں دکھا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ''وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سوتے رہتے ہیں‘‘ حالانکہ اس عمر میں تو نیند ویسے ہی نہیں آتی اور خواب آور گولیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں اور خطرہ ہے کہ وہ بہت جلد عمر کی میعاد پوری کرنے کے بعد جُون بدل کر کہیں کوئی سانپ وغیرہ ہی نہ بن جائیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں آن دی فرنٹ پر بات کر رہے تھے۔ 
لگتا ہے طالبان حکومت کو کمزور کر کے بات چیت کرنا چاہتے ہیں... خورشید شاہ 
قائدِ حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ''لگتا ہے طالبان حکومت کو کمزور کر کے بات چیت کرنا چاہتے ہیں‘‘ جو کہ پہلے ہی بہت کمزور اور لاغر و لاچار ہو چکی تھی کہ طالبان کو کسی نے بتایا ہی نہیں اور وہ اسے مزید کمزور دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ہماری مضبوط حکومت پر بھی انہیں کچھ توجہ دینی چاہیے تھی لیکن شکر ہے کہ انہوں نے ہمارے ٹھوٹھے پر ڈانگ مارنے کی کوشش نہیں کی اور بات چیت کے بغیر ہی اپنے کام میں لگے رہے کیونکہ پوری تندہی سے ہم اپنے کام میں لگے ہوئے تھے اور صرف قائداعظم کی ہدایت پر عمل پیرا تھے کہ کام‘ کام اور صرف کام‘ حتیٰ کہ کام بھی آخر کانوں کو ہاتھ لگا گیا تھا اور جملہ زعمائے کرام نے اس کا ناطقہ ہی بند کر کے چھوڑا تھا جسے کھلوانے کی اب تک ناکام کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ''امریکہ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرے‘‘ اور چونکہ مذاکرات کا مذاق تو تقریباً ختم ہی ہو چکا ہے اس لیے وہ اپنا شغل حسبِ سابق جاری رکھ سکتا ہے کیونکہ ان سے دہشت گردی سے تو کم ہی تباہی مچتی ہے۔ آپ اگلے روز سکھر میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ 
ارژنگ 
ماہنامہ ''ارژنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں عطاء الحق قاسمی کا ''ڈاکٹر اللہ رکھا مرحوم‘‘ ایک یادگار مزاح پارہ ہے۔ اس میں سے کچھ منتخب اشعار: 
اُس پار وہ مجبور ہے‘ بے چین اِدھر ہم 
دونوں کا ہے اک ٹوٹے ہوئے پُل پہ گزارہ 
یہ شہر گزر گاہِ گزارہ ہے سو ہم لوگ 
کرتے ہیں ترے طرزِ تغافل پہ گزارہ 
مجرم کو بھی استثنیٰ کی چھوٹ وغیرہ ہم نے دی 
چھوڑ دیا دشمن کو ہم نے پار وغیرہ کروا کر 
اب کہتے ہو عشق‘ محبت‘ پیار وغیرہ ٹھیک نہیں 
پہلے ہم سے اچھا خاصا پیار وغیرہ کروا کر 
نہ بیٹھیں گے آرام سے ہم کبھی 
تجھے آسماں سے اتارے بغیر 
(رستم نامی) 
اور بڑھ جائے گی تنہائی تجھے کیا معلوم 
ایسی تنہائی میں دیوار کی جانب مت دیکھ 
آگے نکلا ہے تو پھر آگے نکلتا چلا جا 
پیچھے ہٹتے ہوئے سالار کی جانب مت دیکھ 
ابھی تو کوئی بھی نام و نشاں نہیں اُس کا 
ہمیں جو موج کنارے لگانے والی ہے 
ہر ایک شخص کا یہ حال ہے کہ جیسے یہاں 
زمین آخری چکر لگانے والی ہے 
(اظہر عباس) 
یہ پرچہ لاہور سے عامر بن علی اور حسن عباسی نکالتے ہیں جس کی قیمت 60 روپے ہے۔ 
آج کا مقطع 
رکاوٹوں میں بھی کیسا جھلک رہا تھا‘ ظفرؔ 
وہ رنج سا جو کسی کی قبا کے نیچے ہے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved